تم کہاں چلی اۤئیں؟

‏اِتنے چھوٹے کمرے میں
تم کہاں چلی اۤئیں؟
دیکھو کیسی حالت میں
یار لوگ رہتے ہیں
اتنے چھوٹے کمرے میں
چار لوگ رہتے ہیں
‏بھِیڑ ہے کتابوں کی
باس ہے شرابوں کی
دیکھو چَھت سے لٹکی ہیں
لاشیں کتنے خوابوں کی
‏اور یہ جو دیواریں
جن میں ہم مُقید ہیں
کان بھی نہیں رکھتیں
یہ ہماری سب باتیں
ہم کو ہی سُناتی ہیں
‏اور یہ جو تصویریں
ہم نے اِن پہ ٹانکی ہیں
یہ ہماری حالت پر
صرف مُسکراتی ہیں
یہ بیچاری تصویریں
شوخ رنگ ہیں جِن کے
پیراھن سلامت ہیں
‏سوچنے سے عاری ہیں
یہ ابھی کنواری ہیں
یہ کہاں سے سمجھیں گی
تار تار ہیں جذبے
سوچ سر بریدہ ہے
زندگی کا پیراھن
کس قدر دریدہ ہے
‏سگریٹوں کے چند ٹکڑے
تاش کے وہی پتے
جام کی وہی بوتل
تین چار تصویریں
دَور پھر کتابوں کا
ہجر کے عذابوں کا
روز قتل خوابوں کا
‏وہ بھی ایک کمرے میں
وہ بھی اتنا چھوٹا سا
جیسے جیل کا کمرہ
زندگی کی پٹڑی پر
جیسے ریل کا کمرہ
‏ریل کے مسافر سے
اتنے چھوٹے کمرے میں
بات کیسے کر لو گی
شور میں، شرابوں میں
رات کیسے کر لو گی
‏اتنے چھوٹے کمرے میں
لڑکیاں نہیں اۤتیں
اتنے چھوٹے کمرے میں
تم کہاں چلی اۤئیں؟؟

توقیر گیلانی

اپنا تبصرہ بھیجیں