طوطے اور عمران خان

حالیہ دنوں میں تحریک انصاف کے رہنما پتوں کی طرح جھڑتے نظر آئے ، پت جھڑ کے اس موسم میں نیشنل پریس کلب اسلام آباد کی چاندی ہو گئی ہے کہ وہاں پریس کانفرنس پہ پریس کانفرنس ہو رہی ہے۔ نیشنل پریس کلب کے صدر انور رضا مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے چند دنوں میں بہت زیادہ پریس کانفرنسز کروا کر نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ 9 مئی کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں پر زمین تنگ کی جا چکی ہے۔ کارکن تو اب بھی برداشت کر رہے ہیں مگر رہنماؤں پر خزاں کا موسم اترا ہوا ہے۔ بندہ قصور کا ہو یا ملتان کا پریس کانفرنس اس کی نیشنل پریس کلب ہی میں ہو رہی ہے۔ پتہ نہیں اس میں کیا راز ہے۔ ہو سکتا ہے ڈرائی کلین کی جدید مشین اسلام آباد میں لگی ہو کیونکہ چھوڑنے والے ایک ہی طرح کا پیغام پڑھتے ہیں۔ مثلاً مجھ پر کوئی دباؤ نہیں ہے، میں تحریک انصاف سے الگ ہو رہا ہوں۔ کوئی کہتا ہے میں سیاست چھوڑ رہا ہوں ۔ بس یہ کہنے کی دیر ہے کہ سارے مقدمات ختم ہو جاتے ہیں ، بندہ دودھ سے دھل جاتا ہے۔ پی ٹی آئی چھوڑنے والے طوطے اور طوطیاں رٹہ رٹایا سبق پڑھتے ہیں۔ منصوبہ سازوں کے دئیے ہوئے سبق کے مطابق اکثر لوگ کاغذی پیغام پڑھتے ہیں اور کچھ ای پیغام پڑھتے ہیں ۔ پارٹی کو چھوڑنے والوں کے چہروں پر ندامت ، کسی کی آنکھوں میں آنسو اور کسی کی صورت پر ناقابلِ بیان خوف نظر آتا ہے۔ تحریک انصاف چھوڑنے والوں نے جہاں خود کو مذاق بنوایا ہے وہیں پارٹی کا بھی مذاق اڑوایا ہے۔ سیف اللہ نیازی پر پتہ نہیں کتنا دباؤ تھا کہ انہوں نے صرف 49 سیکنڈ کی پریس کانفرنس کی۔ فواد چوہدری نے تو گھر سے نکلنا ہی مناسب نہ سمجھا، ٹویٹ پر ہی اکتفا کیا ۔ سب سے مزیدار رقت آمیز لمحات حمزہ شہباز شریف کے برادر نسبتی مراد راس اور ابرار الحق کی پریس کانفرنس میں نظر آئے ۔ مراد راس کے ذہن پر خوف کی لہروں کے اثرات صاف دکھائی دے رہے تھے ۔ ابرار الحق کا چہرہ بھی ان دیکھی کہانیاں بیان کر رہا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پولیس نے تحریک انصاف سے وابستہ لوگوں کے گھروں پر اندھا دھند چھاپے مارے، گھروں میں توڑ پھوڑ کی ، بچوں اور خواتین کو ہراساں کیا، ان کی توہین اور تذلیل کی۔ پولیس نے پتہ نہیں کس کی ہلہ شیری پر ایسے ایسے گھناؤنے کام کر دکھائے جو ہ ملکی ندامت کا باعث بن سکتے ہیں۔ مجھے پی ٹی آئی چھوڑنے والے رہنماؤں پر حیرت ہے کہ وہ کس قدر کم حوصلہ اور کم ہمت نکلے۔ ان چوری کھانے والے طوطے اور طوطیوں کو دیکھ کر مجھے اپنے گاؤں میں لگے ہوئے امرود، جامن اور آم کے درخت یاد آ جاتے ہیں۔ ان درختوں پر اکثر طوطے اور طوطیاں آکر کچے پکے پھل خراب کر کے چلے جاتے ہیں۔ ان کو اڑانے کے لئے ایک آواز ہی کافی ہوتی ہے۔ ایک آواز سے تحریک انصاف کو چھوڑنے والے لوگوں کے مقدمات تو ختم ہو گئے ، انہیں جدید ترین ڈرائی کلینگ سے صاف ستھرا تو بنا دیا گیا مگر وہ لوگوں کے دلوں میں ہار گئے ۔ وہ کارکن یا رہنما جو بہادری سے قید کاٹ رہے ہیں، سختیاں برداشت کر رہے ہیں، ظلم سہنے والے ان کارکنوں نے لوگوں کے دل جیت لیے ہیں۔ انہوں نے خود کو اندھیری رات میں لا جواب چراغوں کی طرح پیش کیا ہے۔ ابھی جب میں ان باوفا کارکنوں کو دیکھتا ہوں تو مجھے ماؤزے تنگ کا واقعہ یاد آجاتا ہے۔ طویل لانگ مارچ کے دوران ماؤزے تنگ نے اپنے کامریڈ ساتھیوں سے پوچھا ، ہم کمزور ہوئے ہیں یا طاقتور؟ ایک مایوس کامریڈ بولا پہلے ہم لاکھوں میں تھے اور اب ہزاروں میں ہیں، اس کا مطلب ہے ہم کمزور ہو گئے ہیں۔ ماؤ نے مسکراتے ہوئے کہا نہیں ، ہم پہلے سے زیادہ طاقتور ہو گئے ہیں کیونکہ جتنے بھی کمزور عناصر تھے وہ ہمیں چھوڑ کر چلے گئے اب صرف مضبوط افراد رہ گئے ہیں۔
عمران خان کی شخصیت بڑی باکمال ہے ۔ عجیب حقیقت ہے کہ پی ڈی ایم کے کسی رہنما کی کوئی پریس کانفرنس عمران خان کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ حکومت میں شامل پارٹیوں کا کوئی جلسہ، کوئی سیمینار ، کوئی جلوس عمران خان کے تذکرے کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ عمران خان تو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نہیں مگر قومی اسمبلی میں موجود اپوزیشن ہو یا حکومتی پارٹی ، ہر ممبر عمران خان کا ذکر ضرور کرتا ہے ۔ وفاقی وزراء کبھی مسکراتے چہروں کے ساتھ اور کبھی اترے ہوئے چہروں کے ساتھ عمران خان کا ذکر کرنا نہیں بھولتے ۔ ٹی وی کا کوئی پروگرام ذکر عمران خان کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ اخبارات میں بھی یہی صورتحال ہے۔پاکستانی معاشرے میں مارکیٹوں ، بازاروں اور ڈرائنگ روموں میں عمران خان کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ گویا وہ دوستوں اور دشمنوں میں مقبول ہے۔ ان کے تذکرے کے بغیر تو نہ خفیہ میٹنگز ہوتی ہیں نہ خفیہ پلینز بنتے ہیں ۔ منصوبہ بندیاں کرنے والے بھی اسی کا تذکرہ کرتے ہیں۔ عدالتوں میں بھی اس کا ذکر ہے ۔ انٹرنیشنل میڈیا بھی اس کی کہانیاں سناتا ہے۔ بتانے والے بتاتے ہیں کہ اس کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ عمران خان کہتا ہے، بے شک لوگوں سے پی ٹی آئی چھڑوا لو مگر الیکشن کرواؤ۔ حالیہ حالات میں لوگوں کے خیالات کو وصی شاہ کے شعر کے ذریعے بیان کیا جاسکتا ہے

اس سے کرنی ہیں سینکڑوں باتیں
دل کی دھڑکن بحال تو ہو لے

اپنا تبصرہ بھیجیں