غمِ حسینؑ ہی ایسا تھا جو بچا گیا تھا

غمِ حسینؑ ہی ایسا تھا جو بچا گیا تھا
وگرنہ ہجر تمھارا مجھے تو کھا گیا تھا

بتا رہے تھے نکیرین قبر میں مجھ کو
تمہارے دفن سے پہلے وہ شخص آ گیا تھا

تمام شہر کے لوگوں نے اس کو مارا تھا
وہ انتقام میں ہلکا سا مسکرا گیا تھا

اِن آنسوؤں نے مرے غم کی مخبری کر دی
جہاں پہ بات تھی میری تو میں چھپا گیا تھا
۔۔۔۔

محسن جعفری

اپنا تبصرہ بھیجیں