زلفوں میں شام رکھتے تھے

‏گریز شب سے، سحر سے کلام رکھتے تھے
کبھی وہ دن تھے کہ زلفوں میں شام رکھتے تھے

تمھارے ہاتھ لگے ہیں تو جو کرو سو کرو
وگرنہ تم سے تو ہم سو غلام رکھتے تھے

ہمیں بھی گھیر لیا گھر کے زعم نے تو کھلا
کچھ اور لوگ بھی اس میں کلام رکھتے تھے

یہ اور بات ہے ہمیں دوستی نہ راس آئی
ہوا تھی ساتھ تو خوشبو مقام رکھتے تھے

نجانے کون سی رت سے بچھڑ گئے وہ لوگ
جو اپنے دل میں بہت مقام رکھتے تھے

وہ آ تو جاتا کبھی ہم تو اس کے رستوں پر
دیئے تو جلائے ہوئے صبح و شام رکھتے تھے

نوشی گیلانی

زلفوں میں شام رکھتے تھے” ایک تبصرہ

  1. You’re in point of fact a just right webmaster. This website loading speed is incredible. It kind of feels that you’re doing any unique trick. Also, the contents are masterwork. you have performed a great job in this subject! Similar here: e-commerce and also here: Najlepszy sklep

اپنا تبصرہ بھیجیں