زر مبادلہ میں اضافہ کیسے؟

اس وقت ہماری تاریخ کا بدترین معاشی بحران دن بدن مزید گہرا اور سنگین ہوتا جارہاہے ۔ہمارے سابقہ و موجودہ حکمرانوں اور ان کے معاشی جادوگروں کے نزدیک اس سے نکلنے کاایک ہی راستہ ہے۔ اور وہ ہے آئی ایم ایف کی ہرشرط منظور کرکے قرضے کا حصول ۔ دوسرے الفاظ میں ان کا فیصلہ ہے کہ ہمیں کبھی بھی دلدل سے نہیں نکلنا۔
جماعت اسلامی پاکستان نے 22مارچ2023کو لاہور میں جس منشور کا اعلان کیا ہے۔اس میں طے کیاگیا ہے کہ جماعت اسلامی کی حکومت آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کی بجائے خود انحصاری کاراستہ اختیار کرے گی۔ہمارے نزدیک دنیا کا کوئی ملک قرضوں، غیر ملکی امدادیا کسی بھی طرح کی معاشی بیساکھیوں کے سہارے کبھی بھی ترقی نہیں کرسکتا۔ترقی کا راستہ(1)برآمدات میں اضافہ (2)درآمدات پرکنٹرول(3)سودی معیشت سے نجات (4) گُڈ گورننس کے ساتھ ٹیکس نیٹ میں پھیلاو ¿(5) کرپشن اور فضول خرچی کے خاتمے کے ذریعہ ہی حاصل ہو سکتا ہے۔
ہمارے منشور میں ان سب نکات پر قابل عمل حل دیئے گئے ہیں اہم سوال یہ ہے کہ ہم آئی ایم ایف سے قرض یا دنیا بھر سے کشکول گدائی کے ذریعہ بھیک حاصل نہیں کریں گے تو زرمبادلہ میں اضافہ کیسے ہوگا؟
ہمارے نزدیک زر مبادلہ میں اضافہ کے لیے لازماً برآمدات میں اضافہ ہونا چاہیے۔اور برآمدات میں اضافہ کے لیے زرعی و صنعتی پیداوار میں اضافہ ناگزیر ہے۔ اسی طرح صنعتی پیداوار میں اضافہ کے لیے بجلی و گیس کی سستے داموں بلاتعطل فراہمی بھی لازم ہے۔ ہماری حکومت یہ سب اقدامات کرے گی۔
ہم برآمدی صنعت کے فروغ کے لیے مندرجہ ذیل اقدامات کریں گے۔
l ایک علاقہ ایک صنعت پروگرام کے تحت کسی علاقے کی خاص پیداوار یا معدنیات کے لحاظ سے دس سال کے لیے ٹیکس میں چھوٹ دیں گے۔
l ایگرو بیسڈ انڈسٹری، کاٹیج انڈسٹری،سمال و میڈیم انڈسٹریز کو فروغ دینے کے لیے مراعات کا خصوصی پیکج دیں گے۔
l درآمدکئے جانے والے خام مال کو ملک کے اندر ہی بنانے والی انڈسٹریز کو 10 سال کے لیے خصوصی ٹیکس چھوٹ دیں گے۔ سرکاری اداروں کے ذریعہ مشینری کی امپورٹ پر سہولت کاری ہوگی۔
l ایکسپورٹ بڑھاو ¿ اسکیم کے تحت دس سالہ اقساط پر انڈسٹریل اسٹیٹ میں پلاٹ فراہم کریں گے۔
l ہربزنس کو25فیصد ایکسپورٹ کرنے کا قانونی طور پر پابند کریں گے۔
l حلال میٹ،آئی ٹی خصوصاً سافٹ وئیر اور زرعی و ویلیو ایڈیڈ پراڈکٹس کو صنعت کا درجہ دیں گے۔
l بھارت کی آئی ٹی سروسز ایکسپورٹ انڈسٹری 150ملین ڈالر جبکہ ہماری صرف3.5بلین ڈالر ہے۔ہم اسے پانچ سالوں میں 20بلین ڈالر تک لائیں گے۔
l ہم جدید ریسرچ ،اعلیٰ پلاننگ اور بہترین مشینری کے ذریعہ زرعی پیداوار بالخصوص اعلیٰ اقسام کے چاول کی فی ایکٹر پیداوار میں30فیصد اضافہ کریں گے۔
l ایکسپورٹ ریسرچ اینڈ ڈویویلپمنٹ کے شعبے کو بزنس چیمبرز، تعلیمی اداروں اور انڈسٹریل اسٹیٹس میں زیادہ فعال کریں گے۔
l چاول ،کپاس،گندم،چمڑے،اسپورٹس،قالین ،کیمکلز کی ایکسپورٹ میں اضافے کے اہداف طے کریں گے۔
l ایکسپورٹرز کو خصوصی قومی اعزازات سے نوازیں گے۔ ان کا درجہ وی آئی پی کا ہوگا۔
l ایف بی آر میں ون ونڈو ایکسپورٹ ڈیسک ہوں گے۔ ڈیجیٹل نظام فروغ پائے گا۔
l سفارت کاروں کی ترقی کا انحصار ایکسپورٹ مارکیٹنگ پر ہوگا۔
l نئی منڈیاں تلاش کریں گے۔ غیرروایتی اشیاءکی ایکسپورٹ پربھی توجہ دیں گے۔
l پاکستان کے ہر ضلعی مقام پر انگریزوں کے زمانے سے کمشنروں، ڈپٹی کمشنروں ودیگر افسران کی 200/200کنال کی کوٹھیاں موجود ہیں۔ یہ ہر شہر کے وسط میں قیمتی کمرشل اراضی ہے۔ اسی طرح گورنر ہاو ¿سز ہیں۔ ہم اس تمام زائد کمرشل اراضی کو زرمبادلہ میں ادائیگی کی شرط پر بیرون ملک پاکستانیوں کو پرکشش قیمت پر فروخت کرکے زرمبادلہ میں خاطر خواہ اضافہ کریں گے۔
l ایسی پرکشش اسکیم جاری کریں گے کہ سمندر پار پاکستانی اپنا زر مبادلہ ملک میں لائیں ۔اور انہیں یقین کامل ہو کہ ہمارا زر مبادلہ ملک سے قرضوں کے بوجھ کو ختم کرنے اور تعمیر وطن کے کام آئے گا۔
l تجارتی خسارہ کم کرنے کے لیے درآمدات پر بھی کنٹرول ضروری ہے۔ سال2022ءمیں برآمدات25ارب تک پہنچیں جو حوصلہ افزا تھا۔ لیکن اسی وقت درآمدات40ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
l برآمدات میں اضافہ 25فیصد جبکہ درآمدات میں اضافہ63فیصد ہوا۔
l درآمدات میں پٹرولیم، آٹوموبائل، خوردنی تیل،دالیں،سیلولرفون،اشیائے تعیش شامل ہیں۔
l درآمدات میں بڑا بل پٹرولیم مصنوعات کا ہے۔
l ہم قیمتی زرمبادلہ سے پٹرول درآمد کرتے ہیں۔ اور ایک لیٹر میں صرف 3کلومیٹرچلنے والی ہزاروں بڑی گاڑیوں کو مفت فراہم کرتے ہیں۔ ہماری حکومت یہ درآمدی بل کم کرے گی۔ اسی طرح جو اشیاءملک میں پیدا یا تیار ہوسکتی ہیں۔ ان کے لیے زرِ مبادلہ خرچ کرنے پر پابندی ہوگی۔ مثلا سولر پینل، چائے ،دالیں، خوردنی تیل ،اشیائے خوردنی۔ اینیمل وپولٹری فیڈز وغیرہ
l درآمدی۔ برآمدی پالیسی کی کامیابی کا انحصار گڈ گورننس اور زیرو کرپشن پر ہی ہے۔ جماعت اسلامی اپنی اس صلاحیت کو کراچی کی ضلعی حکومتوں صوبہ خیبرپختونخوا کی وزارتوں اور الخدمت فاو ¿نڈیشن کی بے مثال کارکردگی کی صورت میں ثابت کرچکی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں