راز الٰہ آبادی

لذت غم بڑھا دیجئے
آپ پھر مسکرا دیجئے

چاند کب تک گہن میں رہے
اب تو زلفیں ہٹا دیجئے

میرا دامن بہت صاف ہے
کوئی تہمت لگا دیجئے

قیمت دل بتا دیجئے
خاک لے کر اڑا دیجئے

آپ اندھیرے میں کب تک رہیں
پھر کوئی گھر جلا دیجئے

اک سمندر نے آواز دی
مجھ کو پانی پلا دیجئے

اپنا تبصرہ بھیجیں