کالج کی سائیکل سوار پرنسپل !

ایم اے او کالج لاہور کی نئی پرنسپل ڈاکٹر عالیہ رحمان کے بارے میں تو میں بعد میں بات کروں گا پہلے اس شرمندگی کا اظہار تو کر لوں کہ گزشتہ روز میں نے اپنا کالم خود لکھنے کی بجائے دو مزاح پارے جو مجھے فیس بک پر نظر آئے تھے اور جن پر مصنف کا نام نہیں بلکہ صرف ’’منقول‘‘ درج تھا میں نے ’’منقول‘‘ لکھ کر ہی ’’اپنے‘‘ کالم میں درج کر دیئے تھے، جس پر مجھے جو اد شیرازی کافون آیا کہ جناب اس منقول کا نام حماد غزنوی ہے اور ان کا یہ کالم کئی روز بیشتر جنگ میں شائع ہو چکا ہے مجھے زیادہ شرمندگی اس بات پر محسوس ہوئی کہ میں تو حماد غزنوی کا مداح ہوں اور ان کی کوئی تحریر کبھی مجھ سے مس نہیں ہوئی اس قدر خوبصورت تحریر کیسے مس ہو گئی بس حافظہ خراب ہو گیا ہے اور حافظے کی اس خرابی کے حوالے سے جو ایک باکمال حصہ ہے وہ میں صرف حماد غزنوی ہی کو سنا سکتا ہوں ۔
اور اب آتے ہیں ایم اے او کالج کی پرنسپل عالیہ رحمان ساجد کی طرف ۔ایم اے او کالج سے میرا رشتہ بہت پرانا ہے میں نے اس کالج سے بی اے کیا اور پھر ربع صدی تک بطور استاد اپنے طالب علموں کی ایسی تربیت کی کہ تعلیم سے فراغت کے بعد ان کی اکثریت نے کسی پیشے کو حقارت کی نظروں سے نہیں دیکھا کہ انہیں علم تھا کہ محنت میں عزت ہے ،میں جس زمانے میں یہاں طالب علم تھا اور پھر ’’استاد محترم‘‘ کسی لڑکی نے اس تعلیم گاہ میں داخلہ تو لیناکجا اس کے قریب سے بھی نہیں گزرتی تھی چنانچہ طلبا تبدیلی آب وہوا کے لئے کالج کے بالمقابل واقعہ لیڈی میکلیگن کالج کے گردونواح میں نظر آتے تھے، تمہید کچھ لمبی ہو گئی قصہ مختصر میں ایک روز اپنے اس کالج کی ایک تقریب میں بطور مہمان خصوصی مدعو کیا گیا تو کالج کے گیٹ میں داخل ہوتے ہی مجھے شک گزرا کہ میں غلطی سے لیڈی میکلیگن کالج آ گیا ہوں کہ ہر طرف لڑکیوں کےجمگھٹے لگے تھے میں واپس جانے کو تھا کہ ڈاکٹر جواد جعفری جو میرے منتظر تھے میرے پاس آئے اور خوش آمدید کہتے ہوئے تقریب گاہ میں لے گئے جہاں طلبا اور طالبات کی ایک بڑی تعداد جمع تھی گویا اب ایم اے او کالج میں مخلوط تعلیم کا دور دورہ تھا اور مجھے یقین ہے کہ اب طلبا اس خوشگوار ماحول میں ایک دوسرے سے نوٹس بھی ایکسچینج کرتے ہوں گے اور یوں علم کی اس فراوانی سے ان کے ذہن کے مزید دریچے کھل رہے ہوں گے ۔
اور اب واپس آ جاتے ہیں ڈاکٹر عالیہ رحمان کی طرف ایک خوشی تو یہ خبر سن کر ہوئی کہ ہمارے مردانہ معاشرے میں عورت کوعزت ،تکریم اور اس کا حق ملنا شروع ہو گیا ہے اور ہم فرسودہ خیالات کو خیرباد کہنا شروع ہو گئے ہیں ،تاہم یہ کوئی تازہ ترین صورتحال نہیں!ہمارا سفر اپنی کشادگی کی طرف تیزی سے رواں دواں ہے مجھے زبردست حیرت اس بات پر ہوئی کہ اتنے بڑے کالج کی پرنسپل اور خاتون ہونے کے باوجود وہ سائیکل پر کالج آتی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس کے نتیجے میں وہ خود کو پہلے سے زیادہ چاق وچوبند محسوس کرنے لگی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بہت کم لوگ حیرت سے ان کی طرف دیکھتے ہیں اور کچھ لوگ تو اپنا انگوٹھا کھڑا کرکے داد کا انداز بھی اپناتے ہیں۔مجھے اپنے دور کے پرنسپل اور ملک کی نامور شخصیت ڈاکٹر دلاورحسین یاد آگئے وہ بہت بھاری بھرکم تھے اور وہ بھی سائیکل پر کالج آیا کرتے تھے بس اتنا تھا کہ کسی تانگے یا ریڑھے کا جو حصہ ان کے ہاتھ لگتا تھا اسے پکڑ لیتے اور پیڈل مارنا بند کر دیتے، ہم لڑکے ’’تبدیلی آب وہوا‘‘ کے لئے کالج سے باہر کھڑے ہوتے ڈاکٹر صاحب ہمیں دور ہی سے پچکارنا شروع کر دیتے ’’میرے بیٹے میرے استقبال کے لئے کھڑے ہیں کتنے اچھے بچے ہیں ‘‘چنانچہ ان کے اس محبت بھرے رویے سے ہم بھاگنے کی بجائے وہیں کھڑے رہتے وہ ہمارے قریب پہنچ کر سائیکل سے اترتے اور گرجدار آواز میں کہتے ’’خبردار اگر کوئی یہاں سے ہلا اپنے رول نمبر لکھوائو‘‘ دراصل انہیں علم تھا کہ ’’تبدیلی آب وہوا ‘‘ کے پیش نظر کیا ہے کہ لیڈی میکلیگن کی پرنسپل اکثر ان سے شکایت کرتی تھیں، تاہم ڈاکٹرصاحب انہیں یہی کہتے ’’میرے برخوردار ایسے نہیں ہیں‘‘
اب سائیکل کی بات چلی ہے تو اس دور میں گورنمنٹ کالج کے درویش پرنسپل ڈاکٹر نذیر احمد بھی سائیکل پر کالج آیا کرتے تھے بہت سے ادیب اور نامور لوگ بھی سائیکل کی سواری کو کسر شان نہیں سمجھتے تھے میرے بہت پیارے دوست اور نامور نقاد ڈاکٹر سلیم اختر کو تو اپنی سائیکل سے عشق تھا چنانچہ وہ اسے اس کی اصلی شکل میں رکھنے کیلئے کبھی اس کا کوئی پرزہ ٹھیک نہیں کراتے تھے ،بہرحال ایم اے او کالج کی پرنسپل ڈاکٹر عالیہ رحمان نے سائیکل سواری کے لحاظ سے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے ۔ انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں یہ پرانی رسم ہے اس کی بجائے انہیں چاہئے کہ وہ خود اپنے دوستوں کو چائے پر مدعو کریں اور انہیں سائیکل سواری کے فوائد پر لیکچر دیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں