عورت مارچ اور پاک ہند سماج /افضال ریحان

عورت مارچ اور پاک ہند سماج ؟
عصر حاضر کی فکر ی و شعوری ترقی ہمہ گیر اور ہمہ پہلو ہے جس کی بنیاد منطق و استدلال اور انسان نوازی پر ہے، آپ کا عقیدہ یا مذہب کیا ہے ؟یہ آپ کا اور آپ کے معبود کا باہمی معاملہ ہے، سماج یا دیگر افراد کا اس سے کوئی واسطہ یا سروکار نہیں ہے اور ہونا بھی نہیں چاہئے ورنہ ایک سو ایک پیچیدگیاں اور مسائل جنم لیں گے۔
اکیسویں صدی کا انسانی شعور’’مساوات مرد وزن‘‘ سے آگے بڑھ کر ’’انسانی مساوات‘‘ کے نظریے کو بالفعل اپنا چکا ہے، آج کے مہذب سماج میں مذہبی، نسلی یا جنسی امتیازات و تعصبات اپنی تمام تر عصبیت کےساتھ تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔ یہ تہذیبی سربلندی محض مغرب، امریکہ یا یورپ کا ہی طرہ امتیاز نہیں رہی ،کئی مشرقی اقوام بھی اس میں پیش پیش ہیں۔ جاپان اور جنوبی کوریا کی مثالیں اپنی جگہ مگر درویش کو یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ ہندوستان جیسے ذات پات میں جکڑے ہوئے دقیانوس سماج میں یہ کتنا بڑا انقلاب ہے کہ انہوں نے پون صدی قبل اپنی اس نو آزاد جمہوریہ کو جو سیکولر پارلیمانی جمہوری آئین دیا ،وہ انسانی حقوق اور انسانی مساوات کے وسیع تر تصورات کے ساتھ ایک آئیڈیل آئین ہے، روایتی ہندو سماج میں اونچی اور نیچی جاتی کے جتنے بھی تعصبات ہیں مسلم شدت پسندی کے ردعمل میں ابھرنے والی جتنی بھی مذہبی منافرتیں ہیں آفریں ہے اس عظیم قوم کی قیادت پر کہ تمام تر عصبیت کے باوجودانسانی مساوات کے حوالوں سے اس قابل فحر آئین کا ایک بال بھی بیکا نہیں کیا جا سکا بلکہ ماضی میں اگر کوئی سہویا تجاوز ہو گیا تھا تو اس کی بھی درستی کر دی گئی ہے، کوئی مرد ہے یا عورت، شودر ہے یا برہمن بھارتی آئین سب کو ایک نظر سے دیکھتا ہے، یہ اسی آئین عظمت کا کرشمہ ہے کہ ڈھائی فیصد مذہبی اقلیت کا فرد ایک ارب تیس کروڑ کے انڈیا کا وزیر اعظم منتخب ہو کر برسوں عالمی برادری سے اپنی قوم کے معاملات طے کرتا دکھائی دیتا ہے بشمول خواتین اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے رہنماصدر جمہوریہ بن کر عالمی طاقتوں میں اپنے ملک کی نمائندگی کرتے ہیں۔
اس حقیقت سے بھی مفر ممکن نہیں کہ آج جمہوریت کی ماں برطانیہ کا پروزیراعظم ایک ہندورشی سونک ہے، ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی نائب صدر مذہباً ایک ہندوخاتون ہیں۔دوسری جانب ہمارے پاکستانی سماج میں جو ماشااللہ ستانوے فیصد مسلم اکثریت پر مشتمل ہے لیکن یہ کون سا خوف یا برتری کا تعصب ہے کہ ہم نے اپنے آئینی چہرے کو مذہبی وجنسی تنگنائوں اور منافرتوں سے داغدار کر رکھا ہے کسی بھی عہدےپر فائز ہونے والا ہمارا کوئی بھی لیڈر جب اپنی ذمہ داری کا حلف اٹھا رہا ہوتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ کسی مملکت یا ریاست نہیں کسی مذہبی فرقے کی ذمہ داری پر فائز ہو رہا ہے اور صدق دل سے اس کا محافظ بنا کھڑا رہے گا ورنہ فلاں مخالف فرقے والے اس کے مقدس نظریے کو کھا جائیں گے۔
ہمارے روایتی سماج میں آج بھی اس نوع کی بحثیں ہوتی ہیں کہ عورت کی حکمرانی جائز ہے یا ناجائز؟بارہا اخبارات میں اس نوع کے مطالبات آتے شائع کیے جاتے ہیں کہ فلاں فرقے کے لوگوں کو کلیدی عہدوں سے ہٹایا جائے۔ عورتوں کو فلاں شعبوں میں نہیں آنا چاہئے فلاں گیمز نہیں کھیلنی چاہئیں، یہ بحث ختم ہوتی ہے تو پردے اور حجاب کی بحث شروع ہو جاتی ہے۔ ہرسال 8مارچ کو عورتوں کے عالمی دن کے موقع پر جب عورت مارچ کی بات کی جاتی ہے تو سرکاری ذمہ داری پر فائز لوگ اسے امن وامان کا مسئلہ کہنا شروع کر دیتے ہیں، دوسری طرف ’’یوم حیا‘‘ کے نام پر جلوس نکلنا شروع ہو جاتے ہیں ۔ خواتین کے حقوق کی بات کرو تو جواب ملتا ہے کہ عورتوں کو جتنے حقوق ہم نے صدیوں سے دے رکھے ہیں نام نہاد مہذب دنیا تو ان کے پائوں کی گرد کو نہیں چھو سکتی۔ وراثت میں عورت کے ساتھ ہونے والی بے انصافی کی بات کرو تو جواب ملتا ہے کہ وہ تو باپ کے علاوہ خاوند کے مرنے پر بھی حصہ وصول کرتی ہے کتنا ؟آٹھواں حصہ!
عورت مرد کی باہمی رضامندی سے ایک معاہدہ یا عقد ہوتا ہے جسے توڑنے یا ختم کرنے کا حق ہمارے قانون نے یکطرفہ طور پر مرد کو تفویض کر رکھا ہے جب کہ کمزور فریق عورت کو یہ حق تفویض کرنے کی بجائے عدالتوں میں دھکے کھانے، وکیل کرنے اور منشیوں سے نئی تواریخ مانگنے کی راہ دکھائی جاتی ہےتاکہ وہ اپنے حق میں ڈگری لے سکے۔ مرنے والے کا صرف ایک بیٹا ہو تمام پراپرٹی اسے منتقل ہو جائے گی البتہ اگر اولاد نرینہ نہیں محض بیٹیاں ہوں چاہے دس بھی ہوںتوجائیداد پوری منتقل نہیں ہو سکتی کیوں کہ وہ مرد کی ہم سری نہیں کر سکتیں۔ سینے پر ہاتھ رکھ کر کہیے کیا خواتین سے کی جا رہی زیادتیوں کو ہمارے قوانین او رسماج میں تقدس حاصل نہیں ہے؟سماجی طور پر انڈیا میں بھی کچھ اسی نوع کے رویے رائج ضرور ہوں گے مگر لا آف لینڈ کمزور طبقات کی حمایت میں کھڑے ہوتا ہے اگر واقعی ہم میں حیا ہے تو پھر مرد و عورت کی مساوات یا انسانی مساوات میں ڈنڈی مارتے ہوئے ظلم و زیادتی کو کھل کر بے حیائی کا نام دیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں