ناصر کاظمی کی برسی , سرکاری ادبی ادارے و میڈیا

تاثیر نقوی
تاریخ میں زندہ رہنے والی شخصیات غیر معمولی حیثیت کی حامل ہوتی ہیں اِس کے لیئے سرکاری اور غیر سرکاری ادبی اداروں و ادبی تنظیوں کا فرض ہے کہ اُن کے کیئے گئے کام کو عوام تک پہنچا کر اُن کے مقام کا تعین کرے اور اُنکی پذیرائی کے لیئے سرکاری طور پر اُنکے فنون کے اعتراف میں اعزازات سے نوازے مگر ایک عرصے سے سفارشی نظام کے تحت دیئے جانے والے یہ اعزازات عوام میں اِپنی توقیر میں کمی کی وجہ سے مشکوک سمجھے جانے لگے ہیں اور اِس وجہ سے جینوئن اور میرٹ پر پورا اُترنے والے سینئرز بھی بیساکھیوں کے بغیر کسی معیار پر پورا نہیں آ رہے ۔
یہ بات تو ویسے ہی زہن میں آ گئی , گذشتہ روز بر ِصغیر کے عالمی شُہرت یافتہ ممتاز شاعر ناصر کاظمی کی 51 اکاون ویں برسی منائی گئی عزیز و اقارب اور مداحوں نے فاتحہ خوانی کی لاہور میں علمی و ادبی تنظیم بزم ِ کتاب دوستاں میں شامل اہل ِ قلم کے ایک وفد نے ناصر کاظمی کی قبر واقع قبرستان مومن پورہ میکلوڈ روڈ پر جا کر پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی , اِس موقعہ پر برادر ِمُحترم حسین مجروح اور برادرم وسیم عباس کی کمی خصوصا” محسوس کی گئی جو اپنی اتہائی مصروفیت کے باعث فاتحہ خوانی میں شریک نہ ہو سکے وگرنہ ہمیشہ کی طرح وُہ بھی وفد میں شامل ہوتے , یہاں پر خاص بات یہ ہے کہ پروفیسر تنویر صدیقی کی قیادت میں اہل ِ قلم کا ایک گروپ حیدر آباد سے برادرم ساجد یزدانی کے دعوت پر لاہور آیا ہوا تھا جو اِس یادگار موقعہ کو غنیمت جان کر فاٹحہ خوانی میں شریک ہوا جبکہ اور کسی ادبی تنظیم یا ادب کے نام پر قائم کیئے جانے والے کسی سرکاری ادارے کی طرف سے مکمل خاموشی ہی دیکھائی دی ۔ 47 سال کی مُختصر سی زندگی میں ناصر کاظمی نے ادب میں وُہ مقام حاصل کیا جو بڑے بڑے قد کاٹھ والوں کے نصیب میں کہاں ۔ ناصر کاظمی کا کلام پاکستان کے نامور کلاسیکل و نیم کلاسیکل گلوکاروں کے علاوہ ہر گلوکار نے گایا اور فخر محسوس کیا بلکہ یوں کہنا بےجا نہ ہوگا کہ پاکستان میں سب سے زیادہ گائے جانے والے شعراء میں ناصر کاظمی نمایاں نظر آتے ہیں ۔ چھوٹی بحر کی غزل کہنے میں ناصر کو ملکہ حاصل ہے ۔ اُنکی شاعری میں ہجر و وصال , رومان اور اُداسی و حسرت و یاس کے علاوہ ہجرت کے موضوعات کے ساتھ ساتھ اُمید بھی نمایاں نظر آتی ہے ۔
کسی تخلیقکار و فنکار کی مقبولیت کا اندازہ اِس بات سے ہی لگایا جا سکتا ہے کہ آدھی صدی گذر جانے کے بعد بھی وُہ اور اُس کا فن زندہ ہے اور آسمان ِ ادب پر اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا ہے ۔ سوشل میڈیا اور نجی چینلز پر ناصر کاظمی کے حوالے سے خبریں کافی گرم رہیں جو اِس بات کا احساس دلاتی رہیں کہ وُہ عوام کے دِلوں میں بسنے والا شاعر ہے جس کو اُس کے مداحوں نے مقبولیت کا سب سے بڑا اعزاز عطا کیا ہوا ہے ۔ ہمارے خیال میں شاید پورے پاکستان میں ناصر کاظمی کی برسی کے موقعہ پر کسی شعری نشست یا ریفرنس کی تقریب منعقد نہیں کی گئی ہو گی بلکہ آکادمی ادبیات پاکستان اسلام آباد میں ہمارے شفیق اُستاد ِ مُحترم امجد اسلام امجد کی وفات کے حوالے سے تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا حالانکہ یہ ریفرنس ایک آدھ دن آگے پیچھے بھی ہو سکتا تھا اور حیرت اسوقت ہوئی جب آکادمی ادبیات نے اپنے فیس بُک پیج پر پوسٹ لگائی اور جب کچھ اہل ِ قلم نے اُنھیں دو مارچ ناصر کاظمی کی برسی یاد دلائی تو مُنتظمین نے اُنکے نام بھیباظہار ِ,خیال کرنے والوں میں شامل کر لیئے , دو مارچ کو ناصر کاظمی کے حوالے سے کوئی تقریب , سیمینار یا مشاعرہ بھی ہو سکتا تھا مگر شاید سرکاری اداروں پر بھی مخصوص اشخاص کا ہی سکہ چل رہا ہو گا جو اُنھیں ناصر کاظمی یاد ہی نہ رہا ۔ جسے اللہ عزت اور مرتبہ عطا کرے اُس کو کوئی دے سکتا ہے وُہ اگر کچھ کر بھی لے تو اُس سے اُس کا اپنا ہی قد بڑا ہوتا ہے ۔ یہاں ہم ایک اور اہم نکتہ کی اور اداروں کی کوتاہی , غفلت یا کسی دانستہ فعل کی نشاندہی کرنا چاہیں گے کہ کافی عرصہ سے یہ بات ہمارے دماغ سے پتھر کی طرح ٹکرا رہی ہے کہ آخر پاکستان کے قومی ترانے کے خالق ابوالاثر حفیظ جالندھری ہیں یا جگن ناتھ آزاد ۔ آخر یہ ادارے کیا کر رہے ہیں , بار بار غلطی دہرانے کا مطلب غفلت ِ مجرمانہ ہے جس کو ہر گز در گذر نہیں کیا جا سکتا ۔ خُدارا اِن سرکاری ایوانوں کے ائر کنڈیشنوں میں بیٹھنے والوں کُو کُچھ سوچنا چاہیئے کہ وُہ اپنی ایسی اغلاط سے نئی نسل کو ورثے میں کیا تقسیم کر رہے ہیں نوجوانوں کو اضطراب کی دلدل سے بچایئں وگرنہ شکوک کی بنا پر وُہ اپنے مشاہیر اور نابئغہء روزگار شخصیات کے بارے میں غلط تاثر قائم کر لیں گے جس کے مجرم بلا شُبہ اِن ایوانوں میں بیٹھنے والے گروہ پسند افراد ہی ہونگے ۔
خیر اب کچھ زکر ناصر کاظمی کی برسی کے حوالے سے بزم ِ کتاب دوستاں کی شعری نشست کے احوال کا کچھ زکر ہو جائے , جو قبرستان مومن پورہ میں ناصر کی قبر پر بزم ِ کتاب دوستاں کے سرپرست ِ اعلیٰ تاثیر نقوی کی قیادت میں اہل ِ قلم کے وفد نے پھول چڑھانے اور فاتحہ خوانی کے بعد ممتاز شاعر یزدانی جالندھری کے ہونہار سپوت اور معروف فلمی صحافی و شاعر ساجد یزدانی کے قریب ہی واقع دفتر می منعقد کی گئی اِس بیاد ِ ناصر کاظمی شعری نشست کی صدارت کا اعزاز راقم تاثیر نقوی کو نصیب ہوا مُحترمہ نجمہ شاہین نے نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے سب سے پہلے اپنا کلام نذر ِ ناصر کیا اِس کے بعد فراست بخاری , آفتاب خان , مظہر سلیم مجوکہ , اقبال راہی , ساجد یزدانی اور آخر میں صدر ِ محفل تاثیر نقوی ( راقم ) نے اپنا کلام سُنا کر ناصر کاظمی کو خراج ِ تحسین پیش کیا ۔ تمام شعراء کا مکمل کلام تو یہاں ضبط ِ تحریر میں لانا مُشکل ہو مگر اُنکے کلام سے انتخاب پیش ِ خدمت ِ قارئین ہے ۔

مُحترمہ نجمہ شاہین ۔

اِک آرزوُ کو زخمی کرنے سے کیا ملا ہے
پھر بھی مِرے لبوں پر تِرے لیئے دُعا ہے

فراست بخاری ۔

اکھاں رائیں مینہ وساوے اِک مِٹی دا باوا
نال غماں دے کھردا جاوے اِک مِٹی دا باوا

مِٹی دے وچ مِٹی ہوئے اج تک کِنے باوے
کُوکاں مارے تے کُرلاوے اِک مِٹی دا باوا

آفتاب خان ۔

ہونٹ جُنبش نہ کریں آنکھ میں پانی ہی نہ ہو
کیسے ممکن ہے بیاں دِل کی کہانی ہی نہ ہو

مظہر سلیم مجوکہ ۔

گئے دنوں کا سُراغ لیکر کِدھر سے آیا کِدھر گیا وُہ
عجیب مانوس اجنبی تھا مُجھے تو حیران کر گیا وُہ
( ناصر کاظمی کی غزل پیش کی ۔)

اقبال راہی ۔

آج برسی ہے عظیم انسان کی
آ رہے ہیں یاد ناصر کاظمی

کون ہے یہ گُل رُو مُجھ میں
کس کی ہے خُوشبو مُجھ میں

یہ جس میں چُپ رہتا ہوں
ہے کوئی سادھو مُجھ میں

ساجد یزدانی ۔

خط کتابت کا سلسلہ رکھنا
گر ہو ممکن تو رابطہ رکھنا

تاثیر نقوی ( صدر ِ محفل )

بات سُنی ان سُنی کر دی
مِرے احساس کی نفی کر دی

اپنا ایسا مزاج تھا ہی نہیں
تُم نے ویران زندگی کر دی ۔

آخر میں ادب سے مُتعلقہ سرکاری مقتتدر اداروں سے گذارش ہے کہ ناصر کاظمی جیسے اُستاد شعراء جنکی ساری زندگی ادب کی خدمت میں گذری جو اتقال کر چکے ہیں اُنھیں بعد از مرگ اور جو زندہ ہیں اُنکی حیثیت کے مطابق نوازا جائے ۔ اور اُنکے نام پر کسی روڈ/ سڑک کا نام رکھا جائے

4 تبصرے “ناصر کاظمی کی برسی , سرکاری ادبی ادارے و میڈیا

  1. You are in reality a just right webmaster. The site loading velocity is amazing. It seems that you are doing any distinctive trick. Moreover, the contents are masterwork. you’ve performed a magnificent task in this subject! Similar here: e-commerce and also here: Najtańszy sklep

  2. Hey! Do you know if they make any plugins to assist with SEO? I’m trying to get my website to rank for some targeted keywords but I’m not seeing very good success. If you know of any please share. Thank you! You can read similar text here: Auto Approve List

اپنا تبصرہ بھیجیں