رقص

تم بارش کو اپنا ساتھی قرار دے کر
اس کے ساتھ رقص کرنے لگتی ہو
تم رقص میں بھیگ جاتی ہو
اور چاہتی ہو کہ بارش تمہارے ساتھ یونہی جھومتی رہے
مگر تم جانتی ہو دنیا کی ہر شے عارضی ہے
تو تم اچانک رُک جاتی ہو
اور پھر بھاگنے لگتی ہو جیسے
کوئی تھراپی سے بھاگ جاتا ہے
جیسے کوئی اس سوال سے بھاگ جاتا ہے
‘اب کیسا محسوس کر رہے ہو؟’
تم بھاگنے لگتی ہو
جیسے تمہیں اولمپکس میں کوئی مڈل مل جائے گا
تم بھاگنے لگتی ہو
جیسے تم ایک ٹائم بم ہو جسے آبادی سے دور جا کر پھینک دینا چاہیے
تم گاڑی کی طرح بھاگنے لگتی ہو
جس کے ڈرائیور کو کہیں جانے کی جلدی ہو
تم ایک گِرے ہوئے پُل پر سے ایسے گزرتی ہو
کہ جیسے وہ کبھی گِرا ہی نہ تھا
تم سمندر پار کرتی ہو
جیسے تم کوئی کشتی ہو
مگر پھر تمہیں یاد آجاتا ہے کہ سمندر دراصل بارش ہے
تو تم اس کی بانہوں میں بانہیں ڈال کر اس کے ساتھ رقص کرنے لگتی ہو۔۔۔۔

نسیم خان

اپنا تبصرہ بھیجیں