محسن نقوی کی سالگرہ اور دوستی نبھانے کا ہنر

کئی برس پہلے ایک معاصر مگر مشہور کالم نگار نے کہا تھا کہ اگر طبع موزوں نہ ہو تو کالم زبردستی لکھنے سے گریز کرنا ہاں البتہ 15دوستوں اور خیرخواہوں کے کالم لکھنے پر اصرار کے لئے فون آجائیں تو پھر طبع موزوں کا عذر بھی فضول ہوگا ،بہرحال قارئین سے کچھ عرصہ رابطہ نہ ہوسکنے کی اصل وجہ میری بیماری رہی ہے جس پر میں اپنے ان دوستوں کا بے حد ممنون ہوں جنہوں نے مجھے فون کرکے کالم لکھنے پر اصرار کیا انکی تعداد بھی 15سے کہیں زیادہ ہوگئی تھی ،آفس بھی علالت کے باعث کچھ عرصہ سے نہیں جاسکا ،بستر علالت پر گزرے ہوئے دنوں کی یادیں سمیٹ رہا ہوں اسی دوران چالیس سال پہلے کی حسین یادوں کے جھرمٹ میں محسن نقوی کا مسکراتا ہوا چہرہ سامنے آگیا ،
5مئی 1947 کو ڈیرہ غازی خان کے محلہ سادات میں پیدا ہونے والے محسن نقوی کو 1996ء میں15جنوری کے روز سفاک قاتلوں نے علامہ اقبال ٹائون کی مارکیٹ میں 18گولیاں مار کر شہید کردیا وہ 1988ء کے دوران روزنامہ مساوات میں میرے ساتھی کی حیثیت سے آتے تھے اور کالم بھی لکھتے رہے ،حالانکہ محسن نقوی کا مجھ سے تعلق بہت پرانا رہا ،1985ءکی بہاولپور میں ہونیوالی ظہور نظر کانفرنس کے موقع پر تو وہ ایک مقامی شاعرہ سے تعارف کی خاطر میری منت سماجت تک کرتے رہے ،محسن نقوی کا عجزو انکسار ہی ہماری دوستی کا حقیقی سبب رہا ،1988ء کے دوران جب میں مساوات کے ادبی ایڈیشن کے انچارج کی حیثیت سے محسن نقوی کی غزلیں بڑے اہتمام سے شائع کرتا رہا تو شاعر اہل بیت محسن نقوی اس پر بہت ممنون و مشکور ہوئے جس کا وہ اپنے دوستوں کے سامنے میری اس فراغ دلی کا کھلے دل سے اعتراف بھی کرتے ،حالانکہ محسن میری پیدائش سے قبل ہی اپنی شاعری کو دنیائے ادب میں منواچکے تھے ،میرے سامنے یہ بھی انکی اعلیٰ ظرفی کی عمدہ مثال ہی تو ہے ،دوسرا محسن نقوی زود گوئی میں باکمال شاعر ثابت ہوئے ،ہماری روزمرہ کی ملاقاتوں کے دوران اکثر اس کا وہ برملا اظہار کیا کرتے تھے ،ایک موقع پر انکی شاعری کی ایک خاتون پرستار کے لئے فی البدی شاعری پر مجھے کچھ شبہہ ہوا کہ شائد ایک دو روز مشق کی ہوگی مگر میں نے ایک موقع پر محسن سے اپنے لئے کچھ کہنے کی فرمائش کردی تو میرا شک انکی میرے بارے میں طویل مگر شاہکار فی البدی نظم نے دور کردیا اس کا آخری بند نذر قارئین ہے ،

بجا کہ گم ہورہا ہے انساں ملال کیسا

جہاں ہو زاہد وہاں پہ قحط الرجال کیسا

کہ اس کا دل ہے خلوص کا بیکراں سمندر

سمندروں پہ عروج کیسا ،زوال کیسا

محسن نقوی شاعری کے علاوہ مرثیہ نگاری میں بھی کمال مہارت رکھتے تھے،انہوں نے اپنی شاعری میں واقعہ کربلا کے استعارے جابجا استعمال کیے۔ ان کی تصانیف میں بند قبا،عذاب دید، خیمہ جان، برگ صحرا، طلوع اشک، حق ایلیا، رخت شب ،ریزہ حرف ، موج ادراک

اور دیگر شامل ہیں۔ محسن نقوی کی شاعری میں رومان اور درد کا عنصر نمایاں تھا۔ ان کی رومانوی شاعری نوجوانوں میں بھی خاصی مقبول تھی۔ ان کی کئی غزلیں اور نظمیں آج بھی زبان زد عام ہیں اور اردو ادب کا سرمایہ سمجھی جاتی ہیں۔ محسن نے بڑے نادر اور نایاب خیالات کو اشعار کا لباس اس طرح پہنایا ہے کہ شاعری کی سمجھ رکھنے والا دنگ رہ جاتا ہے۔

اِک ”جلوہ“ تھا، سو گُم تھا حجاباتِ عدم میں

اِک ”عکس“ تھا، سو منتظرِ چشمِ یقیں تھا۔

محسن نقوی کے غزل اور نظم کے قادر الکلام شاعر ہونے کے بارے میں دو آراء نہیں ہو سکتیں۔ محسن کی نثر جو اُن کے شعری مجموعوں کے دیباچوں اور اخبارات میں شائع انکے کالموں کی شکل میں محفوظ ہو چکی ہے بلا شبہ تخلیقی تحریروں کی صفِ اوّل میں شمار کی جا سکتی ہے۔محسن نقوی کی آج سالگرہ ہے اور انکے پرستاروں کے ساتھ خاکسار بھی انکے ساتھ بیتے لمحات کو یاد کرتا رہا ،محسن نقوی میرے قبیلے کا ایک ایسا فرد تھا جس نے آخری دم تک دوستوں سے تعلق نبھایا،محسن کا تعلق کسی سے بھی کبھی کمزور نہیں رہا ،محسن نقوی دوستیاں نبھانے کا سلیقہ جانتے تھے ،سرور سکھیرا سے انکی پرانی دوستی تھی جومساوات میں ہمارے ساتھ دوبارہ رابطے کا سبب بنی ،اسی زمانے میں رضاعباس نقوی بھی محسن نقوی کے ساتھ آتے رہے ،محسن نقوی کی رضا عباس سے محبت کا ایک اٹوٹ رشتہ رہا جسے رضا عباس نقوی آج بھی نبھارہے ہیں ،محسن نقوی ہمیشہ ہم خیال لوگوں کے ساتھ وقت گزارنے کو ترجیح دیتے رہے ،اس حوالے سے وہ اپنی شاعری میں بھی اس کا برملا اظہار بھی کرتے نظرآتے ہیں ،

ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی
میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں