زرداری اور الیکشن وہ جو پیا مَن بھائے!

بات صرف آصف علی زرداری کی اسکِل اور اسٹرینتھ کے فرق ہی کی نہیں ، معاملہ دلہن وہ جو پیا من بھائے والا بھی ہے! کچھ سمجھنے، سوچنے اور جاننے کے بعد یوں بھی کہتے ہیں ” جسے پیا چاہے، وہی سہاگن، کیا سانوری کیا گوری”۔ گویا ہمارے ہاں الیکشن ضروری بھی ہیں اور مجبوری بھی۔ ضروری اس لئے کہ آئین کی اشک شوئی مقدم ہے اور مجبوری اس لئے کہ پیا کا روٹھنا مقصود ہے نہ مطلوب۔
اگر کسی کو الیکشن 2002 اور 1997 کے نتائج یاد ہوں تو معاملہ کچھ یوں تھا: مسلم لیگ نواز کی 2002 میں قومی اسمبلی کی19 نشستیں تھیں اور اس سے قبل 1997 میں 137 تھیں ۔ اب اسے کیا کہیں گے اقتدار کو ٹوِسٹ دی جاتی ہے یا نظریاتی بھونچال اس قدر شدید ہوتا ہے کہ زمین آسمان کا فرق پڑ جائے؟ یہ بھی ذہن نشین رہے پیپلزپارٹی کی 1997صرف 18 تھیں، اس الیکشن سے پہلے وہ اقتدار میں تھی۔

ایک الیکشن 1990 کابھی تھا جب 1988 کے اقتدار کے بعد پیپلز پارٹی (پی ڈی اے) 94 سے 44 نشستوں پر آکھڑی ہوئی جبکہ مسلم لیگ ( آئی جے آئی) 56 سے 106 پر چلی گئی…یہاں مسلم لیگ قاف اور تحریکِ انصاف کا ذکر خیر بھی ضروری ہے۔ قاف الیکشن 2002 کے لئے کشید ہوتی ہے 105 سیٹیں لیتی ہے اور پھر اس کی کشیدہ کاری کے تلوں میں تیل نہیں رہتا۔ پھر 92 کے کرکٹ ورلڈ کپ کا ہیرو اپنے ہم عصروں اور ہم عمروں کو متاثر نہیں کر پاتا، 1994 تا 2008 تک کسی کو عمران خان ہیرو نظر آیا نہ مجاہد، اور نہ امید۔ 2010 سے اس پروجیکٹ پر کام شروع ہوتا ہے اور 2013 تک اسے آخری امید کے طور پر “چوروں ڈاکوؤں” کے مقابل مہاتما بناکر کھڑا کردیا جاتا ہے اور 2018 میں صاحبِ اقتدار بھی ہو جاتے ہیں، گویا پنجاب اور کے پی میں قاف لیگ ، جماعت اسلامی اور آدھی پیپلزپارٹی کا صفایا کر دیتے ہیں، کسی حد تک مسلم لیگ نواز کا بھی۔
ماضی کی اس جھلک اور اعدادوشمار سے اہلِ نظر کو پاکستانی ” انقلابوں اور انقلابیوں” کی ساری سمجھ آ جاتی ہے، اور بخوبی جان جاتے ہیں : ہمارے ہاں الیکشن ضروری بھی ہیں اور مجبوری بھی۔ ضروری اس لئے کہ آئین کی اشک شوئی مقدم ہے اور مجبوری اس لئے کہ پیا کا روٹھنا مقصود ہے نہ مطلوب !
فقیر نے یہ سارا منظر اس لئے دکھایا ہے کہ تحریکِ عدمِ اعتماد کی کامیابی اور پی ڈی ایم کی کامرانی کا ایک پیش منظر تو ابھی کسی لکھاری، مداری، کھلاڑی یا سیاست کاری کو نہیں بھولا ہوگا کہ کون کدھر اور کیسے گیا، کس کو کس نے وزیراعظم اور وزیر داخلہ کی امید اور نوید دی۔ آخر اُس پیش منظر کا پس منظر بھی یاد ہے کہ نہیں ؟ بہرحال، وہ، آصف علی زرداری بھولنے والی شے ہیں نہیں، آج کل خاموش ضرور ہیں۔ یہاں احمد مشتاق کی یہ بات بھلی لگی : ہم ان کو سوچ میں گم دیکھ کر واپس چلے آئے / وہ اپنے دھیان میں بیٹھے ہوئے اچھے لگے ہم کو ۔ مخالف کے لئے بھی مردِ حُر ، دشمن نظر کی مفاہمت کے شہنشاہ ، دلبری والوں کیلئے سب پر بھاری اور مشکل مرحلے کے پاکستان کھپے کیلئے لگتا ہے تجویز کنندہ و ترتیب کنندہ نے ایک بار پھر سندھ ہی کی گوشہ نشینی کا قرعہ نکالا ہے؟ سوچ کے ساحل پر کھڑے جب خاموش سمندر پر کان دھرے تو لہروں نے ہمیں فیض احمد فیض کے لفظوں میں کہا کہ “دوستو اس چشم و لب کی کچھ کہو جس کے بغیر / گلستاں کی بات رنگیں ہے نہ مے خانے کا نام”
فقیر اکثر یہ سوچتا ہے کہ کتنے مہان ہیں ہمارے “جمہوریت پسند” انہیں زرداری کبھی عیدوں پر یاد نہیں آیا اور محرم میں بھولا نہیں! اے اَہلِ جوہر یہ یاد تو ہوگا 2017 میں زوال مول لینے سے پہلے کبھی زرداری نے کہا تھا کہ چھوڑو عدالت آؤ اسمبلی میں لیتے ہیں پانامہ کا مزا مگر اہل چمن نے دھیان نہ دیا۔ خیر پاکستان میں معروف ہے کہ آصف علی زرداری مقبول ہے نہ قبول مگر سیاست کا گُرو ہے اور آئین فہم بھی۔ جی کرتا ہے ان احباب کو بتلائیں کہ جسے “وہ” قبول یا ناقابِلِ قبول کہیں ہیں اسے مقبول اور غیر مقبول کرانے میں اُنہیں چند “گھڑیاں” کافی ہیں۔ یہ یار پر منحصر ہے کہ کون مزاج یار کی کسوٹی پر پورا اترے۔ ذرا سوچئے، کون ہے جو آئین کی چشم پوشی اپنائے رکھنے میں عزم کی تقویت سمجھتا ہے، وہ کیوں چاہے گا کہ کوئی زرداری کے قریب تر ہو اور جمہوریت کو قوت ملے ؟ انتخابات کی متذکرہ جھلک کو ذرا چشم بینا کی نذر کریں سارا کچا چٹھا کھول جائے گا کہ جسے پیا چاہے، وہی سہاگن، کیا سانوری کیا گوری !
جی کرتا ہے زرداری صاحب سے ایک سوال پوچھ ہی لوں۔جانے یہ کیوں لگتا ہے جب زردارانہ نظر 1990, 1997 اور 2013 میں اقتدار میں لائے جانے والوں کی تاریخ دیکھے گی، اور پھر یہ بھی بھانپے گی کہ لانے والے ہی نکالنے کا ہنر آزماتے ہیں، اور یہی کچھ لالے کی جان، کپتان سے ہوا کہ کھلایا کھلاڑی بنا کر اور نکالا اناڑی بنا کر سو یاالہٰی یہ ماجرا کیا ہے ؟ اگر بعد از انتخابات یہ سوال آصف علی زرداری اٹھاتے ہیں اور یوں اس سوال اٹھانے کی دانش اور پوچھنے کی سکت پر غور کروں، تو آنے والے انتخابات کے بعد کے منظر میں “یہ دانش اور یہ سکت” لیڈر لگتی ہے! ہو بھی سکتا ہے یہ لیڈری قبل از انتخابات بھی انگڑائی لے لے۔ پھر ایسے میں کیا ہوگا کیونکہ تحریک انصاف کے تو پر کاٹ کے اِنہی کے ہاتھ میں پکڑا دئیے گئے کہ اڑ سکیں نہ ہاتھ ہی ملا سکیں؟ جو بھی ہے، ایسے میں کون ہو جو جمہوریت کی وحشتوں کا ساتھی ہو ؟ وہ تو زرداری ہی ہوگا لیکن سوچنا یہ بھی پڑتا ہے کہ کپتان کہاں ہوگا ؟ کھلاڑی کی ڈگر پر یا اناڑی کی راہ پر ؟ کوئی کچھ بھی کہے، کچھ بھی لے یا کچھ بھی دے عادت اور میثاقِ جمہوریت کے بعد سے تا حال اقتدار جتنا بھی کم ملا مگر جمہوریت اور مفاہمت ہی نہیں سیاست کا جید کھلاڑی بھی زرداری ہی ہوا۔ اقتدار پائے نہ پائے، پیا مّن بھائے نہ بھائے، جمہوریت کا خواہاں، آئین کا ساماں اور مفاہمت کا باغباں اور اسکِل زرداری ہی کہلائے، لیکن “اسکِل” کے ساتھ “اسٹرینتھ” بھی ضروری ہے، جاناں !

زرداری اور الیکشن وہ جو پیا مَن بھائے!” ایک تبصرہ

  1. I see You’re in reality a just right webmaster. The site loading pace is incredible. It sort of feels that you are doing any unique trick. Also, the contents are masterwork. you’ve performed a magnificent task on this subject! Similar here: bezpieczne zakupy and also here: Zakupy online

اپنا تبصرہ بھیجیں