میدان احزاب میں کڑی آزمائش

سورۃ الاحزاب – ٩،١١
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللہِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَاءَتْكُمْ جُنُودٌ فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًا وَجُنُودًا لَّمْ تَرَوْهَا وَكَانَ اللہُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرًا ۞ إِذْ جَاءُوكُم مِّن فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ الْأَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّونَ بِاللہِ الظُّنُونَا ۞ هُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا زِلْزَالًا شَدِيدًا ۞

اے ایمان والو! اللہ کے اس احسان کو یاد کرو جو اس نے تم پر کیا ہے جب (کفار کے) لشکر تم پر چڑھ آئے اور ہم نے (تمہاری مدد کیلئے) ان پر ہوا (آندھی) بھیجی اور (فرشتوں کے) ایسے لشکر بھیجے جن کو تم نے نہیں دیکھا اور جو کچھ تم کر رہے تھے۔ اللہ اسے خوب دیکھ رہا تھا۔ ۔ جب وہ تم پر اوپر اور نیچے سے چڑھ آئے اور (شدتِ خوف سے) آنکھیں پتھرا گئیں اور دل (کلیجے) منہ کو آگئے اور تم اللہ کی نسبت طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔ ۔ اس وقت ایمان والوں کو خوب آزمایا گیا اور انہیں سخت زلزلہ میں ڈال دیا (سخت جھنجھوڑا گیا)۔ ۔

▫️تفسیر آیات ▫️

تفسیر میدان احزاب میں کڑی آزمائش :
یہ اور بعد والی آیات جو مجموعی طور پر سترہ آیات بنتی ہیں اور “مومنن” اور “منافقین” کے بارے میں خدا کی کڑی آمازئیش اور عمل کے سلسلہ میں ان کے صدق گفتار کے امتحان کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں ، جس کے متعلق گذشتہ آیات میں بحث ہوچکی ہے۔ یہ آیات تاریخ اسلام کے ایک اہم ترین حادثے یعنی جنگ احزاب کے متعلق گفتگو کرتی ہیں ، ایسی جنگ جو تاریخ اسلام میں ایک اہم تاریخی موڑ ثابت ہوئی اور اسلام و کفر کے درمیان طاقت کے موازنے کے پلڑے کو مسلمانوں کے حق میں جھکا دیا اور اس کی کامیابی آیندہ کی عظیم کامیابیوں کے لیے کلیدی حیثیت اختیار کر گئی اور حقیقت یہ ہے کہ اس جنگ میں دشمنوں کی کمر ٹوٹ گئی اور اس کے بعد وہ کوئی خاص قابل ذکر کارنامہ انجام دینے کے قابل نہ رہ سکے۔ “یہ جنگ احزاب” جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے، تمام اسلام دشمن طاقتوں اور ان مختلف گروہوں کی طرف سے ہرطرح کا مقابلہ تھا کہ اس دن کی پیش رفت سے ان لوگوں کے ناجائز مفادات خطرے میں پڑ گئے تھے۔
جنگ کی آگ کی چنگاری ” بنو نضیر” یہودیوں کے ایک گروہ کی طرف سے بھڑکی جو مکہ میں آئے اور قبیلہ “قریش” کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لڑنے پر اکسایا اور ان سے وعدہ کیا کہ آخری دم تک ان کا ساتھ دیں گے ۔پھر قبیلہ “غطفان” کے پاس گئے اور انھیں بھی کار زار کے لیے آمادہ کیا۔
ان قبائل نے اپنے ہم پیمان اور حلیفوں مثلًا قبیلہ “بنی اسد” اور بنی سلیل” کو بھی دعوت دی اور چونکہ یہ سب قبائل خطرہ محسوس کیے ہوئے تھے ، لہندا اسلام کا کام ہمیشہ کے لئے تمام کرنے کے لیے ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ دے دیا تا کہ وہ اس طرح سے پیغمبر کو شہید ، مسلمانوں کو سرکوب ، مدینہ کو غارت اور اسلام کا چراغ ہمیشہ کے لیے گل کر دیں۔ مسلمانوں نے جب اپنے آپ کو ایک عظیم گروہ کے مقابل میں دیکھا تو حکم رسالت پناهؐ سے مشورہ کرنے بیٹھ گئے اور سب سے پہلے سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی پیش کش پر مدنیہ کے اطراف میں خندق کھودی گئی تا کہ دشمن اسے آسانی کے ساتھ عبور نہ کر سکے اور شہر لوٹ مار سے بچ جائے (اسی بناء پر اس جنگ کا ایک نام” جنگ خندق” بھی ہے) مسلمانوں پر بہت سخت اور خطرناک لمحات گزر رہے تھے ۔ جانیں لبوں تک آئی ہوئی تھیں ، منافقین لشکراسلام کے درمیان زبردست تگ دو میں پڑے ہوئے تھے ۔ دشمن کا انبوہ کثیر اور اس کے مقابلہ میں لشکر اسلام کی کمی (لشکر کفر کی تعداد دس ہزار اور لشکر اسلام کی تین ہزار لکھی ہے) دشمن کی تیاری جنگی سازوسامان اور ضروری وسائل کی فراہمی ایک سخت اور درناک مستقبل کو مسلمانوں کی آنکھوں کے سامنے مجسم کررہے تھے۔ لیکن خدا چاہتا تھا کہ یہاں پیکر کفر پر آخری ضرب پڑے اور منافقین کو مسلمانوں کی صفوں سے جدا کر دے ، سازشی عناصر کا بھانڈا پھوڑ دے اور سچے مسلمانوں کو آزمائش کی بھٹی میں ڈالے۔ آخرکار یہ جنگ جیسا کہ اس کی تفصیل آگے آئے گی ، مسلمانوں کی کامیابی پر منتج ہوئی ، حکم خدا سے سخت آندھی چلی جس نے کفار کے خیمے ، تمبو اور تمام بساط زندگی کو لپیٹ کر رکھ دیا، ان کے دلوں میں زبردست رعب و وحشت ڈال دی اور فرشتوں کی غیبی طاقتیں مسلمانوں کی مدد کےلیے بھیجیں ۔
عمرو بن عبدو کے مقابلہ میں حضرت امیر المومنین علی بن ابی طالبؑ کی قدرت نمائی بھی عجیب وغریب خدائی طاقتوں کے مظاہرے کا اضافہ ہوا اور مشرکین کوئی
کارنامہ سر انجام دیئے بغیر بھاگ کھڑے ہوئے ۔
اوپر والی سات آیات میں مشرکین کی سرکوبی کرنے والا تجزیہ و تحلیل پیش کیا گیا ہے اور اسلام کی فیصلہ کن کامیابی اور منافقین کی سرکوبی کو احسن انداز میں بیان فرمایا ہے ۔ یہ تھی جنگ احزاب کی ایک جھلک جو ہجرت کے پانچویں سال واقع ہوئی ۔ ؎1
یہاں سے ہم آیات کی تفسیر کی طرف جاتے ہیں اور اس جنگ کی دیگر تفصیلات اور نکات کو بحث کے لیے اٹھاۓ رکھتے ہیں۔ قران اس ماجرا کو پہلے تو ایک ہی آیت میں خلاصہ کرتا ہے. پھر دوسری 12 آیات میں اس کی خصوصیات کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے” اے وہ لوگ جو ایمان لائے
ہو اپنے اوپر خدا کی عظیم نعمت کو یاد کرو ، اس موقع پر جب کہ (عظیم) لشکر تمھاری طرف آۓ (یاایها الذین آمنوا اذكروا نعمة الله عليكم اذجاء تکم جنم )۔
لیکن ہم نے ان پر آندھی اور طوفان بھیجے اور ایسے لشکر جنہیں تم نہیں دیکھتے تھے اوراس ذرایعہ سے ہم نے ان کی سرکوبی کی اور انہیں تتر بتر کر دیا:: (فارسلنا علیھم ریحًا وجنم دً الم تروها)۔
” اور خدا ان تمام کاموں کو جنہیں تم انجام دیتے ہو دیکھ رہا ہے (اور وہ کام بھی جو ہر گروہ نے اس عظیم میدان میں انجام دیئے) بصیر اور بینا ہے”۔ (وكان الله بما تعملون بصیرًا) –

؎1 جو کچھ اوپر بیان کیا گیا ہے اس تفصیل کا ایک اجمالی خاکہ بے جسے اسلامی مورخین نے منجلہ ” ابن اثیر” ” کامل” میں درج کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں