پاکستان قابلِ اعتبار ہوا، دیوالیہ نہیں!

خواب دیکھتے رہنا چاہئے، لیکن وہ خواب نہیں جو بُرے خیالوں پر مشتمل ہوں اور بعد میں خواب کی شکل اختیار کر گئے ہوں۔ اچھے والے خواب ہی سیاست، ریاست اور چاہت کیلئے بہتر ہوتے ہیں، وہ خواب جن کے متعلق سیانے کہتے ہیں کہ خواب وہ دیکھو جو سونے نہ دیں اور آپ ان کی تعبیر کے حصول کیلئے دن رات ایک کردیں۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارا لیڈر یہ سیانوں والا خواب نہیں دیکھتا، محض خواب دکھاتا ہے، عوام کو خواب دکھا دکھا کر بےخوابی کے بھنور میں ایسا پھنسا دے کہ رہے نام اللہ کا !
اس میں کوئی شک نہیںکہ موجودہ حکومت پچھلے ایک برس سے آئی ایم ایف کے چنگل میںہے، اور روزانہ کی بنیاد پر ہاتھ پاؤں مارے جارہے ہیں کہ معیشت کو کسی طرح آکسیجن میسر آ جائے۔ جبکہ سابق وزیراعظم نے بےشمار خواب دیکھ رکھے تھے کہ پی ڈی ایم کے دور میں پاکستان آج سری لنکا ہوا کہ کل ہوا۔ خان چاہتے تھے، ملک کا حال بےشک کچھ بھی ہو جائے مگر موجودہ حکمرانوں کا نام کسی نہ کسی طرح پاکستان کے دیوالیہ ہونے کے ساتھ منسلک ہو ، لیکن اس عید پر آئی ایم ایف کی نوید نے امید دلادی گویا عید بنادی،عید اپنی جگہ ہر سفید پوش کیلئے امتحان ہی ہوتی ہے کیونکہ سفید پوش کے کُنبے نے بھی عید کے حوالے سے کتنے ہی سہانے سپنے دیکھ رکھے ہوتے ہیں، اور سفید پوش دن رات’’قربانی‘‘ ہی کی شاہراہ پر ہوتا ہے۔ عوامی سپنوں کو تو فی الحال چھوڑئیے جو خواب خواص بلکہ خاص الخاص کا پورا نہیں ہوا ، ذرا اس پر سوچئے: اگست 2022 میں جب ایک آڈیو منظر عام پر آئی جس میں سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے اُس وقت کے پنجاب کے وزیرِ خزانہ کو کہا تھا کہ آئی ایم ایف کو کہیں کہ اب ہم ذمہ دار نہ ہوں گے لہٰذا قرض کی قسط پی ڈی ایم حکومت کو جاری نہ کی جائے ۔ اس پر محسن لغاری (جوجعفر لغاری کے انتقال کے بعد ضمنی نشست جیت کر اب ایم این اے ہیں) نے سوال اٹھایا کہ اِس سے ریاست کو نقصان تو نہیں پہنچے گا؟ جواباً شوکت ترین نے کہا یہ جو ہمارے چیئرمین کے خلاف مقدمات بن رہے ہیں اور وغیرہ وغیرہ یہ ٹھیک ہیں کیا، قصہ مختصر محسن لغاری نے آئی ایم ایف کو خط نہ لکھا کیونکہ محسن لغاری فہم و فراست کے مالک اور محب وطن تھے سو شوکت ترین کے ورغلانے میں نہ آئے تاہم دوسری طرف کے پی کے سے تیمور جھگڑا نے آئی ایم ایف کو خط لکھ دیا جس کا مطلب تھا پاکستان کو دیوالیہ ہونے دیا جائے۔ راقم پہلے بھی عرض کر چکا شوکت ترین کا یہ جرم بہرحال قابلِ معافی نہیں۔ اس ریاست نے انہیں کیا کچھ نہیں دیا؟ اور وہ اسی ریاست کی کمر میں چھرا گھونپنے کے لئے تیار تھے۔ شوکت ترین کو زرداری صاحب نے بھی سینیٹر بنایا تھا، پہلے انہوں ہی نے انہیں 2008 سے 2010 تک بطور وزیر بھی متعارف کرایا۔ مگر ایک ٹیکنوکریٹ بھی اس حد تک اپنی ریاست کے خلاف گر سکتا ہے جس نے اسے بینکوں سے لے کر بڑی کمپنیاں تک بنانے میں مدد کی اور یہ شوکت ترین اپنے زمانہ چراغِ سحر میں کیسے سوچ رہے تھے؟ بہرحال یہ 9 مئی کے افسوسناک واقعات سے کہیں بڑا واقعہ تھا۔

جونہی شِکَستِ خواب والا معاملہ ہوا ، اور سابق وزیراعظم اینڈ کمپنی کو یقین ہو گیا کہ پاکستان سری لنکا بننے نہیں جا رہا ، تو یار لوگوں نے آئی ایم ایف کی مدد کو ” اسپرین سے کینسر کا علاج ” قرار دے دیا۔ جانے کیوں بھول گئے کہ آخری مرحلہ پر جو سربراہ حکومت یا سربراہ امور خزانہ آئی ایم ایف کو آخری یقین دہانی کراتا ہے کہ اگر کوئی کمی کوتاہی رہ گئی ہے ، ہم اس کی گارنٹی دیتے ہیں۔ یہ رسم بھی یہ آخری گارنٹی بھی عمران خان بطور سربراہ حکومت آئی ایم ایف کو دے آئے تھے جس کا شور و غل ہوا تھا کہ ایک عظیم معرکہ مار لیا، مارکہ مار بھی لیا تھا مگر حکومت کی ساکھ بچانے اور عوامی نظر میں جعلی اچھا اچھا لگنے کی پاداش میں بحیثیت گارنٹی دہندہ اور سربراہ حکومت معاہدہ سبوتاژ کر دیا گیا یعنی معاہدہ کے برعکس قیمتوں کا تعین کیا گیا۔ جس پر آئی ایم ایف سیخ پا ہوگیا اور سب تدبیریں الٹ ہوگئیں۔ یوں اسی دور میں آئی ایم ایف نے کہہ دیا تھا اب جب تک ہماری ٹیم خود پاکستان کی چھان بین نہیں کر لیتی اور ہماری تسلی نہیں ہوتی ، بات آگے نہیں بڑھے گی اور یوں پاکستان کا وقار داؤ پر لگا دیا تھا۔

یہ طے ہے، عالمی برادری میں اب یہ فراموش نہیں کیا جاسکتا کہ دنیا ایک گلوبل ویلیج ہے، مثال کے طور پر جنگ روس اور یوکرین کی ہو مگر مہنگائی اور تیل کے نرخوں کی بڑھوتری بھگتنا پورے عالم کو پڑتا ہے۔ کورونا ویکسین بنائیں تو جب تک دنیا کے ہر کونے میں نہ جائے پروجیکٹ نامکمل رہتا ہے۔ دوست ممالک سے امداد کا معاملہ ہو، فلڈ ریلیف ہو یا بےنظیر انکم سپورٹ میں بین الاقوامی مدد، ورلڈ بینک یا ایشیائی ترقیاتی بینک سے قرض یا امداد منظور بھی ہوگئے ہوں تو آئی ایم ایف ہی مالیاتی عالم کا وہ محور و مرکز ہے جس کے گرد پوری عالمی اکانومی گھومتی ہے پس ایکسٹینڈِڈ فنڈ فیسِلیٹی (EFF ) اگست 2022 سے بری طرح متاثر تھی، ہنوز آنے والی اگلی نئی حکومت از سرِ نو سوچے گی اور اصلاحات کا عمل وجود میں لائے گی بہرحال ابھی کے 9 ماہ تو گلشن کا کاروبار اور معاشی وقار توانائی پائے گا، ڈالر مافیا کو یقینی دھچکا لگے گا، قومی خزانہ میں رقوم ہوگی، ڈالر کھلے گا، ایکسپورٹ اور امپورٹ کو کم ہی سہی مگر تقویت تو ملے گی، وہ جنیوا امداد جو فلڈ ریلیف کی تھی وہ اب جاری ہو سکے گی، وہ محنت جو وزیراعظم، وزیر خارجہ بلاول بھٹو اور وزیر خزانہ نے کی اسے ایک حسین موڑ مل جائے گا، اس میں برا کیا ہے؟ ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے وہ قرضے جو منظور تو ہوچکے تھے مگر ریلیز نہیں ہو رہے تھے وہ اب یقیناً ریلیز ہوں گے! پاکستان کی اتھارٹیز اور آئی ایم اسٹاف معاہدے یعنی اسٹینڈ بائے ارینج منٹس (SBA) مالیاتی امور اور میکرو اکنامکس کے ڈھانچے میں ایک بڑی مثبت پیش رفت ہوگی، بےیقینی کے دور کا عارضی سہی ایک بار تو خاتمہ ہوگا جس کا کریڈٹ اس حکومت کو بہرصورت دینا پڑے گا کہ ناقابل اعتبار کو قابلِ اعتبار بنا کر دم لیا ، اُن کے دانت بھی کھٹے کئے جو محض اقتدار کی خاطر ریاست کے خلاف زور آزمائی کے درپے تھے، جن کے سبب سیاسی و معاشی انارکی تھی !

سیاست خدمت کا دوسرا نام ہے اور جمہوریت انسانی حقوق کا پیرہن، ان دونوں چیزوں کا تقاضا ہے کہ میثاقِ معیشت سے قوم کو اعتماد میں لیا جائے ، فی الوقت یہی سیاسی و معاشی و معاشرتی لیڈر شپ اور سول سرونٹس کے بناؤ کی سوچ کا خشوع و خضوع ہونا چاہئے ورنہ سب افسانے ہیں۔ اس ضمن میں زرداری صاحب میثاقِ معیشت کی توجہ درست خواب دیکھنے اور دکھانے کے موڈ میں ہے جس سے لانگ ٹرم استفادہ استقامت پہنچائے گا!

اپنا تبصرہ بھیجیں