عجائبات

انسان جیسے جیسے زندگی کی منازل طے کرتا جاتا ہے۔ آئے روز کوئی نیا زاویہ ، کچھ نیا سیکھنے ، کچھ نیا دیکھنے،کو ملتا ہے۔ دنیا عجائبات سے بھری پڑی ہے۔ قدرت کے کچھ اپنے اصول ضابطے ہیں۔ جن پر پردہ پڑا ہوا ہے۔لیکن انسان کے ساتھ جو واقعہ رونما ہو چکا ہوتا ہےجو قلبی واردات ہو چکی ہوتی ہے اس کے پیچھے کیا حکمت ہوتی ہے ۔وقت کبھی کبھی اس کی گرہ کھول دیتا ہے اور کبھی دیکھو انتظار کرو کی پالیسی پر کاربند رہتا ہے۔
کتاب پڑھنے کا شوق بچپن سے تھا ایک کتاب مارکیٹ میں آئی جسے” بابو نگر” کہتے ہیں۔ دل سے آواز آئی کہ اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہئیے۔یہ آج سے تقریبا دس سال پرانی بات ہے۔ کتاب خریدی پڑھی اور کتاب کے مصنف کا نام ذہن میں اپنی ایک گہری چھاپ چھوڑ گیا۔اب پتہ نہیں قدرت کی کیا منشاء تھی کہ اچانک ان سے ٹاکرا ہو گیا۔ بابو نگر سے جڑتا ہوا یہ بندھن ، دعوت شیراز سے لطف اندوز ہوتا ہوا“آٹھواں عجوبہ”تک پہنچ چکا ہے۔
اور جب میں ماضی کی طرف جھانکتا ہوں تو سوچ میں پڑ جاتا ہوں کہ لکھاری کی کتاب پڑھنا پھر ان کا اچانک سے ملنا محض اتفاق نہیں تھا۔ اس میں قدرت کی کوئی نہ کوئی حکمت پو شیدہ تھی۔ ان سے ملاقات کے بعد جو مجھ میں تبدیلی رونما ہوئی وہ تھا لکھنے کا شوق اور یہ مجھے بتانے میں کوئی عارنہیں کہ لکھنے کی تحریک محترم جناب حسین احمد شیرازی سے “ حادثاتی” ملاقات کے بعد شروع ہوئی۔ (حادثہ بتانا ضروری نہیں)
میں ان کو یک طرفہ ایک طرح سے اپنا روحانی استاد مانتا ہوں۔
موجودہ دور میں سنجیدہ نثر تو سبھی لکھتے ہیں۔ لیکن طنزو مزاح میں حسین احمد شیرازی صاحب کا نام نمایاں ہے۔
ہر محب وطن ، اپنے ملک کی بہتری چاہتا ہے۔ سو حسین احمد شیرازی صاحب نے اپنے تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے اداروں کی تنزلی معاشرے کی گراوٹ کی تشخیص اچھے سے کی ہے۔ایسے جہاندیدہ لوگ اب خال خال نظر آتے ہیں۔ اب بھی وقت ہے کہ ایسے لوگ تھنک ٹینک میں شامل کئے جائیں۔ اور ان کی سفارشات پر عمل کیا جائے جس سے یقینا” ملک میں بہتری آئے گی۔
حسین احمد شیرازی صاحب کا طرز اسلوب بہت منفرد نثر کے ساتھ شاعری کا برمحل استعمال انہی کا خاصہ ہے۔ ان کو شاعری کا انسائیکلوپیڈیا کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ ایسی بات ایک شعر میں بیاں کر جاتے ہیں کہ سارا مضمون اس میں سمویا ہوتا ہے۔ یہ خداداد صلاحیت ہے۔
اب ان کی تیسری تصنیف آٹھواں عجوبہ مارکیٹ میں آچکی ہے۔ اسی طرح تیسری نسل کا کتاب سے رشتہ بھی کمزور ہو رہا ہے۔ ہم دعوت شیراز پر خرچہ تو کرتے رہتے ہیں پردعوت شیراز خرید کر پڑھنے میں بخل سے کام لیتے ہیں۔
اچھی کتاب سے بڑا کوئی دوست نہیں ہوتا۔ ہمیں اپنی نسل کو کتابوں کی طرف راغب کرنا ہو گا۔
ایک موقع پر میں نے اپنے محسن مربی جناب حسین احمد شیرازی صاحب کو کالم لکھنے پر اکسایا تو ایک لائن بولے کہ کالم کی زندگی ایک دن کی ہوتی ہے کتاب ہمیشہ کے لئے ہوتی ہے۔ ان کہ اس ارشاد سے ان کا کتاب لکھنے کا جنون واضح ہوتا ہے۔
ان کی تصنیف” آٹھواں عجوبہ”پڑھیں تو زندگی کے بہت سے نئے دریچوں سے واسطہ پڑتا ہے۔
کچھ مندرجات آپ کے گوش گزارتا ہوں آپ ایک جگہ رقم طراز ہیں کہ
(زندگی ایک معمہ یہ کسی دیوانے کا خواب ہے، کسی مجذوب کی بڑ ہے، کسی تپتے ہوئے صحرا کا سراب ہے، کسی بیمار کی رات ہے، کسی عاشق کا ہجر ہے، کسی سڑک پر پڑا ہوا پھٹے پرانے کاغذ کا ٹکڑا ہے، کسی سرکاری دفتر میں پڑی ہوئی بے آسرا شخص کی درخواست ہے، تیسری دنیا کے کسی۔۔۔۔۔۔۔)مزید پڑھنے کے لئے کتاب سے رجوع کرنا ہو گا۔
ایک جگہ آٹھواں عجوبہ کے باب میں کسی تحقیقی مطالعہ پر آئے امریکی کے الفاظ درج کرتے ہیں”شیرازی ڈئیر! میرے خیال میں تم لوگ دنیا کا آٹھواں عجوبہ ہو۔” یاد آیا وہ سیاست پر تحقیقی مقالے کے لئے آیا تھا۔اب جوں جوں اپنے گردوپیش پر نگاہ ڈالتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اس نے سچ کہا ہے
اسی طرح مقدر اور تقدیر، تدبیر کے موضوع پر لکھتے ہوئے ناگاساکی پر گرائے جانے والے ایٹم بم کی مثال دی کہ یہ جاپان کے شہر کوکرا پر گرایا جانا تھا۔ مقدر نے کوکرا کے لوگوں کو بچا لیا لیکن ناگا ساکی اس لپیٹ میں آگیا۔
آخری باب میں ماں کی عظمت کو جس طرح بیان کیا ہے موجودہ نسل کے لئے اس میں ایک پیغام پوشیدہ ہے” کہ ماں جی کے ساتھ ستر سال ساتھ گزارے سو اس ساتھ کی نوعیت یہ تھی کہ ہم ان کے پاس رہتے تھے”ہم سب کے لئے بہت بڑا سوالیہ نشان چھوڑ دیا کہ ہم اپنے والدین کے ساتھ کیسا رکھ رکھاؤ رکھتے ہیں۔یہ باب پڑھنے کے بعد دل سی اک ہوک سی اٹھی کہ
ماواں ٹھنڈیاں چھاواں
ٹر جاون تو ہو جاندیاں
نے ساوں اوکھیاں

عجائبات” ایک تبصرہ

  1. I see You’re really a just right webmaster. This web site loading speed is amazing. It kind of feels that you’re doing any unique trick. Moreover, the contents are masterwork. you have done a excellent job in this subject! Similar here: vistara.top and also here: E-commerce

اپنا تبصرہ بھیجیں