چوبیس ٹکڑے

دو مرد ہمسفر ہوئے ایک جگہ کھانا کھارہے تھے ایک نے پانچ روٹیاں نکالیں اور دوسرے نے تین روتیاں نکال کر ساتھ کھانے لگے اور جب وہ کھانے لگے تو اتنے میں ایک مرد کا ادھر سے گزر ہوا۔ ان دونوں نے انہیں اپنے ساتھ کھانے پر بٹھا دیا جب وہ سب کھانا کھا چکے تو اس ادمی نے آٹھ درہم نکالے اور اِن کو دیے کہ یہ اسکا بدلا ہے جو میں نے تمہارا کھانا کھایا پس ان کا جھگڑا ہو گیا اور تین روٹیوں والا کہنے لگا کہ یہ ہمارے درمیان ادھے آدھے ہیں جبکہ پانچ روٹیوں والا کہنے لگا کہ میرے پانچ اور تیرے تین ہیں وہ اپنا فیصلا آمیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے پاس لے ائے اور واقعہ بیان کیا آمیر المومنین نے فرمایا معمولی باتوں پر جھگڑا اچھا نہیں اور صلح کرنا زیادہ بہتر ہے۔ تو تین والا کہنے لگا کہ میں فیصلہ کئے بغیر راضی نہیں۔ اس پر آپ علیہ السلام نے فرمایا اگر تو کڑوے فیصلے کے علاوہ راضی نہیں ہوتا تو پھر آٹھ میں سے تیرا ایک درہم ہے اور تیرے ساتھی کے سات درہم ہیں۔ وہ کہنے لگا کہ یہ کیسے؟ اس پر آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ کیا تیری تین روٹیاں نہیں تھیں اور تیرے ساتھی کی پانچ روٹیاں نہیں تھیں اس نے کہا جی ہاں آپ نے فرمایا اگر ایک روٹی کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائے تو کُل چوبیس ٹکڑے ہوئے اور اس کا ایک تہائی آٹھ بنتے ہیں اپ نے فرمایا تیرے نو ٹکڑے بنتے تھے اور آٹھ تونے خود کھائے اپ کا صرف ایک ٹکڑا باقی بچا جبکہ جس کے پانچ روٹیاں تھیں اس کے پندرہ ٹکڑے بنے اس نے آٹھ ٹکڑے کھائے باقی سات مہمان نے کھائے۔ اس طرح آپ کا ایک ٹکڑا اور اس کے سات ٹکڑے مہمان نے کھائے تو اپ کا ایک درہم اور اپکے ساتھی کے سات درہم ہوئے۔
تذکرۃ الاطہار۔ آیتہ اللہ شیخ مفید۔ صفحہ(۱۳۸-۱۳۹)

اپنا تبصرہ بھیجیں