نواز شریف: جدہ میں سعودی بزنس ڈیل ہوگی؟

یوں تو رمضان کا آخری عشرہ آل شریف، آل سعود کی دعوت پر مکہ مدینہ میں ہی

قیام پذیر رہتا ہے تاہم اب نواز شریف آل سعود سلطنت کو کاروباری فائدہ پہنچانے کیلئے

بھی پر عزم لگ رہے ہیں۔ سعودی عرب گوادر میں دلچسپی رکھتا ہے چنانچہ سعودی آئل ریفائنری کیلئے موجودہ

کابینہ میں ایک خصوصی پالیسی کی منظوری حاصل کی جا رہی ہے جس کے تحت سعودی عرب 10 ارب ڈالرز

پر مشتمل کاروباری سرگرمی کا آغاز کرے گا، وزیر مملکت برائے پیٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک اس پالیسی کی تصدیق

کر چکے ہیں۔

سعودی حکومت کے اعلی حکام کے ساتھ آئل ریفائنری منصوبے پر نواز شریف سے بات چیت کی جا رہی ہے۔

ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے 2019 میں اسلام آباد دورے پر آئل ریفائنری کے منصوبے کا اعلان

کیا تھا تاہم پالیسی دستاویزات فائنل نہیں ہو سکی تھیں۔ نواز شریف اپنے بھائی وزیر اعظم شہباز شریف

کے ذریعے سے اس خصوصی پالیسی کو منظور کرائیں گے اور سعودی عرب کو آئل انڈسٹری میں

بڑا مالی فائدہ پہنچایا جائے گا۔

پروٹوکول میں ہونے والے عمروں کے پس پشت قومی وسائل کی سودے بازی لی جائے تو پھر، ہمیں سوال اٹھانا چاہیے کہ آخر کب تک پاکستان اپنی پالیسیوں کو دیگر ممالک کے تزویراتی و مالی فوائد کیلئے تشکیل دیتا رہے گا؟ اکمل سومرو لاہور

اپنا تبصرہ بھیجیں