ثریا عظیم کون تھیں؟

جب یہ خبر آئی کہ ثریا عظیم صاحبہ نے اپنا تعمیر کرایا ہوا ہسپتال جماعت اسلامی کے حوالے کرکے انہیں کہا ہے کہ وہ اسے چلائیں…. تو یہ ٹی ہاؤس میں بھی گفتگو کا موضوع بنی.
کچھ بزرگوں نے حیرت ظاہر کی کہ وہ تو کمیونسٹ تھی، کمیونسٹ پارٹی کی ممبر تھی. جماعت والوں کو کیوں دیا؟ کچھ دن میں محترمہ کے حوالے سے جواب آیا کہ وہ انسانوں کی بھلائی چاہتی ہیں، یہ ہسپتال بنایا ہے تو خواہش ہے کہ یہ چلتا رہے اور لوگوں کو اس سے فائدہ ہو، حکومت کے حوالے نہیں کرنا چاہتی تھی. جماعت والوں کا اس لیے خیال آیا کہ ان کا ایسے شفاخانے چلانے کا تجربہ ہے، پھر ایک منظم جماعت نگران ہوگی.

ثریا عظیم کے بارے میں اتنا معلوم ہوا کہ ان کا تعلق لاہور کی ککے زئی برادری سے تھا۔ وہ پاکستان کی پہلی خاتون مجسٹریٹ تھیں یا پھر اولیں خاتون مجسٹریٹس میں سے ایک . وہ ایک لائق اور درد دل رکھنے والی خاتون تھیں، چاہتی تھیں کہ معاشرے میں اونچ نیچ، غریبی، ناداری ختم ہو، سب کو آگے بڑھنے کا موقع ملے تو ان آئیڈیلز کی وجہ سے کمیونسٹ پارٹی سے منسلک ہوگئیں.
یہ زمین جس پر ثریا عظیم ہسپتال ہے، ان کی موروثی جائیداد تھی لیکن اس پر بدمعاش قابض تھے. یہ واگزار کرانے کیلئے انہیں طویل جدوجہد کرنا پڑی. قبضہ مل جانے کے بعد انہوں نے اپنی ساری جمع پونجی ہسپتال کی تعمیر پر لگادی.
ثریا عظیم کے شوہر میجر خورشید الزماں خان ہاکی کے قومی اولمپئین کھلاڑی رہے تھے. ۔اولاد نہیں تھی. ہسپتال فعال ہونے کے بعد میاں بیوی اس کے بیسمنٹ کے دو کمروں میں مقیم رہے اور کہا کہ ان کے بعد یہ کمرے بھی ہسپتال کیلئے استعمال کیے جائیں. ثریا عظیم نے 2004 میں وفات پائی ۔ اس کے بعد میجر خورشید اکثر ہسپتال کے بیرونی دروازے کے سامنے کرسی ڈالے بیٹھے نظر آتے۔ اب ان کا بھی انتقال ہوچکا ہے.

تنویر ظہور صاحب نے ثریا عظیم صاحبہ کا انٹرویو کیا تھا۔ انہوں نے اس کا تراشہ عنایت فرمایا ہے۔ ثریا عظیم صاحبہ نے انہیں بتایا کہ انہوں نے ایم اے سیاسیات اور ایل ایل بی کیا تھا، وکالت بھی کی۔ قومی اسمبلی کی خواتین کی مخصوص نشستوں پر امیدوار ہوئیں لیکن کامیاب نہ ہوسکیں۔ لاہور کے علاوہ ملتان میں بھی مجسٹریٹ تعینات رہیں، بورڈ آف ریونیو کی ڈائریکٹر بھی رہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک بار وہ سرکاری ہسپتال گئیں تو مریضوں اور لواحقین کی بے بسی دیکھ کر بہت دکھ ہوا۔ انہوں نےارادہ کرلیا کہ جب بھی وسائل مہیا ہوئے ، وہ ایسا ہسپتال بنائیں گی جس میں مفت علاج ہو۔ چوبرجی کے سامنے بہاولپور روڈ پر ان کی آٹھ کنال زمین تھی ، 1985 میں ان کے شوہر میجر خورشید الزماں خاں ریٹائر ہوئے تو انہوں نے ان کے ساتھ مل کر ہسپتال کی 9 منزلہ عمارت تعمیر کرانا شروع کی۔
ثریا عظیم صاحبہ نے کہا ، ان کی خوہش ہے کہ تعلیم یافتہ اور ایماندار لوگ اسمبلیوں میں آئیں اور ہم امریکہ اور دوسرے ملکوں کے دست نگر نہ ہوں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں