یوم خواتین کے نام:

عجب سورما ہے!
بیک وقت دو تیغ سے لڑنے والی
دلیلوں سے ذہنوں کو کرتی ہے گھائل
تو حسن و ادا سے وہ دل چیرتی ہے
وہ قامت میں اپنی جو نیزہ بکف ہے
سو انکھوں میں پیکان جیسی چمک ہے
جو گردن میں آزاد انسان کے اک اکڑ ہے
تفاخر سے پھولے ہوئے اس کے سینے میں بھی جلوہ گر ہے
وہ جو سر بلندی پہ لہرا رہی ہے
وہ گیسو نہیں ہیں،
وہ ریشم کا پرچم ہے، اس کا نشاں ہے
وہ عورت نہیں ہے
وہ اونچی پہاڑی کی چوٹی پہ مضبوط قلعہ ہے
جس کو کئی بار تسخیر میں نے کیا ہے
مگر جلد پسپا بھی ہونا پڑا ہے
وہ صحرا کی ہرنی ہے
جس کی قرابت کی خاطر
میں نے خود کو ہر بار ثابت کیا ہے
جہاں گیر بانو یہاں کی نہیں ہے
جہاں ڈھور ڈنگر کے نتھ،
اور عورت کے نتھلی پڑی ہے
وہ کم حوصلہ مرد کی دسترس سے ورا ہے
وہ اک سورما ہے
(سرمد سروش)

2 تبصرے “یوم خواتین کے نام:

اپنا تبصرہ بھیجیں