کورونا وائرس

کیا عجب وقت مرے شہر پہ آیا ہوا ہے
ہم نے خود گهر کو حوالات بنایا ہوا ہے

تو اگر جائے تو وہ راستہ دے دے گا تجهے
میں نے دریا کو ترا نام بتایا ہوا ہے

کاش کچهه دیر ابهی نیند نہ ٹوٹے میری
اک پری زاد مرے خواب میں آیا ہوا ہے

یار درویش کی باتوں پہ نہ جانا اس نے
اتنا اسرار نہیں جتنا بتایا ہوا ہے

جو بهی دیوار گراتا ہوں اٹها دیتا ہے
حسن کو آپ نے کیا اسم سکهایا ہوا ہے

ایسے لگتا ہے کوئی پوچهنے والا ہی نہیں
واعظ_شہر بهی فردوس میں آیا ہوا ہے

یہ جو دن رات پڑے سوتے ہیں ان لوگوں نے
جاگنے والوں میں بهی نام لکهایا ہوا ہے

پہلے رہنے ہی نہ دیتے تهے مجهے شہر میں لوگ
اب مرے نام پہ اک شہر بسایا ہوا ہے

میری آواز پہ رک جائے گا جب میں نے کہا
فرس_وقت بهی میرا ہی سدهایا ہوا ہے

طارق نعیم

اپنا تبصرہ بھیجیں