مریم نواز کی مزاحمت!

پاکستان کی سیاست میں عام خیال یہ ہی رہا ہے کہ مسلم لیگ نواز اور اسٹیبلشمنٹ کا ساس اور بہو کا رشتہ ہے، جن کے درمیان نوک جھونک چلتی رہتی ہے۔ مگر جیسے ہی میاں محمد نواز شریف کی بیٹی مریم نواز سیاست میں داخل ہوئی انھوں نے کچھ کیا نہ کیا مگر عوام کے زہنوں میں سالوں سے موجود اس خیال کو یکسر بدل ڈالا، آج اہل پنجاب اور خاص طور پر پنجاب کی لوئر کلاس، کسان اور مزدور جس طرح سوچ رہے ہیں وہ سوچ پنجاب میں کبھی ممکن نہ تھی، اور سوچ کی اس تبدیلی کا سہرا مریم نواز شریف کے سر جاتا ہے، جنہوں نے کہا تھا کہ مفاہمت تب ہی ہوگی جب مزاحمت ہوگی۔ ورنہ مسلم لیگ نواز کی کتاب میں اسٹیبلشمنٹ سے مزاحمت کا صفحہ نہ ہونے کے برابر تھا، وہاں بھی ایک پیج والی سوچ پائی جاتی تھی اور مسلم لیگ نواز کے چند سابقہ رہنماوں نے ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ سے ساز باز کو ترجیح دی۔ موجودہ وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کے حوالے سے تو مشہور ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے نقطہ نظر کو ترجیح دیتے ہیں اور چند سالوں سے اس بات کے حامی رہے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ سے جنگ کے بجائے صلح کو اپنانا چاہیے، میاں محمد شہباز شریف سیاست سے زیادہ قومی خدمت پر یقین رکھتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ تمام اداروں کو ساتھ کے کر ہی آگے بڑھا جاسکتا ہے مگر یہ ان کے انفرادی سوچ ہے جبکہ قوم کی سوچ کی نمائندگی مریم نواز شریف کے موقف میں ہی نظر آرہی ہے یعنی جمہوریت کی پاسداری اور ووٹ کو عزت دو، یہ ملک تب ہی آگے بڑھ سکتا ہے جب یہاں کٹ پتلی تماشہ ختم ہوجائے، یہاں انتخاب شفاف ہوں اور عوام کے حقیقی نمائندوں کے پاس الف سے ے تک کا اختیار ہو۔ شہباز شریف نے 2017 سے ہی کوشش کی کہ کسی طرح اسٹیبلشمنٹ اور نواز شریف میں پیدا ہوئی خلیج کو ختم کیا جا سکے۔مگر گزشتہ 6 سال سے مسلم لیگ نواز کے لیے صلح کے تمام دروازے بندے رہے تھے سوائے شہباز شریف جو کہ اسٹیبلشمنٹ سے ہمیشہ تعلقات بہتر رکھنا چاہتے تھے ۔ باوجود اس کے نواز شریف کو، شہباز شریف کو، حمزہ سمیت مریم نواز شریف تک کو جیل یاترا کرنی پڑی۔ شہباز شریف کے چاہتے ہوئے بھی مفاہمت کا دروازہ بند رہا۔ ایسے میں مسلم لیگ نواز کے لیے پاکستان کی سیاست میں تلخ دور تھا۔ 90 کی دہائی میں جو پی پی پی کے ساتھ ہوتا رہا وہی کردار کشی کی مہم نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف جاری تھی۔ نواز شریف ٹی وی پر نہیں آسکتے تھے اور آج بھی نواز شریف ٹی وی ہر نہیں آسکتے۔ پنجاب سمیت مرکز میں پی ٹی آئی کی حکومت تھی، جلسے، ریلیاں کرنا آسان نہیں تھا.ایسے میں مسلم لیگ نواز کو زندہ رکھنا ایک نہ ممکن کام تھا، مگر مریم نواز شریف جیل سے باہر آنے کے بعد ایک بار پھر متحرک ہوگئیں۔ مریم نواز شریف نے ایک تاریخی بات کی تھی کہ مزاحمت ہوگی تو مفاہمت ہوگی اور پھر ایسا ہی ہوا مزاحمت ہوئی اور مزاحمت نے شریف خاندان کے لیے مفاہمت کے راستے کھول دیے۔ مریم نواز شریف نے جرات اور دلیری کے ساتھ بینظیر بھٹو شہید جیسی دلیری اور بہادری دکھاتے ہوئے آمروں کے یاروں اور اغیاروں کو کھل کر سیاسی کھیل کھیلنے سے دور رہنے کو کہا ۔ جب کہ شہباز شریف نہیں چاہتے تھے کہ مسلم لیگ کی طرف سے کوئی تلخی پیدا ہو اور نہ ہی حمزہ شہباز شریف مزاحمتی سیاست کی طرف قدم بڑھانے کے لیے تیار تھے، کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ پاکستان میں یہ مزاحمت کا کھیل خاندانوں کو ختم کردیتا ہے، انھیں بھٹو خاندان کے ساتھ کھیلی گئی خون کی ہولی یاد تھی مگر مریم نواز شریف تھیں کی ڈٹ گئیں اور ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ لے کر کراچی سے خیبر تک کی عوام کے دلوں کی دھڑکن بن کر جمہوریت کی پاسداری اور عوامی مینڈیٹ کے سربلندی کے لیے بغیر کسی مصلحت سے کام لیے کھل کر ہر غیر جمہوری کردار پر بات کرتی اور قوم کے سامنے ان چہروں سے پڑدہ فاش کرتی نظر آئی۔ کیوں کہ نواز شریف کی اس بیٹی کو خوب اندازہ تھا کہ مفاہمت کا راستہ مزاحمت کی سڑک سے ہی جاکر ملتا ہے۔ مریم نواز شریف کی پرکشش شخصیت نے عوام میں اپنا مقدمہ رکھ کر، گلی گلی کوچہ کوچہ مسلم لیگ نواز کے بیانیے کو زندہ رکھا، مریم نواز شریف پر ایک وقت تھا کی ٹی وی پر آنے پر بھی پابندی لگائی گئی مگر پھر مریم نواز شریف نے وہ کیا کہ پابندیاں لگانے والے عوامی غم و غصے سے بچنے کے لیے نہ صرف ان کے جسلوں، ریلیوں کی راہ میں رکاوٹ بننے سے باز رہے بلکہ خاموش مفاہمت کرنے پر بھی راضی ہوگئے۔ میاں محمد نواز شریف کی بیٹی نے پاکستان بھر میں جلسے جلوس کیے، ٹی وی پر ان کا خطاب سننے والوں میں ان کے مخالفین بھی شامل ہوگئے، یہ ہی وجہ بننی کہ چینلز کی ریٹنگز مریم نواز شریف کے خطاب کا موضوع بحث بن گئیں، ہر چینل انھیں زیادہ سے زیادہ کوریج دینے لگا۔ ‏مریم نواز کی بہادری اور ہمت نے عمران خان حکومت کو مسلم لیگ نواز کے خلاف مزید کاروائیوں سے دور رکھا۔مریم نواز شریف نے جس طرح جلسوں میں عوامی مسائل پر بات کی، جس انداز سےانھوں نے عمران حکومت کا تیا پانچا ایک کیا وہ مسلم لیگ نواز کے کسی دوسرے رہنما کے بس کی بات نہ تھی، اس سارے عمل میں کیپٹن صفدر نے جس طرح مریم نواز شریف اور مسلم لیگ نواز کا ساتھ دیا، وہ بھی قابل تحسین ہیں، دو دامداوں یعنی آصف علی زرداری اور کیپٹن صفدر نے تلخ سے تلخ حالات میں اپنے بیویوں کا ایسا ساتھ دیا جس کی مثال نہیں ملتی۔۔ کیپٹن صفدر نے مریم نواز شریف کے ساتھ ہی نہیں پوری مسلم لیگ نواز کے ساتھ وہ ہی کردار ادا کیا جو مرد حر کا شیوہ ہے۔آج مسلم لیگ نواز کی حکومت بن چکی ہے۔ ن سے ش نکالنے والے ماتم کرتے نظر آرہے ہیں کہ کاش مریم نواز شریف کو مزید جیل میں رکھ کر اور کیپٹن صفدر کو پابند سلاسل رکھ کر اس خاندان کو جھکنے پر مجبور کردیا ہوتا تو شائد آج حالات مختلف ہوتے، دوسری طرف چوہدری نثار بھی آج کئی بیٹھ کر آشکبار ہورہے ہوں گے کہ انھوں نے اپنی سیاست کا خاتمہ اپنے ہاتھ کر ڈالا ورنہ اگر وہ مریم نواز شریف کے ساتھ کھڑے رہتے تو شائد پنجاب کی وزارت اعلی کا تاج انھی کے سر سج چکا ہوتا۔ مریم نواز شریف کی مزاحمتی سیاست نے ثابت کردیا ہے کہ جب جب قومی قیادت عوامی امنگوں کی ترجمان کرتی نظر آئے گی؟ بڑے سے بڑے فرعون جھکنے اور مفاہمت پر مجبور ہوجائیں گے۔ مسلم لیگ نواز کو مریم نواز شریف اور کیپٹن صفدر کا احسان مند رہنا چاہئے جنہوں نے کسی قربانی سے دریغ کیے بغیر مسلم لیگ کے بیانیے کو عام کر کے اپنی جماعت کے سر اقتدار کا تاج پہنا دیا۔ مریم نواز شریف کی والدہ کلثوم بی بی کئی جنت کے کسی ٹکڑے میں بیٹھ کر بہت خوش ہورہی ہوں گی، عمران خان کا مریم نواز شریف کے خلاف نازیبا بیان اس بات کا ثبوت ہے کہ مریم نواز شریف ان کے اعصاب پر سوار ہے، مریم قوم کی بیٹی ہے اور قوم کی بیٹیوں کے بارے جلسوں میں ایسی زبان استعمال کرنے والا کوئی اور نہیں صرف عمران نیازی ہی ہو سکتا ہے کیوں کہ الفاظ ہی تربیت کا پتہ دیتے ہیں۔ خدا عمران نیازی کے والدین کی مغفرت فرمائے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں