شب قدر نزولِ قرآن کی رات۔

بِّسْمِ اللہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ۞ إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ ۞ وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ ۞ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ ۞ تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمْرٍ ۞ سَلَامٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ ۞

بےشک ہم نے اس (قرآن) کوشبِ قدر میں نازل کیا۔ اور آپ کو کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے؟ ۔ شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس میں فرشتے اور روح اپنے پروردگار کی اجازت سے (سال بھر کی) ہر بات کا حکم لے کر اترتے ہیں۔ وہ (رات) سراسر سلامتی ہے طلوعِ صبح تک۔

🔸 تفسیر🔸

قرآن کی آیات سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید ماہِ مبارک رمضان میں نازل ہوا ہے :”شہر رمضان الذی انزل فیہ القراٰن “(بقرہ۔ ۱۸۵) اور اس تعبیر کا ظاہر یہ ہے کہ سارا قرآن اسی ماہ میں نازل ہوا ہے ۔ اور سُورہ قدر کی پہلی آیت میں مزید فرماتا ہے :”ہم نے اسے شب قدر میں نازل کیا ہے “۔ (انّا انزلناہ فی لیلة القدر)۔اگر چہ اس آیت میں صراحت کے ساتھ قرآن کا نام ذکر نہیں ہوا ، لیکن یہ بات مسلم ہے کہ “انّا انزلناہ” کی ضمیر قرآن کی طرف لوٹتی ہے اور اس کا ظاہری ابہام اس کی عظمت اور اہمیّت کے بیان کے لیے ہے ۔ “انّا انزلناہ” (ہم نے اسے نازل کیا ہے )کی تعبیر بھی اس عظیم آسمانی کتاب کی عظمت کی طرف ایک اور اشارہ ہے جس کے نزول کی خدا نے اپنی طرف نسبت دی ہے مخصوصاً صیغہ متکلم مع الغیر کے ساتھ جو جمع کا مفہوم رکھتا ہے ، اور یہ عظمت کی دلیل ہے ۔ اس کا شبِ “قدر” میں نزول، وہی شب جس میں انسانوں کی سر نوشت اور مقدّرات کی تعیّن ہوتی ہے ۔ یہ اس عظیم آسمانی کتاب کے سر نوشت ساز ہونے کی ایک اور دلیل ہے۔ اس آیت کو سُورہ بقرہ کی آیت کے ساتھ ملانے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ شبِ قدر ماہِ مبارک رمضان میں ہے، لیکن وہ کون سی رات ہے قرآن سے اس بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوتا ۔ لیکن روایات میں اس سلسلہ میں بہت زیادہ بحث آئی ہے۔ ہم انشاء اللہ اس سُورہ کے آخر میں اس سلسلہ میں بھی اور دوسرے مسائل کے بارے میں بھی گفتگو کریں گے۔ یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے اور وہ یہ ہے کہ تاریخی لحاظ سے بھی اور قرآن کے مضمون کے پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی سے ارتباط کے لحاظ سے بھی یہ مسلم ہے کہ یہ آسمانی کتاب تدریجی طور پر اور ۲۳ / سال کے عرصہ میں نازل ہوئی ہے ۔ یہ بات اُوپر والی آیات سے جو یہ کہتی ہیں کہ ماہِ رمضان میں اور شب قدر میں نازل ہوئی، کس طرح ساز گار ہو گی؟ اس سوال کا جواب:۔ جیسا کہ بہت محققین نے کہا ہے ۔ یہ ہے کہ قرآن کے دو نزول ہیں ۔
۱۔ نزول دفعی : جو ایک ہی رات میں سارے کا سارا پیغمبرِ اکرم ﷺ کے پاک قلب پریا بیتُ المعمور پر یا لوحِ محفوظ سے نچلے آسمان پر نازل ہُوا۔
۲۔ نزول تدریجی : جو تیئس ۲۳ سال کے عرصہ میں نبوّت کے دوران انجام پایا ۔ (ہم سورہ دُخان کی آیہ ۳ جلد ۱۲ تفسیر نمونہ ص ۲۶سے آگے اس مطلب کی تشریح کے چکے ہیں )۔
بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ آغازِ نزول ِ قرآن شبِ قدر میں ہوا تھا، نہ کہ سارا قرآن ، لیکن یہ چیز آیت کے ظاہر کے خلاف ہے ، جو کہتی ہے کہ ہم نے قرآن کو شب قدر میں نازل کیا ہے ۔ قابل ِتوجہ بات یہ ہے کہ قرآن کے نازل ہونے کے سلسلے میں بعض آیات میں “انزال” اور بعض میں “تنزیل” کی تعبیر ہوئی ہے ۔ اور لغت کے کچھ متنوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ “تنزیل” کا لفظ عام طور پر وہاں بولا جاتا ہے جہاں کوئی چیز تدریجاً نازل ہو لیکن “انزال” زیادہ وسیع مفہوم رکھتا ہے جو نزولِ دفعی کو بھی شامل ہوتا ہے .۱؎ تعبیر کا یہ فرق جو قرآن کی آیات میں آیا ہے ممکن ہے کہ اُوپر والے دو نزولوں کی طرف اشارہ ہو۔ بعد والی آیت میں شب قدر کی عظمت کے بیان کے لیے فرماتا ہے : “تُو کیا جانے کہ شب قدر کیا ہے” (وما ادراک مالیلة القدر)۔
اور بلا فاصلہ کہتا ہے : “شب قدر ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینے سے بہتر ہے” (لیلة القدر خیر من الف شہر )۔ یہ تعبیر اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ اس رات کی عظمت اس قدر ہے کہ پیغمبرِ اکرم نورِ مجسّم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک بھی اپنے اس وسیع و عریض علم کے باوجود آیات کے نزول سے پہلے واقف نہیں تھے ۔ ہم جانتے ہیں کہ ہزار ماہ اسّی (۸۰) سال سے زیادہ ہے ۔ واقعاً کتنی با عظمت رات ہے جو ایک پُر برکت طولانی عمر کے برابر قدر و قیمت رکھتی ہے ۔ بعض تفاسیر میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: “بنی اسرائیل میں سے ایک شخص نے لباسِ جنگ زیب تن کر رکھا تھا ، اور ہزار ماہ تک اُسے نہ اُتارا ، وہ ہمیشہ جہاد فی سبیل اللہ میں مشغول (یا آمادہ ) رہتا تھا ، پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اصحاب و انصار نے تعجّب کیا، اور آرزو کی کہ کاش اس قسم کی فضیلت و افتخار انہیں بھی میسّر آئے تو اُوپر والی آیات نازل ہوئیں ۔ اور بیان کیا کہ شب قدر ہزار ماہ سے افضل ہے ” .۲؎
ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بنی اسرائیل کے چار افراد کا ذکر کیا جنہوں نے اسّی سال بغیر معصیّت کیے خدا کی عبادت کی تھی۔ اصحاب نے آرزو کی کہ کاش وہ بھی اس قسم کی توفیق حاصل کرتے تو اس سلسلہ میں اُوپر والی آیات نازل ہوئیں. ۳؎
اس بارے میں کہ یہاں ہزار کا عدد “تعداد” کے لیے ہے یا “تکثیر” کے لیے بعض نے کہا ہے : یہ تکثیر کے لیے ہے ، اور شب قدر کی قدر و منزلت کئی ہزار ماہ سے بھی زیادہ ہے ، لیکن وہ روایات جو ہم نے اُوپر نقل کی ہیں وہ اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ عددِ مذکور تعداد ہی کے لیے ہے۔ اور اصولی طور پر بھی عدد ہمیشہ تعداد کے لیے ہوتا ہے مگر یہ کہ تکثیر پر کوئی واضح قرینہ موجود ہو ۔ اس کے بعد اس عظیم رات کی مزید تعریف و توصیف کرتے ہوئے اضافہ کرتا ہے : “اس رات میں فرشتے اور رُوح اپنے پروردگار کے اذن سے ہر کام کی تقدیر کے لیے نازل ہوتے ہیں”(تنزل الملائکة و الروح فیھا باذن ربھم من کل امر)۔ اِس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ “تنزل” فعل مضارع ہے اور استمرار پر دلالت کرتا ہے (جو اصل میں “تتنزل” تھا)۔ واضح ہو جاتا ہے کہ شبِ قدر پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور نزولِ قرآن کے زمانہ کے ساتھ مخصوص نہیں تھی، بلکہ یہ ایک امر مستمر ہے ، اور ایسی رات ہے جو ہمیشہ آتی رہتی ہے اور ہر سال آتی ہے ۔ اِس بارے میں کہ رُوح سے کیا مراد ہے بعض نے تو یہ کہا ہے کہ اس سے مراد “جبرئیل امین “ہے ، جسے “رُوح الامین ” بھی کہا جاتا ہے ، اور بعض نے “رُوح” کی سُورہ شوریٰ کی آیہ ۵۲ “و کذالک اوحینا الیک روحًا من امرنا”، “جیسا کہ ہم نے گزشتہ انبیاء پر وحی کی تھی، اسی طرح سے تجھ پر بھی اپنے فرمان سے وحی کی ہے” کے قرینہ سے “وحی” کے معنی میں تفسیر کی ہے ۔ اِس بناء پر آیت کا مفہوم اس طرح ہو گا “فرشتے وحی الہٰی کے ساتھ، مقدرات کی تعیین کے سلسلہ میں ، اس رات میں نازل ہوتے ہیں ” یہاں ایک تیسری تفسیر بھی ہے جو سب سے زیادہ قریب نظر آتی ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ “رُوح ایک بہت بڑی مخلوق ہے جو فرشتوں سے مافوق ہے ، جیسا کہ ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السّلام سے نقل ہوا ہے کہ ایک شخص نے آپ سے سوال کیا : کیا رُوح وہی جبرئیل ہے “؟ امام علیہ السّلام نے جواب میں فرمایا:
“جبرئیل من الملائکة، و الروح اعظم من الملائکة ان اللہ عزّوجل یقول : تنزل الملائکة و الروح”۔
“جبرئیل تو ملائکہ میں سے ہے ، اور رُوح ملائکہ سے زیادہ عظیم ہے ، کیا خداوند تعالیٰ یہ نہیں فرماتا : ملائکہ اور رُوح نازل ہوتے ہیں ” ؟.۴؎
یعنی مقابلہ کے قرینہ سے یہ دونوں آپس میں مختلف ہیں لفظ “روح” کے لیے یہاں دوسری تفاسیر بھی ذکر ہوئی ہیں کیونکہ ان کے لیے کوئی دلیل نہیں تھی ، لہٰذا ان سے صرف نظر کی گئی ہے ۔
“من کل امر” سے مراد یہ ہے کہ فرشتے سر نوشتوں کی تقدیر و تعین کے لیے ، اور ہر خیر و برکت لانے کے لیے اس رات میں نازل ہوتے ہیں ، اور ان کے نزول کا مقصد ان امور کی انجام دہی ہے ۔
یا یہ مراد ہے کہ ہر امرِ خیر اور ہر سر نوشت اور تقدیر کو اپنے ساتھ لاتے ہیں .۵؎
بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ خدا کے امر و فرمان سے نازل ہوتے ہیں لیکن مناسب وہی پہلا معنی ہی ہے۔
“ربّھم”کی تعبیر کو، جس میں ربوبیت اور تدبیرِ جہاں کے مسئلہ پر بات ہوئی ہے ، ان فرشتوں کے کام کے ساتھ قریبی مناسبت ہے ، کہ وہ امور کی تدبیر و تقدیر کے لیے نازل ہوتے ہیں، اور ان کا کام بھی پروردگار کی ربوبیت کا ایک گوشہ ہے ۔ اور آخری آیت میں فرماتا ہے : “یہ ایک ایسی رات ہے ، جو طلوع صبح تک سلامتی اور خیر و برکت و رحمت سے پُر رہتی ہے “(سلام ھی حتّٰی مطلع الفجر)۔ قرآن بھی اسی میں نازل ہوا، اس کا احیاء اور شب بیداری بھی ہزار ماہ کے برابر ہے ، خدا کی خیرات و برکات بھی اسی شب میں نازل ہوتی ہیں ، اس کی رحمتِ خاص بھی بندوں کے شاملِ حال ہوتی ہے ، اور فرشتے اور رُوح بھی اسی رات میں نازل ہوتے ہیں اسی بناء پر یہ ایک ایسی رات ہے جو آغاز سے اختتام تک سرا سر سلامتی ہی سلامتی ہے۔ یہاں تک کہ بعض روایات کے مطابق تو اس رات میں شیطان کو زنجیر میں جکڑ دیا جاتا ہے ۔ لہٰذا اس لحاظ سے بھی یہ ایک ایسی رات ہے جو سالم اور سلامتی سے تواٴم ہے ۔ اس بناء پر “سلام” کا اطلاق ، جو سلامت کے معنی میں ہے ۔ (سالم کے اطلاق کے بجائے) حقیقت میں ایک قسم کی تاکید ہے ،جیسا کہ بعض اوقات ہم کہہ دیتے ہیں کہ فلاں آدمی عین عدالت ہے ۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ اس رات پر “سلام ” کا اطلاق اس بناء پر ہے کہ فرشتے مسلسل ایک دوسرے پر یا مومنین پر سلام کرتے ہیں ، یا پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حضور میں اور آپ کے معصوم جانشین کے حضور میں جا کر سلام عرض کرتے ہیں ۔ ان تفسیروں کے درمیان جمع بھی ممکن ہے ۔ بہر حال یہ ایک ایسی رات ہے جو ساری کی ساری نور و رحمت ، خیر و برکت ، سلامت و سعادت، اور ہر لحاظ سے بے نظیر ہے ۔
ایک حدیث میں آیا ہے کہ امام محمد باقر علیہ السّلام سے پوچھا گیا ۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ شبِ قدر کون سی رات ہے ؟ تو آپؑ نے فرمایا: “کیف لانعرف و الملائکة تطوف بنا فیھا”
“ہم کیسے نہ جانیں گے جب کہ فرشتے اس رات ہمارے گرد طواف کرتے ہیں” .۶؎
حضرت ابراہیمؑ کے واقعہ میں آیا ہے کہ خدا کے کچھ فرشتے آپ کے پاس آئے اور انہیں بیٹے کے تولد کی بشارت دی اور ان پر سلام کیا ، (ہود۔۶۹)۔
کہتے ہیں کہ ابراہیم علیہ السّلام کی جو لذّت ان فرشتوں کے سلام میں آئی، ساری دُنیا کی لذتیں بھی اس کے برابر نہیں تھیں۔ اب غور کرنا چاہیے کہ جب شبِ قدر میں فرشتے گروہ در گروہ نازل ہو رہے ہوں، اور مومنین کو سلام کر رہے ہوں ،تو اس میں کتنی لذت، لطف اور برکت ہو گی؟!
جب ابراہیمؑ کو آتشِ نمرود میں ڈالا گیا ، تو فرشتوں نے آ کر آپ کو سلام کیا اور آگ ان پر گلزار بن گئی ، تو کیا شب قدر میں مومنین پر فرشتوں کے سلام کی برکت سے آتش دوزخ “برد” و “سلام ” نہیں ہو گی ؟
ہاں! یہ اُمّتِ محمّد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عظمت کی نشانی ہے کہ وہاں تو خلیل پر نازل ہوتے ہیں اور یہاں اسلام کی اس اُمّت پر .۷؎
حوالہ جات:
۱؎ مفردات راغب مادّہ نزل۔
۲؎ “در المنثور” جلد ۶ ص ۳۷۱۔
۳؎ “در المنثور” جلد ۶ ص ۳۷۱۔
۴؎ “تفسیر برہان ” جلد ۴ ص ۴۸۱۔
۵؎ پہلی تفسیر کے مطابق “من”، “لام” کے معنی میں ہے اور “من کل امر” کا مطلب “لاجل کل امر” ہے، اور دوسری تفسیر کے مطابق “من”، “باء مصاحبت” کے معنی میں ہے۔
۶؎ “تفسیر برہان” جلد ۴ ص۴۸۸ حدیث ۲۹۔
۷؎ “تفسیر فخر رازی” جلد ۳۲ ص ۳۶۔

اپنا تبصرہ بھیجیں