محبت ہو ضروری تو نہیں

‏اس کو بھی ہم سے محبت ہو ضروری تو نہیں
عشق ہی عشق کی قیمت ہو ضروری تو نہیں

ایک دن آپ کی برہم نگہی دیکھ چکے
روز اک تازہ قیامت ہو ضروری تو نہیں

میری شمعوں کو ہواؤں نے بجھایا ہو گا
یہ بھی ان کی ہی شرارت ہو ضروری تو نہیں

اہل دنیا سے مراسم بھی برتنے ہوں گے
ہر نفس صرف عبادت ہو ضروری تو نہیں

دوستی آپ سے لازم ہے مگر اس کے لئے
ساری دنیا سے عداوت ہو ضروری تو نہیں

پرسش حال کو تم آؤ گے اس وقت مجھے
لب ہلانے کی بھی طاقت ہو ضروری تو نہیں

سیکڑوں در ہیں زمانے میں گدائی کے لئے
آپ ہی کا در دولت ہو ضروری تو نہیں

باہمی ربط میں رنجش بھی مزا دیتی ہے
بس محبت ہی محبت ہو ضروری تو نہیں

ظلم کے دور سے اکراہ دلی کافی ہے
ایک خوں ریز بغاوت ہو ضروری تو نہیں

ایک مصرعہ بھی جو زندہ رہے کافی ہے صباؔ
میرے ہر شعر کی شہرت ہو ضروری تو نہیں

صبا اکبر آبادی

محبت ہو ضروری تو نہیں” ایک تبصرہ

  1. I see You’re in reality a good webmaster. This site loading pace is incredible. It kind of feels that you’re doing any unique trick. Also, the contents are masterwork. you’ve done a great process in this topic! Similar here: sklep internetowy and also here: Najlepszy sklep

اپنا تبصرہ بھیجیں