امام علی المرتضی صلوٰۃ کی وصیت

نہج البلاغہ مکتوب 31

*صفین سے پلٹتے ہوئے جب مقام ’’حاضرین‘‘ میں منزل کی تو امام حسن علیہ السلام کیلئے یہ وصیت نامہ تحریر فرمایا:*

👈 یہ وصیت ہے اس باپ کی جو فنا ہونے والا اور زمانہ (کی چیرہ دستیوں) کا اقرار کرنے والا ہے، جس کی عمر پیٹھ پھرائے ہوئے ہے اور جو زمانہ (کی سختیوں) سے لاچار ہے اور دنیا کی برائیوں کو محسوس کر چکا ہے اور مرنے والوں کے گھروں میں مقیم اور کل کو یہاں سے رخت سفر باندھ لینے والا ہے، اس بیٹے کے نام جو نہ ملنے والی بات کا آرزو مند، جادۂ عدم کا راہ سپار، بیماریوں کا ہدف، زمانہ کے ہاتھ گروی، مصیبتوں کا نشانہ ،دنیا کا پابند اور اس کی فریب کاریوں کا تاجر، موت کا قرض دار، اَجل کا قیدی، غموں کا حلیف، حزن و ملال کا ساتھی، آفتوں میں مبتلا، نفس سے عاجز اور مرنے والوں کا جانشین ہے۔

👈 اما بعد! تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ میں نے دنیا کی رو گردانی، زمانہ کی منہ زوری اور آخرت کی پیش قدمی سے جو حقیقت پہچانی ہے، وہ اس امر کیلئے کافی ہے کہ مجھے دوسرے تذکروں اور اپنی فکر کے علاوہ دوسری کوئی فکر نہ ہو، مگر اسی وقت جبکہ دوسروں کے فکر و اندیشہ کو چھوڑ کر میں اپنی ہی دھن میں کھویا ہوا تھا اور میری عقل و بصیرت نے مجھے خواہشوں سے منحرف و روگردان کر دیا اور میرا معاملہ کھل کر میرے سامنے آ گیا اور مجھے واقعی حقیقت اور بے لاگ صداقت تک پہنچا دیا۔

👈 میں نے دیکھا کہ تم میرا ہی ایک ٹکڑا ہو، بلکہ جو میں ہوں وہی تم ہو، یہاں تک کہ اگر تم پر کوئی آفت آئے تو گویا مجھ پر آئی ہے اور تمہیں موت آئے تو گویا مجھے آئی ہے، اس سے مجھے تمہارا اتنا ہی خیال ہوا جتنا اپنا ہو سکتا ہے، لہٰذا میں نے یہ وصیت نامہ تمہاری راہنمائی میں اسے معین سمجھتے ہوئے تحریر کیا ہے، خواہ اس کے بعد میں زندہ رہوں یا دنیا سے اُٹھ جاؤں۔

👈 میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ اللہ سے ڈرتے رہنا، اس کے احکام کی پابندی کرنا، اس کے ذکر سے قلب کو آباد رکھنا اور اسی کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہنا، تمہارے اور اللہ کے درمیان جو رشتہ ہے اس سے زیادہ مضبوط رشتہ ہو بھی کیا سکتا ہے؟ بشرطیکہ مضبوطی سے اسے تھامے رہو۔

👈 وعظ و پند سے دل کو زندہ رکھنا اور زُہد سے اس کی خواہشوں کو مُردہ، یقین سے اُسے سہارا دینا اور حکمت سے اسے پُر نور بنانا، موت کی یاد سے اُسے قابو میں کرنا، فنا کے اقرار پر اُسے ٹھہرانا، دنیا کے حادثے اس کے سامنے لانا، گردش روزگار سے اسے ڈرانا، گزرے ہوؤں کے واقعات اس کے سامنے رکھنا، تمہارے پہلے والے لوگوں پر جو بیتی ہے اُسے یاد دلانا، ان کے گھروں اور کھنڈروں میں چلنا پھرنا اور دیکھنا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا، کہاں سے کوچ کیا، کہاں اترے اور کہاں ٹھہرے ہیں؟ دیکھو گے تو تمہیں صاف نظر آئے گا کہ وہ دوستوں سے منہ موڑ کر چل دئیے ہیں اور پردیس کے گھر میں جا کر اترے ہیں اور وہ وقت دور نہیں کہ تمہارا شمار بھی ان میں ہونے لگے۔

👈 لہٰذا اپنی اصل منزل کا انتظام کرو اور اپنی آخرت کا دنیا سے سودا نہ کرو، جو چیز جانتے نہیں ہو اس کے متعلق بات نہ کرو اور جس چیز کا تم سے تعلق نہیں ہے اس کے بارے میں زبان نہ ہلاؤ، جس راہ میں بھٹک جانے کا اندیشہ ہو اس راہ میں قدم نہ اٹھاؤ، کیونکہ بھٹکنے کی سرگردانیاں دیکھ کر قدم روک لینا خطرات مول لینے سے بہتر ہے۔

👈 نیکی کی تلقین کرو تاکہ خود بھی اہل خیر میں محسوب ہو، ہاتھ اور زبان کے ذریعہ برائی کو روکتے رہو، جہاں تک ہو سکے بُروں سے الگ رہو، خدا کی راہ میں جہاد کا حق ادا کرو اور اس کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا اثر نہ لو، حق جہاں ہو سختیوں میں پھاند کر اس تک پہنچ جاؤ، دین میں سُوجھ بوجھ پیدا کرو، سختیوں کو جھیل لے جانے کے خوگر بنو، حق کی راہ میں صبر و شکیبائی بہترین سیرت ہے، ہر معاملہ میں اپنے کو اللہ کے حوالے کر دو، کیونکہ ایسا کرنے سے تم اپنے کو ایک مضبوط پناہ گاہ اور قوی محافظ کے سپرد کر دو گے۔ صرف اپنے پروردگار سے سوال کرو، کیونکہ دینا اور نہ دینا بس اسی کے اختیار میں ہے، زیادہ سے زیادہ اپنے اللہ سے بھلائی کے طالب ہو۔

👈 میری وصیت کو سمجھو اور اس سے روگردانی نہ کرو۔ اچھی بات وہی ہے جو فائدہ دے اور اس علم میں کوئی بھلائی نہیں جو فائدہ رساں نہ ہو اور جس علم کا سیکھنا سزا وار نہ ہو اس سے کوئی فائدہ بھی نہیں اٹھایا جا سکتا۔

👈 اے فرزند! جب میں نے دیکھا کہ کافی عمر تک پہنچ چکا ہوں اور دن بدن ضعف بڑھتا جا رہا ہے تو میں نے وصیت کرنے میں جلدی کی اور اس میں کچھ اہم مضامین درج کئے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ موت میری طرف سبقت کر جائے اور دل کی بات دل ہی میں رہ جائے یا بدن کی طرح عقل و رائے بھی کمزور پڑ جائے یا وصیت سے پہلے ہی تم پر کچھ خواہشات کا تسلط ہو جائے یا دنیا کے جھمیلے تمہیں گھیر لیں کہ تم بھڑک اٹھنے والے مُنہ زور اونٹ کی طرح ہو جاؤ، کیونکہ کمسن کا دل اس خالی زمین کی مانند ہوتا ہے، جس میں جو بیج ڈالا جاتا ہے اسے قبول کر لیتی ہے، لہٰذا قبل اس کے کہ تمہارا دل سخت ہو جائے اور تمہارا ذہن دوسری باتوں میں لگ جائے میں نے تعلیم دینے کیلئے قدم اٹھایا، تاکہ تم عقل سلیم کے ذریعہ ان چیزوں کے قبول کرنے کیلئے آمادہ ہو جاؤ کہ جن کی آزمائش اور تجربہ کی زحمت سے تجربہ کاروں نے تمہیں بچا لیا ہے، اس طرح تم تلاش کی زحمت سے مستغنی اور تجربہ کی کلفتوں سے آسودہ ہو جاؤ گے اور تجربہ و علم کی وہ باتیں (بے تعب و مشقت) تم تک پہنچ رہی ہیں کہ جن پر ہم مطلع ہوئے اور پھر وہ چیزیں بھی اجاگر ہو کر تمہارے سامنے آ رہی ہیں کہ جن میں سے کچھ ممکن ہے ہماری نظروں سے اوجھل ہو گئی ہوں۔

👈 اے فرزند! اگرچہ میں نے اتنی عمر نہیں پائی جتنی اگلے لوگوں کی ہوا کرتی تھیں، پھر بھی میں نے ان کی کار گزاریوں کو دیکھا، ان کے حالات و واقعات میں غور کیا اور ان کے چھوڑے ہوئے نشانات میں سیر و سیاحت کی، یہاں تک کہ گویا میں بھی انہی میں کا ایک ہو چکا ہوں، بلکہ ان سب کے حالات و معلومات جو مجھ تک پہنچ گئے ہیں ان کی وجہ سے ایسا ہے کہ گویا میں نے ان کے اوّل سے لے کر آخر تک کے ساتھ زندگی گزاری ہے، چنانچہ میں نے صاف کو گدلے اور نفع کو نقصان سے الگ کر کے پہچان لیا ہے اور اب سب کا نچوڑ تمہارے لئے مخصوص کر رہا ہوں۔ اور میں نے خوبیوں کو چُن چُن کر تمہارے لئے سمیٹ دیا ہے اور بے معنی چیزوں کو تم سے جدا رکھا ہے اور چونکہ مجھے تمہاری ہر بات کا اتنا ہی خیال ہے جتنا ایک شفیق باپ کو ہونا چاہیے اور تمہاری اخلاقی تربیت بھی پیشِ نظر ہے، لہٰذا مناسب سمجھا ہے کہ یہ تعلیم و تربیت اس حالت میں ہو کہ تم نو عمر اور بساط دہر پر تازہ وارد ہو اور تمہاری نیت کھری اور نفس پاکیزہ ہے۔

👈 اور میں نے چاہا تھا کہ پہلے کتابِ خدا، احکام شرع اور حلال و حرام کی تعلیم دوں اور اس کے علاوہ دوسری چیزوں کا رخ نہ کروں، لیکن یہ اندیشہ پیدا ہوا کہ کہیں وُہ چیزیں جن میں لوگوں کے عقائد اور مذہبی خیالات میں اختلاف ہے تم پر اسی طرح مشتبہ نہ ہو جائیں جیسے ان پر مشتبہ ہو گئی ہیں، باوجودیکہ ان غلط عقائد کا تذکرہ تم سے مجھے ناپسند تھا، مگر اس پہلو کو مضبوط کر دینا تمہارے لئے مجھے بہتر معلوم ہوا، اس سے کہ تمہیں ایسی صورت حال کے سپرد کر دوں جس میں مجھے تمہارے لئے ہلاکت و تباہی کا خطرہ ہے اور میں اُمید کرتا ہوں کہ اللہ تمہیں ہدایت کی توفیق دے گا اور صحیح راستے کی راہنمائی کرے گا، ان وجوہ سے تمہیں یہ وصیت نامہ لکھتا ہوں:

👈 بیٹا یاد رکھو کہ میری اس وصیت سے جن چیزوں کی تمہیں پابندی کرنا ہے ان میں سب سے زیادہ میری نظر میں جس چیز کی اہمیت ہے وہ اللہ کا تقویٰ ہے اور یہ کہ جو فرائض اللہ کی طرف سے تم پر عائد ہیں ان پر اکتفا کرو اور جس راہ پر تمہارے آبا و اجداد اور تمہارے گھرانے کے افراد چلتے رہے ہیں اسی پر چلتے رہو، کیونکہ جس طرح تم اپنے لئے نظر و فکر کر سکتے ہو انہوں نے اس نظر و فکر میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی، مگر انتہائی غور و فکر نے بھی ان کو اسی نتیجہ تک پہنچایا کہ جو انہیں اپنے فرائض معلوم ہوں ان پر اکتفا کریں اور غیر متعلق چیزوں سے قدم روک لیں، لیکن اگر تمہارا نفس اس کیلئے تیار نہ ہو کہ بغیر ذاتی تحقیق سے علم حاصل کئے ہوئے جس طرح انہوں نے حاصل کیا تھا، ان باتوں کو قبول کرے تو بہرحال یہ لازم ہے کہ تمہارے طلب کا انداز سیکھنے اور سمجھنے کا ہو، نہ شبہات میں پھاند پڑنے اور بحث و نزاع میں اُلجھنے کا۔

👈 اور اس فکر و نظر کو شروع کرنے سے پہلے اللہ سے مدد کے خواستگار ہو، اور اس سے توفیق و تائید کی دُعا کرو اور ہر اس وہم کے شائبہ سے اپنا دامن بچاؤ کہ جو تمہیں شُبہ میں ڈال دے، یا گمراہی میں چھوڑ دے۔ اور جب یہ یقین ہو جائے کہ اب تمہارا دل صاف ہو گیا ہے اور اس میں اثر لینے کی صلاحیت پیدا ہو گئی ہے اور ذہن پورے طور پر یکسوئی کے ساتھ تیار ہے اور تمہارا ذوق و شوق ایک نقطہ پر جم گیا ہے تو پھر ان مسائل پر غور کرو جو میں نے تمہارے سامنے بیان کئے ہیں، لیکن تمہارے حسب ِمنشا دل کی یکسوئی اور نظر و فکر کی آسودگی حاصل نہیں ہوئی ہے تو سمجھ لو کہ تم ابھی اس وادی میں شب کور اونٹنی کی طرح ہاتھ پیر مار رہے ہو اور جو دین (کی حقیقت) کا طلب گار ہو وہ تاریکی میں ہاتھ پاؤں نہیں مارتا اور نہ خلط مبحث کرتا ہے، اس حالت میں اس وادی میں قدم نہ رکھنا بہتر ہے۔

👈 اب اے فرزند! میری وصیت کو سمجھو اور یہ یقین رکھو کہ جس کے ہاتھ میں موت ہے اسی کے ہاتھ میں زندگی بھی ہے اور جو پیدا کرنے والا ہے وہی مارنے والا بھی ہے اور جو نیست و نابود کرنے والا ہے وہی دوبارہ پلٹانے والا بھی ہے اور جو بیمار کر ڈالنے والا ہے وہ ہی صحت عطا کرنے والا بھی ہے اور بہرحال دنیا کا نظام وہی رہے گا جو اللہ نے اس کیلئے مقرر کر دیا ہے، نعمتوں کا دینا، ابتلا و آزمائش میں ڈالنا اور آخرت میں جزا دینا یا وہ کہ جو اس کی مشیت میں گزر چکا ہے اور ہم اُسے نہیں جانتے تو جو چیز اس میں تمہاری سمجھ میں نہ آئے، تو اسے اپنی لاعلمی پر محمول کرو، کیونکہ جب تم پہلے پہل پیدا ہوئے تھے، تو کچھ نہ جانتے تھے بعد میں تمہیں سکھایا گیا اور ابھی کتنی ہی ایسی چیزیں ہیں کہ جن سے تم بے خبر ہو کہ ان میں پہلے تمہارا ذہن پریشان ہوتا ہے اور نظر بھٹکتی ہے اور پھر انہیں جان لیتے ہو، لہٰذا اُسی کا دامن تھامو، جس نے تمہیں پیدا کیا اور رزق دیا اور ٹھیک ٹھاک بنایا، اُسی کی بس پرستش کرو، اسی کی طلب ہو، اسی کا ڈر ہو۔

👈 اے فرزند! تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ کسی ایک نے بھی اللہ سبحانہ کی تعلیمات کو ایسا پیش نہیں کیا جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے، لہٰذا ان کو بطیب خاطر اپنا پیشوا اور نجات کا رہبر مانو، میں نے تمہیں نصیحت کرنے میں کوئی کمی نہیں کی اور تم کوشش کے باوجود اپنے سود و بہبود پر اس حد تک نظر نہیں کر سکتے جس تک میں تمہارے لئے سوچ سکتا ہوں۔

👈 اے فرزند! یقین کرو کہ اگر تمہارے پروردگار کا کوئی شریک ہوتا تو اس کے بھی رسول آتے اور اس کی سلطنت و فرمانروائی کے بھی آثار دکھائی دیتے اور اس کے افعال و صفات بھی کچھ معلوم ہوتے، مگر وہ ایک اکیلا خدا ہے، جیسا کہ اس نے خود بیان کیا ہے، اس کے ملک میں کوئی اس سے ٹکر نہیں لے سکتا، وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا، وہ بغیر کسی نکتہ آغاز کے تمام چیزوں سے پہلے ہے اور بغیر کسی انتہائی حد کے سب چیزوں کے بعد ہے، وہ اس سے بلند و بالا ہے کہ اس کی ربوبیت کا اثبات قلب یا نگاہ کے گھیرے میں آ جانے سے وابستہ ہو۔

👈 جب تم یہ جان چکے تو پھر عمل کرو ویسا جو تم ایسی مخلوق کو اپنی پست منزلت، کم مقدرت اور بڑھی ہوئی عاجزی اور اس کی اطاعت کی جستجو اور اس کی سزا کے خوف اور اس کی ناراضگی کے اندیشہ کے ساتھ اپنے پروردگار کی طرف بہت بڑی احتیاج کے ہوتے ہوئے کرنا چاہیے، اس نے تمہیں انہی چیزوں کا حکم دیا ہے جو اچھی ہیں اور انہی چیزوں سے منع کیا ہے جو بری ہیں۔

👈 اے فرزند! میں نے تمہیں دنیا اور اس کی حالت اور اس کی بے ثباتی و ناپائیداری سے خبردار کر دیا ہے اور آخرت اور آخرت والوں کیلئے جو سرو سامان عشرت مہیا ہے اس سے بھی آگاہ کر دیا ہے اور ان دونوں کی مثالیں بھی تمہارے سامنے پیش کرتا ہوں تا کہ ان سے عبرت حاصل کرو اور ان کے تقاضے پر عمل کرو۔

👈 جن لوگوں نے دنیا کو خوب سمجھ لیا ہے ان کی مثال ان مسافروں کی سی ہے جن کا قحط زدہ منزل سے دل اُچاٹ ہوا اور انہوں نے ایک سرسبز و شاداب مقام اور ایک تر و تازہ و پُر بہار جگہ کا رخ کیا تو انہوں نے راستے کی دشواریوں کو جھیلا، دوستوں کی جدائی برداشت کی، سفر کی صعوبتیں گوارا کیں اور کھانے کی بدمزگیوں پر صبر کیا تا کہ اپنی منزل کی پہنائی اور دائمی قرارگاہ تک پہنچ جائیں، اس مقصد کی دھن میں انہیں ان سب چیزوں سے کوئی تکلیف محسوس نہیں ہوتی اور جتنا بھی خرچ ہو جائے اس میں نقصان معلوم نہیں ہوتا، انہیں اب سب سے زیادہ وہی چیز مرغوب ہے جو انہیں منزل کے قریب اور مقصد سے نزدیک کر دے۔

👈 اور اس کے برخلاف ان لوگوں کی مثال جنہوں نے دنیا سے فریب کھایا ان لوگوں کی سی ہے جو ایک شاداب سبزہ زار میں ہوں اور وہاں سے وہ دل برداشتہ ہو جائیں اور اس جگہ کا رخ کر لیں جو خشک سالیوں سے تباہ ہو، ان کے نزدیک سخت ترین حادثہ یہ ہو گا کہ وہ موجودہ حالت کو چھوڑ کر اُدھر جائیں کہ جہاں انہیں اچانک پہنچنا ہے اور بہر صورت وہاں جانا ہے۔

👈 اے فرزند! اپنے اور دوسرے کے درمیان ہر معاملہ میں اپنی ذات کو میزان قرار دو، جو اپنے لئے پسند کرتے ہو وہی دوسروں کیلئے پسند کرو اور جو اپنے لئے نہیں چاہتے اُسے دوسروں کیلئے بھی نہ چاہو، جس طرح یہ چاہتے ہو کہ تم پر زیادتی نہ ہو یونہی دوسروں پر بھی زیادتی نہ کرو اور جس طرح یہ چاہتے ہو کہ تمہارے ساتھ حُسن سلوک ہو یونہی دوسروں کے ساتھ بھی حسنِ سلوک سے پیش آؤ، دوسروں کی جس چیز کو بُرا سمجھتے ہو اُسے اپنے میں بھی ہو تو بُرا سمجھو اور لوگوں کے ساتھ جو تمہارا رویہ ہو اسی رویہ کو اپنے لئے بھی درست سمجھو، جو بات نہیں جانتے اس کے بارے میں زبان نہ ہلاؤ، اگرچہ تمہاری معلومات کم ہوں، دوسروں کیلئے وہ بات نہ کہو جو اپنے لیے سُننا گوارا نہیں کرتے۔

👈 یاد رکھو کہ خود پسندی صحیح طریقہ کار کے خلاف اور عقل کی تباہی کا سبب ہے، روزی کمانے میں دوڑ دھوپ کرو اور دوسروں کے خزانچی نہ بنو اور اگر سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق تمہارے شاملِ حال ہو جائے تو انتہائی درجہ تک بس اپنے پروردگار کے سامنے تذلل اختیار کرو۔

👈 دیکھو! تمہارے سامنے ایک دشوار گزار اور دور دراز راستہ ہے جس کیلئے بہترین زاد کی تلاش اور بقدرِ کفایت توشہ کی فراہمی اس کے علاوہ سبکباری ضروری ہے، لہٰذا اپنی طاقت سے زیادہ اپنی پیٹھ پہ بوجھ نہ لادو کہ اس کا بار تمہارے لئے وبالِ جان بن جائے گا اور جب ایسے فاقہ کش لوگ مل جائیں کہ جو تمہارا توشہ اٹھا کر میدانِ حشر میں پہنچا دیں اور کل کو جبکہ تمہیں اس کی ضرورت پڑے گی تمہارے حوالے کر دیں تو اسے غنیمت جانو اور جتنا ہو سکے اس کی پشت پر رکھ دو، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ پھر تم ایسے شخص کو ڈھونڈو اور نہ پاؤ اور جو تمہاری دولت مندی کی حالت میں تم سے قرض مانگ رہا ہے اس وعدہ پر کہ تمہاری تنگ دستی کے وقت ادا کر دے گا تو اُسے غنیمت جانو۔

👈 یاد رکھو! تمہارے سامنے ایک دشوار گزار گھاٹی ہے جس میں ہلکا پھلکا آدمی گراں بار آدمی سے کہیں اچھی حالت میں ہو گا اور سست رفتار تیز قدم دوڑنے والے کی بہ نسبت بُری حالت میں ہو گا اور اس راہ میں لامحالہ تمہاری منزلت جنت ہو گی یا دوزخ، لہٰذا اترنے سے پہلے جگہ منتخب کر لو اور پڑاؤ ڈالنے سے پہلے اس جگہ کو ٹھیک ٹھاک کر لو، کیونکہ موت کے بعد خوشنودی حاصل کرنے کا موقع نہ ہو گا اور نہ دنیا کی طرف پلٹنے کی کوئی صورت ہو گی۔

👈 یقین رکھو کہ جس کے قبضہ قدرت میں آسمان و زمین کے خزانے ہیں اس نے تمہیں سوال کرنے کی اجازت دے رکھی ہے اور قبول کرنے کا ذمہ لیا ہے اور حکم دیا ہے کہ تم مانگو تاکہ وُہ دے، رحم کی درخواست کرو تاکہ وُہ رحم کرے، اس نے اپنے اور تمہارے درمیان دربان کھڑے نہیں کئے جو تمہیں روکتے ہوں، نہ تمہیں اس پر مجبور کیا ہے کہ تم کسی کو اس کے یہاں سفارش کیلئے لاؤ تب ہی کام ہو اور تم نے گناہ کئے ہوں تو اس نے تمہارے لئے توبہ کی گنجائش ختم نہیں کی ہے، نہ سزا دینے میں جلدی کی ہے اور نہ توبہ و انابت کے بعد وہ کبھی طعنہ دیتا ہے (کہ تم نے پہلے یہ کیا تھا، وہ کیا تھا)، نہ ایسے موقعوں پر اس نے تمہیں رسوا کیا کہ جہاں تمہیں رسوا ہی ہونا چاہیے تھا اور نہ اس نے توبہ کے قبول کرنے میں (کڑی شرطیں لگا کر) تمہارے ساتھ سخت گیری کی ہے، نہ گناہ کے بارے میں تم سے سختی کے ساتھ جرح کرتا ہے اور نہ اپنی رحمت سے مایوس کرتا ہے، بلکہ اس نے گناہ سے کنارہ کشی کو بھی ایک نیکی قرار دیا ہے اور بُرائی ایک ہو تو اُسے ایک (بُرائی) اور نیکی ایک ہو تو اسے دس (نیکیوں) کے برابر ٹھہرایا ہے، اس نے توبہ کا دروازہ کھول رکھا ہے، جب بھی اسے پکارو وہ تمہاری سنتا ہے اور جب بھی راز و نیاز کرتے ہوئے اس سے کچھ کہو وہ جان لیتا ہے، تم اسی سے مرادیں مانگتے ہو اور اسی کے سامنے دل کے بھید کھولتے ہو، اسی سے اپنے دُکھ درد کا رونا روتے ہو اور مصیبتوں سے نکالنے کی التجا کرتے ہو اور اپنے کاموں میں مدد مانگتے ہو اور اس کی رحمت کے خزانوں سے وہ چیزیں طلب کرتے ہو جن کے دینے پر اور کوئی قدرت نہیں رکھتا، جیسے عمروں میں درازی، جسمانی صحت و توانائی اور رزق میں وسعت۔

👈 اور اس پر اس نے تمہارے ہاتھ میں اپنے خزانوں کے کھولنے والی کنجیاں دے دی ہیں اس طرح کہ تمہیں اپنی بارگاہ میں سوال کرنے کا طریقہ بتایا، اس طرح جب تم چاہو دُعا کے ذریعہ اس کی نعمت کے دروازوں کو کھلوا لو، اس کی رحمت کے جھالوں کو برسا لو، ہاں! بعض اوقات قبولیت میں دیر ہو تو اس سے نا اُمید نہ ہو، اس لئے کہ عطیہ نیت کے مطابق ہوتا ہے اور اکثر قبولیت میں اس لئے دیر کی جاتی ہے کہ سائل کے اجر میں اور اضافہ ہو اور امیدوار کو عطیے اور زیادہ ملیں اور کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ تم ایک چیز مانگتے ہو اور وہ حاصل نہیں ہوتی، مگر دنیا یا آخرت میں اس سے بہتر چیز تمہیں مل جاتی ہے یا تمہارے کسی بہتر مفاد کے پیشِ نظر تمہیں اس سے محروم کر دیا جاتا ہے اس لئے کہ تم کبھی ایسی چیزیں بھی طلب کر لیتے ہو کہ اگر تمہیں دے دی جائیں تو تمہارا دین تباہ ہو جائے، لہٰذا تمہیں بس وہ چیزیں طلب کرنا چاہیے جس کا جمال پائیدار ہو اور جس کا وبال تمہارے سر نہ پڑنے والا ہو، رہا دنیا کا مال تو نہ یہ تمہارے لئے رہے گا اور نہ تم اس کیلئے رہو گے۔

👈 یاد رکھو! تم آخرت کیلئے پیدا ہوئے ہو نہ کہ دنیا کیلئے، فنا کیلئے خلق ہوئے ہو نہ بقا کیلئے، موت کیلئے بنے ہو نہ حیات کیلئے، تم ایک ایسی منزل میں ہو جس کا کوئی حصہ ٹھیک نہیں اور ایک ایسے گھر میں ہو جو آخرت کا ساز و سامان مہیا کرنے کیلئے ہے اور صرف منزل آخرت کی گزر گاہ ہے، تم وہ ہو جس کا موت پیچھا کئے ہوئے ہے جس سے بھاگنے والا چھٹکارا نہیں پاتا، کتنا ہی کوئی چاہے اس کے ہاتھ سے نہیں نکل سکتا اور وہ بہرحال اُسے پالیتی ہے، لہٰذا ڈرو اس سے کہ موت تمہیں ایسے گناہوں کے عالم میں آ جائے جن سے توبہ کے خیالات تم دل میں لاتے تھے، مگر وہ تمہارے اور توبہ کے درمیان حائل ہو جائے، ایسا ہوا تو سمجھ لو کہ تم نے اپنے نفس کو ہلاک کر ڈالا۔

👈 اے فرزند! موت کو اور اس منزل کو جس پر تمہیں اچانک وارد ہونا ہے اور جہاں موت کے بعد پہنچنا ہے ہر وقت یاد رکھنا چاہیے تاکہ جب وہ آئے تو تم اپنا حفاظتی سرو سامان مکمل اور اس کیلئے اپنی قوت مضبوط کر چکے ہو اور وہ اچانک تم پر نہ ٹوٹ پڑے کہ تمہیں بے دست و پا کر دے۔

👈 خبردار! دنیا داروں کی دنیا پرستی اور ان کی حرص و طمع جو تمہیں دکھائی دیتی ہے وہ تمہیں فریب نہ دے، اس لئے کہ اللہ نے اس کا وصف خوب بیان کر دیا ہے اور دنیا نے خود بھی اپنی حقیقت واضح کر دی ہے اور اپنی برائیوں کو بے نقاب کر دیا ہے، اس (دنیا) کے گرویدہ بھونکنے والے کتے اور پھاڑ کھانے والے درندے ہیں جو آپس میں ایک دوسرے پر غراتے ہیں، طاقتور کمزور کو نگلے لیتا ہے اور بڑا چھوٹے کو کچل رہا ہے، ان میں کچھ چوپائے بندھے ہوئے اور کچھ چھٹے ہوئے ہیں جنہوں نے اپنی عقلیں کھو دی ہیں اور انجانے راستے پر سوار ہو لئے ہیں، یہ دشوار گزار وادیوں میں آفتوں کی چراگاہ میں چھٹے ہوئے ہیں، نہ ان کا کوئی گلہ بان ہے جو ان کی رکھوالی کرے، نہ کوئی چرواہا ہے جو انہیں چرائے، دنیا نے ان کو گمراہی کے راستے پر لگایا ہے اور ہدایت کے مینار سے ان کی آنکھیں بند کر دی ہیں، یہ اس کی گمراہیوں میں سرگرداں اور اس کی نعمتوں میں غلطاں ہیں اور اُسے ہی اپنا معبود بنا رکھا ہے، دنیا ان سے کھیل رہی ہے اور یہ دنیا سے کھیل رہے ہیں اور اس کے آگے کی منزل کو بھولے ہوئے ہیں۔ ٹھہرو! اندھیرا چھٹنے دو، گویا (میدانِ حشر میں) سواریاں اُتر ہی پڑی ہیں، تیز قدم چلنے والوں کیلئے وہ وقت دور نہیں کہ اپنے قافلے سے مل جائیں۔

👈 اور معلوم ہونا چاہیے کہ جو شخص لیل و نہار کے مرکب پر سوار ہے وہ اگرچہ ٹھہرا ہوا ہے مگر حقیقت میں چل رہا ہے اور اگرچہ ایک جگہ پر قیام کئے ہوئے ہے مگر مسافت طے کئے جا رہا ہے اور یہ یقین کے ساتھ جانے رہو کہ تم اپنی آرزوؤں کو پورا کبھی نہیں کر سکتے اور جتنی زندگی لے کر آئے ہو اس سے آگے نہیں بڑھ سکتے اور تم بھی اپنے پہلے والوں کی راہ پر ہو، لہٰذا طلب میں نرم رفتاری اور کسب ِمعاش میں میانہ روی سے کام لو، کیونکہ اکثر طلب کا نتیجہ مال کا گنوانا ہوتا ہے، یہ ضروری نہیں کہ رزق کی تلاش میں لگا رہنے والا کامیاب ہی ہو، اور کد و کاوش میں اعتدال سے کام لینے والا محروم ہی رہے۔

👈 ہر ذلت سے اپنے نفس کو بلند تر سمجھو، اگرچہ وہ تمہاری من مانی چیزوں تک تمہیں پہنچا دے، کیونکہ اپنے نفس کی عزت جو کھو دو گے اس کا بدل کوئی حاصل نہ کر سکو گے، دوسروں کے غلام نہ بن جاؤ جب کہ اللہ نے تمہیں آزاد بنایا ہے، اس بھلائی میں کوئی بہتری نہیں جو بُرائی کے ذریعے حاصل ہو اور اس آرام و آسائش میں کوئی بہتری نہیں جس کیلئے (ذلت کی) دشواریاں جھیلنا پڑیں۔

👈 خبردار! تمہیں طمع و حرص کی تیز رو سواریاں ہلاکت کے گھاٹ پر نہ لا اتاریں، اگر ہو سکے تو یہ کرو کہ اپنے اور اللہ کے درمیان کسی ولی نعمت کو واسطہ نہ بننے دو، کیونکہ تم اپنا حصہ اور اپنی قسمت کا پا کر رہو گے، وہ تھوڑا جو اللہ سے بے منت خلق ملے اس بہت سے کہیں بہتر ہے جو مخلوق کے ہاتھوں سے ملے، اگرچہ حقیقتاً جو ملتا ہے اللہ ہی کی طرف سے ملتا ہے۔

👈 بے محل خاموشی کا تدارک بے موقعہ گفتگو سے آسان ہے، برتن میں جو ہے اس کی حفاظت یونہی ہو گی کہ منہ بند رکھو اور جو کچھ تمہارے ہاتھ میں ہے اس کو محفوظ رکھنا دوسروں کے آگے دست ِطلب بڑھانے سے مجھے زیادہ پسند ہے، یاس کی تلخی سہ لینا لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بہتر ہے، پاک دامانی کے ساتھ محنت مزدوری کر لینا فسق و فجور میں گھری ہوئی دولت مندی سے بہتر ہے، انسان خود ہی اپنے راز کو خوب چھپا سکتا ہے، بہت سے لوگ ایسی چیز کیلئے کوشاں ہوتے ہیں جو ان کیلئے ضرر رساں ثابت ہوتی ہے، جو زیادہ بولتا ہے وہ بے معنی باتیں کرنے لگتا ہے، سوچ بچار سے قدم اٹھانے والا (صحیح راستہ) دیکھ لیتا ہے، نیکوں سے میل جول رکھو گے تو تم بھی نیک ہو جاؤ گے، بُروں سے بچے رہو گے تو ان (کے اثرات) سے محفوظ رہو گے، بد ترین کھانا وہ ہے جو حرام ہو اور بد ترین ظلم وہ ہے جو کسی کمزور و ناتواں پر کیا جائے، جہاں نرمی سے کام لینا نامناسب ہو وہاں سخت گیری ہی نرمی ہے، کبھی کبھی دوا بیماری اور بیماری دوا بن جایا کرتی ہے، کبھی بدخواہ بھلائی کی راہ سوجھا دیا کرتا ہے اور دوست فریب دے جاتا ہے۔

👈 خبردار! امیدوں کے سہارے پر نہ بیٹھنا، کیونکہ اُمیدیں احمقوں کا سرمایہ ہوتی ہیں، تجربوں کو محفوظ رکھنا عقلمندی ہے۔ بہترین تجربہ وہ ہے جو پند و نصیحت دے، فرصت کا موقع غنیمت جانو قبل اس کے کہ وہ رنج و اندوہ کا سبب بن جائے، ہر طلب و سعی کرنے والا مقصد کو پا نہیں لیا کرتا اور ہر جانے والا پلٹ کر نہیں آیا کرتا، توشہ کا کھو دینا اور عاقبت بگاڑ لینا بربادی و تباہ کاری ہے، ہر چیز کا ایک نتیجہ و ثمرہ ہوا کرتا ہے، جو تمہارے مقدر میں ہے وہ تم تک پہنچ کر رہے گا، تاجر اپنے کو خطروں میں ڈالا ہی کرتا ہے، کبھی تھوڑا مال مال فراواں سے زیادہ بابرکت ثابت ہوتا ہے، پست طینت مددگار میں کوئی بھلائی نہیں اور نہ بدگمان دوست میں، جب تک زمانہ کی سواری تمہارے قابو میں ہے اس سے نباہ کرتے رہو، زیادہ کی اُمید میں اپنے کو خطروں میں نہ ڈالو، خبردار! کہیں دشمنی و عناد کی سواریاں تم سے مُنہ زوری نہ کرنے لگیں۔

👈 اپنے کو اپنے بھائی کیلئے اس پر آمادہ کرو کہ جب وہ دوستی توڑے تو تم اسے جوڑو، وہ منہ پھیرے تو تم آگے بڑھو اور لطف و مہربانی سے پیش آؤ، وہ تمہارے لئے کنجوسی کرے تم اس پر خرچ کرو، وہ دوری اختیار کرے تو تم اس کے نزدیک ہونے کی کوشش کرو، وہ سختی کرتا رہے اور تم نرمی کرو، وہ خطا کا مرتکب ہو اور تم اس کیلئے عذر تلاش کرو، یہاں تک کہ گویا تم اس کے غلام اور وہ تمہارا آقائے نعمت ہے۔

👈 مگر خبردار! یہ برتاؤ بے محل نہ ہو اور نااہل سے یہ رویہ نہ اختیار کرو، اپنے دوست کے دشمن کو دوست نہ بناؤ ورنہ اس دوست کے دشمن قرار پاؤ گے، دوست کو کھری کھری نصیحت کی باتیں سناؤ خواہ اُسے اچھی لگیں یا بُری، غصہ کے کڑوے گھونٹ پی جاؤ، کیونکہ میں نے نتیجہ کے لحاظ سے اس سے زیادہ خوش مزہ و شیریں گھونٹ نہیں پائے، جو شخص تم سے سختی سے پیش آئے اُس سے نرمی کا برتاؤ کرو، کیونکہ اس رویہ سے وہ خود ہی نرم پڑ جائے گا، دشمن پر لطف و کرم کے ذریعہ سے راہ چارہ و تدبیر مسدود کرو، کیونکہ دو قسم کی کامیابیوں میں یہ زیادہ مزے کی کامیابی ہے، اپنے کسی دوست سے تعلقات قطع کرنا چاہو، تو اپنے دل میں اتنی جگہ رہنے دو کہ اگر اس کا رویہ بدلے تو اس کیلئے گنجائش ہو، جو تم سے حسن ظن رکھے اس کے حسن ظن کو سچا ثابت کرو۔

👈 باہمی روابط کی بنا پر اپنے کسی بھائی کی حق تلفی نہ کرو، کیونکہ پھر وہ بھائی کہاں رہا جس کا حق تم تلف کرو، یہ نہ ہونا چاہیے کہ تمہارے گھر والے تمہارے ہاتھوں دنیا جہاں میں سب سے زیادہ بدبخت ہو جائیں، جو تم سے تعلقات قائم رکھنا پسند ہی نہ کرتا ہو اسکے خواہ مخواہ پیچھے نہ پڑ و، تمہارا دوست قطع تعلق کرے تو تم رشتہ محبت جوڑنے میں اس پر بازی لے جاؤ اور وہ برائی سے پیش آئے تو تم حسنِ سلوک میں اس سے بڑھ جاؤ، ظالم کا ظلم تم پر گراں نہ گزرے کیونکہ وہ اپنے نقصان اور تمہارے فائدہ کیلئے سرگرم عمل ہے اور جو تمہاری خوشی کا باعث ہو، اس کا صلہ یہ نہیں کہ اس سے برائی کرو۔

👈 اے فرزند! یقین رکھو کہ رزق دو طرح کا ہوتا ہے: ایک وہ جس کی تم جستجو کرتے ہو اور ایک وہ جو تمہاری جستجو میں لگا ہوا ہے۔ اگر تم اس کی طرف نہ جاؤ گے تو بھی وہ تم تک آ کر رہے گا۔ ضرورت پڑنے پر گڑگڑانا اور مطلب نکل جانے پر کج خلقی سے پیش آنا کتنی بُری عادت ہے۔ دنیا سے بس اتنا ہی اپنا سمجھو جس سے اپنی عقبیٰ کی منزل سنوار سکو، اگر تم ہر اس چیز پر جو تمہارے ہاتھ سے جاتی رہے واویلا مچاتے ہو تو پھر ہر اس چیز پر رنج و افسوس کرو کہ جو تمہیں نہیں ملی، موجودہ حالات سے بعد کے آنے والے حالات کا قیاس کرو، ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ، کہ جن پر نصیحت اس وقت تک کارگر نہیں ہوتی جب تک انہیں پوری طرح تکلیف نہ پہنچائی جائے، کیونکہ عقلمند باتوں سے مان جاتے ہیں اور حیوان لاتوں کے بغیر نہیں مانا کرتے۔

👈 ٹوٹ پڑنے والے غم و اندوہ کو صبر کی پختگی اور حسن یقین سے دور کرو، جو درمیانی راستہ چھوڑ دیتا ہے وہ بے راہ ہو جاتا ہے، دوست بمنزلہ عزیز کے ہوتا، سچا دوست وہ ہے جو پیٹھ پیچھے بھی دوستی کو نبھائے، ہوا و ہوس سے زحمت میں پڑنا لازمی ہے، بہت سے قریبی بیگانوں سے بھی زیادہ بے تعلق ہوتے ہیں اور بہت سے بیگانے قریبیوں سے بھی زیادہ نزدیک ہوتے ہیں، پردیسی وہ ہے جس کا کوئی دوست نہ ہو، جو حق سے تجاوز کر جاتا ہے اس کا راستہ تنگ ہو جاتا ہے، جو اپنی حیثیت سے آگے نہیں بڑھتا اس کی منزلت برقرار رہتی ہے، تمہارے ہاتھوں میں سب سے زیادہ مضبوط وسیلہ وہ ہے جو تمہارے اور اللہ کے درمیان ہے، جو تمہاری پرواہ نہیں کرتا وہ تمہارا دشمن ہے، جب حرص و طمع تباہی کا سبب ہو تو مایوسی ہی میں کامرانی ہے، ہر عیب ظاہر نہیں ہوا کرتا، فرصت کا موقع بار بار نہیں ملا کرتا، کبھی آنکھوں والا صحیح راہ کھو دیتا ہے اور اندھا صحیح راستہ پا لیتا ہے۔

👈 برائی کو پس پشت ڈالتے رہو، کیونکہ جب چاہو گے اس کی طرف بڑھ سکتے ہو، جاہل سے علاقہ توڑنا عقلمند سے رشتہ جوڑنے کے برابر ہے، جو دنیا پر اعتماد کر کے مطمئن ہو جاتا ہے دنیا اُسے دَغا دے جاتی ہے اور جو اسے عظمت کی نگاہوں سے دیکھتا ہے وہ اسے پست و ذلیل کرتی ہے، ہر تیر انداز کا نشانہ ٹھیک نہیں بیٹھا کرتا، جب حکومت بدلتی ہے تو زمانہ بدل جاتا ہے، راستے سے پہلے شریک ِسفر اور گھر سے پہلے ہمسایہ کے متعلق پوچھ گچھ کر لو، خبردار! اپنی گفتگو میں ہنسانے والی باتیں نہ لاؤ، اگرچہ وہ نقل قول کی حیثیت سے ہوں۔

👈 (خبردار!) عورتوں سے ہرگز مشورہ نہ لو، کیونکہ ان کی رائے کمزور اور ارادہ سست ہوتا ہے، انہیں پردہ میں بٹھا کر ان کی آنکھوں کو تاک جھانک سے روکو، کیونکہ پردہ کی سختی ان کی عزت و آبرو کو برقرار رکھنے والی ہے، ان کا گھروں سے نکلنا اس سے زیادہ خطرناک نہیں ہوتا جتنا کسی ناقابلِ اعتماد کو گھر میں آنے دینا اور اگر بن پڑے تو ایسا کرو کہ تمہارے علاوہ کسی اور کو وہ پہچانتی ہی نہ ہوں، عورت کو اس کے ذاتی امور کے علاوہ دوسرے اختیارات نہ سونپو، کیونکہ عورت ایک پھول ہے، وہ کار فرما اور حکمران نہیں ہے، اس کا پاس و لحاظ اس کی ذات سے آگے نہ بڑھاؤ اور یہ حوصلہ پیدا نہ ہونے دو کہ وہ دوسروں کی سفارش کرنے لگے، بے محل شبہ و بدگمانی کا اظہار نہ کرو کہ اس سے نیک چلن اور پاکباز عورت بھی بے راہی و بدکرداری کی راہ دیکھ لیتی ہے۔.

👈 اپنے خدمت گزاروں میں ہر شخص کیلئے ایک کام معیّن کر دو جس کی جواب دہی اس سے کر سکو، اس طریق کار سے وہ تمہارے کاموں کو ایک دوسرے پر نہیں ٹالیں گے، اپنے قوم قبیلے کا احترام کرو، کیونکہ وہ تمہارے ایسے پَر و بال ہیں کہ جن سے تم پرواز کرتے ہو اور ایسی بنیادیں ہیں جن کا تم سہارا لیتے ہو اور تمہارے وہ دست و بازو ہیں جن سے حملہ کرتے ہو۔

👈 میں تمہارے دین اور تمہاری دنیا کو اللہ کے حوالے کرتا ہوں اور اس سے حال و مستقبل اور دنیا و آخرت میں تمہارے لئے بھلائی کے فیصلہ کا خواستگار ہوں۔ والسلام۔

اپنا تبصرہ بھیجیں