نئی گریٹ گیم اور پاکستان کی مجبوری

پنجاب حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ زمان پارک پر پولیس کے سامنے مزاحمت دکھانے والے کارکنان میں کالعدم تنظیموں کے افراد بھی شامل ہیں اس لئے زمان پارک پر پولیس نے عمران خان کی عدم موجودی کے دوران وہاں آپریشن کیا اور دعوی کیا ہے کہ وہاں سے کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے اراکین بھی موجود تھے۔
پولیس اور کارکنان کے درمیان تصادم کا فائدہ اٹھا کر کالعدم تنظیمیں ملک کو کسی نئے سانحہ سے دوچار کر سکتی ہیں، اگر کالعدم تنظیموں کے لوگ موجود ہیں تو ان کو روکنا کس کا کام ہے؟
ٕٕکیا یہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ ایسے عناصر کو کنٹرول کریں اور ان پر نظر رکھیں تا کہ وہ کسی قسم کی شر پسندی نہ کرسکیں۔دوسری جانب پنجاب میں کاغذات نامزدگی جمع ہونے کا عمل مکمل ہو چکا ہے
جبکہ مریم نواز کہتی ہیں کہ لیول پلئینگ فیلڈ تک انتخابات نہ کرائے جائیں، سیاسی جماعتوں کا یہ کام نہیں ہوتا کہ وہ اگر سیاسی طور پر کمزور ہے یا اسے لگتا ہے کہ وہ حریف جماعتوں کو سیاسی میدان میں مقابلہ نہیں کر سکتی تو اس کیلئے وہ ترازو کے دونوں پلڑے برابر ہونے کے مطالبات کرے۔
سیاسی جماعت کا کام تو بے خطر کود پڑا آتش نمرود والا ہوتا ہے۔ سیاسی جماعتیں اگر مگر چونکہ چنانچہ کہہ کر سیاسی میدان سے بھاگا نہیں کرتیں۔ اس وقت جو حالات ہیں عمران خان کو قابو کیسے کرنا ہے وہ حکومت اور دیگر سیاسی جماعتوں کیلئے درد سر بنا ہوا ہے۔ عمران خان کے کارکنان نے جس طرح کی مزاحمت ان کی گرفتاری کے دوران دکھائی یہ حکومت کی کمزور ہوتی ہوئی رٹ کی واضح مثال ہے وگرنہ ماضی میں ایسی کوئی مثال موجود نہیں ہے کہ پولیس کسی سیاسی رہنما کو گرفتار کرنے جائے اور اسے ہوں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے۔
یار لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ حکومت کی ناکامی نہیں ہے بلکہ یہ معیشت کی کمزوری کی جانب اشارہ کرتی ہوئی صورتحال ہے۔ اگر معیشت مضبوط ہوتی تو عمران خان کا بیانیہ زمین بوس ہو چکا ہوتا۔ادھر عمران خان نے بھی مذاکرات کی پیشکش کی ہے، یہ مذاکرات اگر حکومت کرنا چااہتی ہے تو اس کا ایجنڈا کیا ہو گا، کیا عمران خان انتخابات کے مطالبے سے پیچھے ہٹ سکتے ہیں
یہ وہ اہم سوالات ہیں کہ عمران خان نے مذاکرات کی پیشکش کن پوائنٹس پر کی ہے۔لیکن عمران خان کے مذاکرات کی پیشکش کے جواب میں حکومت کے تیور جارحانہ ہی دکھائی دیتے ہیں کیوں کہ عمران خان کی اسلام آباد میں پیشی کے دوران ہی ان کے گھر پر پولیس نے گرینڈآپریشن کیا ہے۔ یعنی حکومت مذاکرات کرنے کے موڈ میں بالکل نہیں ہے اور حکومت کی کوشش ہے کہ کسی طرح عمران خان کو گرفتار کر کے پابند سلاسل کیا جائے اور اس کے بعد الیکشن کرانے ہیں یا نہیں کرانے اس پر غور کیا جائے گا۔
دوسری جانب وفاق میں لمبے عرصے تک نگران سیٹ اپ کے قیام کی افواہیں بھی گردش کررہی ہیں، کیوں کہ موجودہ پی ڈی ایم حکومت کی کارکردگی کو دیکھیں تو یہ کہنے میں کوئی مذائقہ نہیں ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی حکومت میں آنے کے بعد سیاسی موت ہو چکی ہے اور یہ اس قابل نہیں رہیں کہ پی ٹی آئی کا سیاسی میدان میں مقابلہ کر سکیں۔ پی ٹی آئی مقتدر حلقوں کیلئے فی الحال قابل قبول نہیں ہے اور اسی مقصد کیلئے متقدر حلقے چاہتے ہیں کہ الیکشن کو جتنا تاخیر کا شکار کیا جا سکتا ہے کیا جائے تب تک ایک ایسا نگران سیٹ اپ لانچ کیا جائے جس میں معاشی ماہرین کی ٹیمیں موجود ہوں تا کہ پاکستان کو آئی ایم ایف اگر پیسے نہیں بھی دیتا تو وہ معاشی ماہرین ملک کو کم از کم اس قابل بنا سکیں کہ ہمیں آئی ایم ایف کے پاس نہ جانا پڑے۔ کیوں کہ ایسی خبریں بھی سامنے آئی ایم ایف نے ایٹمی پروگرام پر سمجھوتے کی شرط رکھی ہے۔
یکے بعد دیگر حکومت کی دو اہم شخصیات نے اس پر بیان بھی دیا ہے کہ پہلے وزیراعظم ہاؤس سے خبر جاری ہوئی کہ ایٹمی پروگرام پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے پھر اسحق ڈار نے سینیٹ میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایٹمی پروگرام اور میزائل پروگرام کی رینج پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
دونوں اہم شخصیات کے بیانات سے یوں لگتا ہے کہ آئی ایم ایف نے ایٹمی پروگرام اور پاکستان کے میزائل پروگرام پر کچھ قدغن لگانے کی باتیں کی ہیں جس پر نہ تو موجودہ سیاسی اشرافیہ اس پوزیشن میں ہے کہ عمل کر سکے اور نہ ہی مقتدر حلقے یہ مطالبات ماننے کو تیار ہیں۔
ایسے میں حکومت اور ملک کی گاڑی معیشت کے بغیر کیسے چلے گی یہ اہم سوال ہے۔ لے دے کر دوست ممالک ہی بچتے ہیں جن سے دس ارب ڈالر اگر مل جائے تو معاملات بہتری کی جانب سفر کر سکتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں خود بھی کچھ کرنا ہو گا کیوں کہ ہمیشہ دوست ممالک تو مدد نہیں کریں گے۔
دنیا میں نئے اتحاد بن رہے ہیں ایران اور سعودی عرب کی صلح ہو گئی ہے اور سعودی عرب کہتا ہے کہ ان کے پاس ایسی کوئی وجہ نہیں کہ وہ ایران میں سرمایہ کاری نہ کریں۔ یہ صلح چین کی ثالثی میں ہوئی ہے اب پاکستان اس نئی گریٹ گیم میں کہاں کھڑا ہے اس پر سوالیہ نشان ہے کیوں کہ پاکستان امریکہ کی مخالفت اور خوف کی وجہ سے اب تک ایران سے پائپ لائن معاہدے کی تکمیل نہیں کر سکا جس کی وجہ سے اس پر اٹھارہ ارب ڈالر جرمانہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس لئے معاشی طور پر جب تک ہم خود کفیل نہیں ہوں گے ہمارے لئے کسی بھی گریٹ گیم اور نئے اتحاد کا حصہ بننا مشکل دکھائی دیتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں