پی ٹی آئی پر پابندی کا مطالبہ غلط ہے!

ہنگامہ ہے کیوں برپا یہ کون نہیں جانتا ؟ کون نہیں جانتا ججوں، جرنیلوں اور چڑھتے سورج کی پوجا کرنے والا ایک ٹرائیکا وطن عزیز کے ہر اُس گراؤنڈ پر کھیلتا ہے جو اسے اقتدار میں حصہ دلوا دے اور یہ اختیارات کی رسی کو جائز و ناجائز طریقے سے تھامے رکھے۔ اگر گلشن کا کاروبار اوکھے سوکھے چل رہا ہے اور جمہوریت کا دیا ان سب آندھیوں میں جل رہا ہے، تو اس کا صاف مطلب یہ ٹھہرا کہ ابھی کچھ جرنیل، ججز اور سیاست دان ایسے ہیں جو جمہوریت کی بقا اور آئین سے وفا کا دم بھرتے ہیں اور ایسے لوگ خزاں میں بہار کا جھونکا ہیں۔ تاریخ گواہ بےنظیربھٹو کو سیکورٹی رسک اور نواز شریف کو ضیاء زادہ کہنے والوںنےمیثاقِ جمہوریت کی خشت اوّل 14مئی 2006 کو رکھی جس کی بدولت آج 14 مئی 2022 تک لولی لنگڑی سہی مگر آمریت سے پاک جمہوریت اپنی راہ پر ہے بھلے ہی راستہ نشیب و فراز والا ہے اور خاردار جھاڑیوں کے بیچوں بیچ ٹیڑھی میڑھی پگڈنڈیاں بھی آجاتی ہیں۔ بہرحال سفر جاری ہے، اور آئندہ بھی روانی ہی ہوگی تاہم اس میں تحریک انصاف کو تھوڑی دیر کیلئے کم عمری کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بالغ نظری کو ملحوظِ خاطر رکھنا ہوگا، سیاسی قیادت کی بالغ نظری ججوں اور جرنیلوںسے کہیں زیادہ ہوتی ہے اسی لئے تو میثاقِ جمہوریت جنم لیتے ہیں۔ کیا کبھی کسی جوڈیشری یا جرنیلی نے کسی ملک کو حقیقی قیام یا اٹھان دی ؟ججوں اور جرنیلوں کے فیصلے تو پارلیمنٹ میں بیٹھ کر سیاسی قیادت کو کرناہوتے ہیں وہ کوئی بھٹو ہو ، شریف یا عمران! مگر افسوس کے اس سیاسی قیادت نے خودی اور پارلیمان ان کے ہاتھوں میں دے دی جنہوں نے کبھی سیاست اور جمہوریت کو پنپنے ہی نہ دیا۔ ارے یہ تو کل بھی عزیز و اقارب کیلئے آپ سے ٹکٹوں کے متلاشی تھے اور آج بھی۔ یہ کل بھی ریٹائر ہوئے تھے اور آج بھی ریٹائر ہو کر سیاسی قیادت کے پیچھے پیچھے ہوں گے:
تو ہی ناداںچند کلیوں پر قناعت کر گیا
ورنہ گلشن میں علاجِ تنگی داماں بھی تھا
سیاسی رہنمائوں سے استدعا ہے کہ اپنی اہمیت، اہلیت اور استطاعت کو خوردبین اور دوربین سے دیکھئے مگر دیکھنے سے قبل تعصب کی عینک اتارناضروری ہے۔ کائنات میں کتنے ججوں اور جرنیلوں کی مسیحائی ، پیش کردہ و منظور کردہ اصلاحات، جمہوریت پسندی یا آئین سازی کا چرچا ہے؟جتنے بھی آمروں نے دربار چھینے یا سجائے ان میں سے کتنے ہیں جن کے دربار پر ذوالفقار علی بھٹوکے مزار سا چراغاں اور دل کی دھڑکنوں کے نذرانے ہیں؟ یہ بات تو اب عمران خان کو بھی سیکھ لینی چاہئے۔ کب تک لاڈلوںکی سی ضروریات کی مخصوص لوگ بغض معاویہ میں آبیاری کرتے رہیں گے ؟ خان صاحب، اب آپ کو کون بتائے کہ آپ وزیراعظم سے بھی بڑے ہو گئے؟چڑھانے والے کب اتارنے والے بن جائیں اور کیسے پتہ چلے آپ کو جناب ؟ اتنی مقبولیت کے باوجود بار بار آپ کو مخصوص سے انصاف کی بھیک مانگنی پڑتی ہے جو آپ کے عوام کو تو انصاف دیتے نہیں!
درج بالا بات ابھی جاری ہے، از راہ کرم، ایک ہلکی پھلکی بات سن لیجئے! کچھ کہیں گے یہ اتنی بڑی بات میں چھوٹی سی بات کہاں گھسیٹ لائے لیکن یہ بات یتیم خانے کی سہی مگر یتیم بھی تو انسان ہیں۔ ان بڑی بڑی عدالتوں میں عوام، تعلیم اور صحت سے انصاف کا وقت تو نہیں نکلتا، جھوٹی سچی تاریخ ڈال بھی دیں تو بات سننے یا سمجھنے کے بجائے ایک ہی کیس کے دس دس وکلاء اور بیس بیس سائلین کو لمحے میں ’’پھر کبھی آئیے گا‘‘ کا کہہ کر بھول جاتے ہیں، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی جو بلاوجہ اور بلاضرورت، تقرری کا عمل ہو جانے کے باوجود کسی ایک کی خواہش کی بدولت بغیر کسی مستقل سربراہ کے چلے اور جلے جا رہی ہے، ایک عنایت کیجئے اقبال کی اقبالیات اتار کر نام محض اوپن یونیورسٹی ہی کر دیجئے!
پچھلے دنوں جو جناح ہاؤس کوئٹہ سے لاہور کور کمانڈر ہاؤس تک ہوا ، کراچی سے راولپنڈی کے حساس مقامات پر ہوا۔ ان حملہ آوروں اور ان کو ورغلانے والوں کی آڈیوز اور وڈیوزشناخت کر لیجئے گا کہ کس کا کیا کیا سیاسی ماضی تھا، کس قدر جمہوریت پسند اور ذہین فطین ہیں، اور کیا مستقبل ہوگا، پھر فتویٰ دیجئے گا کہ معاملہ محبت کا ہے یا جہالت اور کم فہمی کا ؟
ہمیں یہ ادراک ہے ایم کیو ایم کی قدغن اور حدود کیا تھیں اور تحریک انصاف کی وسعتیں کیا ہیں، یہ بھی معلوم ہےکہ تحریک لبیک پاکستان کیا ہے؟ پی ٹی آئی کو خود کچھ پی ٹی آئی والے ٹی ایل پی بنانا چاہیں تو کوئی کیا کرے؟ کسی طرح بھی سہی، آخر، جی ایم سید اور باچا خان پر پابندیاں بھی ہوا میںتحلیل ہوئی تھیں۔ فقیر تو جماعت الدعوۃ پر پابندی کو بھی غریب مار سمجھتا ہے۔ غلط صرف وہ ہیں جو تحریک طالبان پاکستان کو دامن گیر رکھتے ہوئے پابندی کو پابندی نہیں سمجھتے۔ راقم مولانا فضل الرحمٰن سے اتفاق نہیں کرتا کہ تحریک انصاف پر پابندی لگنی چاہئے، خاکسار کو معلوم ہے مولانا ایک سیاسی قیادت ہیں اور جمہوریت چاہتے ہیں انہوں نے بھی تنگ آکر عادلوں کو احساس دلانے کی کوشش کی ہے کہ عدل کیجئے، مولانا ! عدل کے میرٹ کا حصول چاہنے کیلئے بھی ایک مثالی میثاق جمہوریت کی ضرورت ہے، جاناں !
تنگ نظر گر اجازت دیں تو، آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کو خراج تحسین پیش کرلوں کہ ان کی بالغ نظری بھی کہتی ہے سیاسی جماعتوں پر پابندی نہیں! تاہم ہماری درخواست ہے کم از کم سیاسی جماعتیں بھی تو اپنے آپ پر کوئی جمہوری پابندی لگا لیں اور پیاری تحریک انصاف نفرتوں کے پھیلاؤ اور جلاؤ گھیراؤ کی ٹی20گیم ترک کردے۔ بہرحال سیاسی بلوغت کو تحریک انصاف پر پابندی کا مطالبہ زیب نہیں دیتا!

اپنا تبصرہ بھیجیں