مختصر حکومت کا قرضوں کا نیا ریکارڈ

مدتوں کی جدوجہد اور قربانیوں کے بعد سوہنا دیس اسلامی جمہوریہ پاکستان معرضِ وجود میں آیا ۔ چودہ اگست 1947 ء کو مسلمانانِ پاک و ہند کو صدیوں کی غلامی سے نجات ملی۔ 14 اگست کو ہم اور 15 اگست کو اہلیانِ انڈیا اپنا اپنا یومِ آزادی مناتے ہیں۔ آج انڈیا ہمارے مقابلے میں کچھ زیادہ امیر ملک نہیں ہے مگر وہاں حکومت کی جانب سے غریب کاشتکاروں کو مفت بجلی مہیاکی جاتی ہے جبکہ ہمارے ہاں حال یہ ہے کہ فاقوں مرتے غریب عوام پہ اس قدر بھاری ٹیکس ’’ٹھونکے‘‘ جاتے ہیں جن کا تصور بڑے بڑے خوشحال اور ترقی یافتہ ممالک میں بھی نہیں ہے اورپھر ظلم و جبر و بے حیائی کی انتہا یہ کہ سردیوں میں لوگ گیس کو ترستے ہیں اور گرمیوں میں بجلی کو روتے ہیں۔ ابھی تک ہم لوڈ شیڈنگ کو مکمل طور پر ختم نہیں کر پائے۔ انڈسٹریوں کا بُرا حال اور کاروبار محال ہوتا جا رہا ہے۔ اپنے وطن دھرتی میں بھی چین ملتا ہے نہ آزادی نہ امن و امان۔ گھروں گھونسلوں میں بھی زندگیاں محفوظ نہ رہیں۔ چاروں اطراف خطرات منڈلا رہے ہیں۔ دہشت گردی‘ بدامنی‘ بھتہ خوری‘ ٹارگٹ کلنگ، لاقانونیت‘ غربت‘ مہنگائی‘ بے روزگاری‘ پتھر نگلتی بھوک اور مایوسی دیس کی دہلیز پہ بال کھولے بیٹھی ہے۔ سخت معاشی بحران سر چڑھ کر بول رہا ہے بلکہ ننگا ناچ رہا ہے۔ صبح و شام خطرے کی گھنٹیاں ٹن ٹن بجتی ہیں۔ ملک آئی ایم ایف‘ ورلڈ بینک اور امریکی شکنجوں میں کسا ہے۔ ہماری مائیں کوئی ایسا بچہ نہیں جنم دے سکتیں جو عالمی بینکوں کا مقروض نہ ہو۔
ہمارا دوست ملک چین ترقی اور کامرانیوں کے ہمالہ کو چھو رہا ہے۔ امریکہ ایسی سپر طاقت چین سے خائف نظر آتی ہے۔ ہماری کرنسی کی کوئی قدر ہے اور نہ ہی ہماری۔ آٹا‘ دال‘چینی‘ بجلی ‘ گیس اور ڈیزل پٹرول کی قیمتیں بڑھتی ہی جا رہی ہیں۔ جرائم‘ سٹریٹ کرائم میں اضافہ ہورہا ہے۔ بھوکے ننگے لوگ دو وقت کی روٹی کو ترستے ہیں۔ عام آدمی کی زندگی مشکل ہو چکی ‘ مجبور اور مظلوم لوگ خود کشیوں پہ مجبور ہیں۔ ہر محب وطن اور درد مند پاکستانی پریشان اور فکر مند ہے کہ کب بدلیں گے حالات‘ کب ہو گا نئی صبح کا آغاز ۔ خیر‘ امن‘ سلامتی اور خوشحالی کا سورج کب طلوع ہو گا؟ آج ہماری حکومت عالمی سامراج کی مُٹھی میں ہے اور اس قدر بھاری سودی قرضے لئے جا رہے ہیں جن کا واپس کرنا آئندہ نسلوں کیلئے بھی محال لگتا ہے اور اوپر سے یہ کہ قرض لینے والے اس پہ نازاں بھی ہیں کہ ہماری ساکھ اچھی ہے اسلئے اقوام ِ عالم کا ہم پہ بھروسہ و اعتماد ہے۔ اعلانیہ قرضے لئے جاتے ہیں اور پھر اس ’’کامرانی‘‘ پہ باجے بھی بجائے جاتے ہیں۔ آج ہمارے ملک میں پیدا ہونے والا ہر بچہ ایک لاکھ سے زائد کا مقروض پیدا ہو رہا ہے۔ ماہرین اقتصادیات چیخ رہے ہیں کہ یہ قرضے کل کو لوٹانے بھی ہیں لہٰذا ہوش کے ناخن لو لیکن بادشاہ سلامت اور درباریوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ PDM کی اس نالائق ’’شوباز‘‘ حکومت نے پہلے تو اپنے اپنے مقدمات ختم کرانے کا کارنامہ سرانجام دیا اور اب ان بھکاریوں نے مختصر عرصے میں زیادہ سے زیادہ قرضے لینے کا ریکارڈ قائم کیا ہے ‘ سٹیٹ بینک کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق اُنھوں نے ایک سال کے دوران 14 ہزار900 ارب روپے کا ریکارڈ قرضہ لیا۔ صرف ایک ماہ یعنی اپریل 2023 ء میں وفاقی حکومت نے 14 سو 76 ارب روپے کے قرضے لیے‘ الغرض ان کے ایک سال میں بیرونی قرض 49 فیصد‘ 7259 ارب روپے سے بڑھ کر 22 ہزار 150 ارب ہو گئے اور اندرونی قرض 34 فیصد‘ 7 ہزار ارب روپے سے بڑھ کر 36 ہزار 549 ارب ہو گئے ہیں اور ان حالات میں بھی میاں مفرور فرما رہے ہیں کہ ’’اللہ ہی ہے جو سب کچھ میرے حق میں کر رہا ہے‘‘۔مولوی نواز شریف شاید 9 مئی کے ’’نائن الیون‘‘ کو اپنے حق میں سمجھ بیٹھے ہیں جو ابھی تک جاری و ساری ہے‘ اتنا سوگ شاید ہم نے سانحہ مشرقی پاکستان اور سانحہ ماڈل ٹائون کا نہیں منایا ہو گا جہاں انسانی جانیں ضائع ہو ئیں تھیں‘ حاملہ خواتین کے پیٹ میں دن دھاڑے گولیاں ماری گئیں اور یہ مناظر ٹی وی سکرینوں پہ ساری دُنیا نے دیکھے۔
الف: بابا نے بتلایا کہ میرا نام بب بب بب ببو ببوببوببببببوٹاہے‘ تو پھر جواباً ’ب ‘نے کہا کہ مجھے بھی بوٹا ہی بولتے ہیں لیکن اتنا لمبا نہیں‘ المختصر ان بوٹوں نے 9 مئی کے بوٹوں کو کچھ زیادہ ہی لمبابنا لیا ہے‘ اب تو جون بھی آ گیا ہے لیکن ان کا 9 مئی ختم نہیں ہو رہا۔ بلا شبہ 9 مئی کو جو ہوا سراسر غلط ہوا لیکن اس کے بعد یہ جو پریس کانفرنسز جاری ہیں درست یہ بھی نہیں ہیں۔ کاش ہمارے سیاستدان اور حکمران خاندان ذاتی اقتدار اور جماعتی وابستگیوں سے بالا تر ہو کر سوچیں ۔ جس طرح یہ ذاتی مفادات‘ شاہانہ اخراجات اور من پسند ترامیم کیلئے ایک ہو جاتے ہیں۔ اگر اسی طرح عوام کی بھلائی اور پاکستان کی خوشحالی کیلئے بھی ایک ہو جائیں تو تین سال میں ہم اپنے پائوں پر کھڑے ہو سکتے ہیں۔ عوامی راج اور پاکستان کی سلامتی و ترقی کے اس ایک ہی ایجنڈے پر عمل پیرا ہو کر‘ سب کا ایک ہی نعرہ ہونا چاہیے کہ پاکستان بچانا ہے دنیا کو دکھانا ہے۔ تمام جماعتیں باہم مل کر ایک متفقہ و مشترکہ کل جماعتی کانفرنس بلائیں اور سب مل کر خدا اور عوام سے اپنے گزشتہ گناہوں کی معافی مانگیں اور اللہ حاکمِ برحق کو حاضر ناظر جان کر قرآن مجید پر یہ حلف دیں کہ آئندہ کبھی بھی ملک و قوم سے بے وفائی اور فریب نہیں کریں گے۔ انھیں یہ عہد کرنا ہو گا کہ کسی بھی جماعت کا کوئی رکن اگر بدعنوان اور نااہل ثابت ہو گا تو تمام جماعتیں مل کر اسے میدان سے باہر نکال، پھینکیں گی۔ اگرہمارے کرتا دھرتا لوگ ایسا کر گزریں تو ٹھیک تین سال بعد پاکستان کا شمار دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ہو گا اور سچ مچ تبدیلی آ جائے گی‘ انقلاب آ جائے گا۔
مگر تبدیلی آئے گی کیسے؟ حقیقی معنوں میں کشکول توڑ کر‘ خود احتسابی کرتے ہوئے‘ سادگی اپناتے ہوئے اور اخراجات گھٹاتے ہوئے۔ تبدیلی آئے گی اعتدال‘ امن و محبت اور اتحاد و اجتہاد و جہاد سے ۔ اگر ہم ایک ہو جائیں ‘ یکجا ہو جائیں اُس واحد خدا حاکم بر حق کو یکتا ماننے والے تو کوئی چیلنج ہمارے لئے چیلنج نہیں رہے گا اور کوئی مشکل ہمارے لئے مشکل نہیں رہے گی۔ تب آئے گا انقلاب جب ہم سچے دل سے سچے رب کو حاکم‘ خالق‘ مالک اور حاضر و ناظر جان مان لیں گی۔ انقلاب آئے گا میانہ روی‘ کفایت شعاری و شفافیت سے۔ جب من و نیات صاف ارادے نیک اور کرتا دھرتا لوگ نیک و ایک ہوکر محمدﷺ، ابوبکرؓ‘ عمرؓ‘ عثمانؓ اور علی ؓ اور امام حسینؓ کو رہبر و رہنما ‘ مرشد و پیشوا مان کر حق وفا کی راہ چلنے لگیں تو خدا کی قسم سچ تبدیلی آہی جاتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں