معاشرہ کیا سوچ رہا ہے

نیشنل پریس کلب کے صدر انور رضا اور سیکرٹری خلیل راجہ کی جانب سے ایک دعوت نامہ ملا کہ 14 اپریل کی شام افطاری کے بعد صحافی خواتین اور مرد صحافیوں کی بیٹیوں کے مابین ایک کرکٹ میچ ہو رہا ہے آپ اس میں بطورِ مہمان خصوصی شریک ہوں تاکہ ہماری بیٹیوں کی حوصلہ افزائی ہو سکے۔ میں حسبِ وعدہ پنڈال میں داخل ہوا تو میرے ساتھ نامور اینکر عظمیٰ چوہدری بھی تھیں ۔ نیشنل پریس کلب کے عہدے داروں نے ہمیں خوش آمدید کہا یہیں ہماری ملاقات صحافیوں کے قائد افضل بٹ سے ہوئی ۔ یہیں پہ وزیراعظم کے مشیر فیصل کریم کنڈی، ندیم افضل چن ، پی اے سی کے چیئرمین نور عالم خان، نصیب اللہ چشتی سمیت کئی غیر ملکی سفیروں سے ملاقات ہوئی۔ محمد مالک، عادل عباسی اور علی فرقان سمیت کئی نامور اینکرز یہاں موجود تھے۔ تعارفی لمحات کے بعد نیشنل پریس کلب کی عہدیدار نیئر علی ہمیں کمنٹری باکس کی طرف لے گئیں جہاں علی رضا علوی نے الگ میلہ سجا رکھا تھا۔ پاکستان میں کوئی بھی تقریب ہو وہاں ملکی حالات زیر بحث آ ہی جاتے ہیں ۔ آج کل سیاسی حالات کے ساتھ ساتھ معاشی اور معاشرتی حالات بھی زیر بحث آ جاتے ہیں کیونکہ معاشرے میں بسنے والے افراد معاشی حالات کے ہاتھوں سخت پریشان ہیں۔ مہنگائی لوگوں کی جان نہیں چھوڑ رہی ایسے پریشان کن حالات میں نیشنل پریس کلب کی طرف سے ایک مثبت تقریب کروا جانا کسی غنیمت سے کم نہیں ۔ اس کے لئے نیشنل پریس کلب کے تمام عہدیدار مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے دکھوں سے بھرے معاشرے میں پھولوں کی سی تقریب سجائی۔
اسلام آباد میں دکھوں کی کئی کہانیاں سن کر یہ سفر نصیب لاہور پہنچا کہ جہاں 15 اپریل کو ملک کے نامور وکلاء چوہدری اعتزاز احسن، سردار لطیف کھوسہ اور خواجہ احمد طارق رحیم نے آئین کی بالادستی کے تقدس کے لئے ایک گول میز کانفرنس کا انعقاد کر رکھا تھا۔ نوابزادہ نصراللہ خان کے عہد میں بہت سرگرم نظر آنے والے منیر احمد خان یہاں بھی خاصے سرگرم تھے جبکہ شائستہ کھوسہ ،خرم کھوسہ اور نواب طاہر خلیق سمیت چند وکلاء معاونت میں بڑے متحرک نظر آ رہے تھے۔ یہ واقعتاً ایک گول میز کانفرنس تھی جس میں ملک بھر کے پچاس نامور وکلاء اور دانشوروں کو مدعو کیا گیا تھا۔ اگرچہ اس کانفرنس میں سپریم کورٹ بار کے صدر عابد زبیری، حامد خان، شبر رضا رضوی، ربیعہ باجوہ، اظہر صدیق اور آفتاب باجوہ سمیت کئی وکلاء نے بڑی جاندار تقریریں کیں مگر حسبِ سابق چوہدری اعتزاز احسن کی تقریر نا صرف جاندار تھی بلکہ یادگار بھی تھی۔ پاکستان کی پارلیمانی اور عوامی سیاست کے بڑے کردار ، نامور وکیل اعتزاز احسن کہنے لگے کہ ملک کے اہم ترین ادارے اس وقت باہم دست و گریباں ہیں ۔ ہر طرف کھچاؤ کی کیفیت ہے۔ عدلیہ میں اس وقت دراڑیں اس حد تک پڑ چکی ہیں کہ اس ادارے کا اب یکجا ہو کر کام کرنا نا ممکن ہو گیا ہے۔ صورتحال اس قدر گھمبیر ہے کہ آپ کسی کیس کے فیصلہ کے لئے تشکیل دیے جانے والے بینچ کو دیکھ کر بتا سکتے ہیں کہ فیصلہ کس فریق کے حق میں ہوگا۔ معاشرے میں انتشار اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ سیاسی جماعتیں ایک دوسرےسے دست و گریباں ہیں۔ پارلیمان اور عدلیہ کے درمیان تاریخی جنگ شروع ہو چکی ہے۔ عدلیہ کی جانب سے قانون کی تشریح پر پارلیمان میں اس کے خلاف قانون سازیاں کی جا رہی ہیں ۔ سیاسی امور کو پارلیمان کی بجائے عدالتوں میں داخل کیا جا رہا ہے جبکہ عدالتی امور کو پارلیمان اور انتظامیہ میں داخل کیا جا رہا ہے۔ حالت ہماری یہ ہے کہ ہم نے اتنا کھا پی لیا ہے کہ ہماری اگلی چار نسلیں قرضہ اتارتی رہیں گی۔ ہم اپنی آنے والی چار نسلوں کی کمائی کھا چکے ہیں۔ چینیوں کے پاس جب پیسے نہیں تھے تو وہ بنا دودھ اور پتی کے ابلا ہوا پانی پی کر گزارا کرتے تھے مگر ہم نے اس قدر عیاشیاں کی ہیں کہ ہماری آنے والی چار نسلیں قرضوں کے بوجھ تلے دب گئی ہیں۔ اس وقت اہم ترین ایشو پنجاب اور خیبر پختون خوا کا الیکشن ہے جس پر سپریم کورٹ کے واضح احکامات ہیں اور ان احکامات پر عمل درآمد ہوگا۔ آئین کا تقاضا ہے کہ 90 دن میں الیکشن ہر صورت میں ہونا چاہئیں۔ ہمارے آئین اور ہماری آئینی سوچ کا یہ کوئی کرشمہ ہے کہ سپریم کورٹ نے جو فیصلہ لکھ دیا ہے وہ حتمی فیصلہ ہو گا ۔ عدلیہ کے پاس سوفٹ پاور ہوتی ہے اس کو بندوقوں اور توپوں کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ اگر چیف جسٹس نے لکھ دیا ہے کہ الیکشن 14 مئی کو ہوں گے تو الیکشن 14 مئی کو ہی ہوں گے ۔قصہ مختصر یہ ہے کہ اس گول میز کانفرنس کا حتمی نتیجہ یہی ہے کہ وکلا آئین کے تحفظ کے لئے سپریم کورٹ کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ وکلا چیف جسٹس آف پاکستان کے ساتھ نظر آئیں گے،یہاں یہ بات بھی ہوئی کہ ہم پہلے وکیل ہیں بعد میں کسی سیاسی پارٹی کا حصہ ہیں –
اس سے اگلے روز وزیراعظم کے سابق مشیر مخدوم طارق محمودالحسن کے ہاں دعوتِ افطار پر میاں حبیب اللہ ، فرخ شہباز وڑائچ، تنزیلہ عمران، کومل سلیم، انجم حمید، سید یاسر عباس اور مبین سلطان کی موجودگی میں سیر حاصل گفتگو ہوئی جبکہ اس سے اگلے روز چئیرمین پی ٹی آئی کے تاجروں کے لئے فوکل پرسن ناصر سلمان کے افطار ڈنر پر کئی سیاست دانوں، صحافیوں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے ملاقات ہوئی۔ سب ہی حالات کے ہاتھوں پریشان دکھائی دئیے۔ معاشرے کی مجموعی سوچ انتشار کی جانب بڑھ رہی ہے۔ جن سیاستدانوں کے چہرے رہ گئے تھے وہ بھی بے نقاب ہورہے ہیں ،اس وقت آزاد کشمیر میں خریدوفروخت کا دھندہ جاری ہے،اس کے بعد وزیراعلیٰ گلگت بلتستان اور چئیرمین سینٹ کا نمبر ہے،ضمیر فروشی عروج پر ہے-ایسے عجیب حالات کئی قوموں پر آئے مگر یاد رکھیے رات کی سیاہی ہی میں جگنو نظر آتے ہیں اور تاریک راستوں ہی سے روشنی کی کرنیں برآمد ہوتی ہیں ۔ بقول داغ دہلوی
رہرو راہ محبت کا خدا حافظ ہے
اس میں دو چار بہت سخت مقام آتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں