بحران خان!

پی ٹی آئی مخالفین کی جانب سے عمران خان پر لگائے جانے والے اس الزام میں کافی وزن ہے کہ تحریک انصاف کے چئیرمین کی سیاست خود سے شروع ہوکر خود تک ہی رہتی ہے کیونکہ وہ نرگسیت کے مارے ایک خود غرض انسان ہیں جنہیں اپنے سوا کچھ نظر نہیں آتا ۔

کرکٹ کے جس عالمی کپ کی جیت پر انہیں قومی ہیرو کے طور پر اتنی پذیرائی ملی کہ انہیں ملک کی ”وزارت عظمیٰ ” تک رسائی دی گئی،اس کپ کی جیت کو انہوں نے ذاتی شہرت اور ناموری کے لئے ہتھیار بناکر اسے اپنی والدہ کے نام پر کینسر ہسپتال بنا نے کے لئے استعمال کیا۔جس کے سارے معاملات کا ارتکاز اپنی ذات میں کرکے اسے چلانے کے لئے اپنے گھرانے کے افراد کے ہی سپرد کئے رکھا اور کسی کو بھنک تک نہیں پڑنے دی کہ اس کی آمدنی کا حساب کتاب کیا اور کس کے پاس ہے ۔

گناہ برگردنِ راوی شوکت خانم کینسر ہسپتال دراصل عمران خان کا منافع بخش کاروبار ہے جس کی تمام شاخوں سے ہونے والی آمدنی ان کے ذاتی تصرف میں رہتی ہے جس کی حقیقت مسلم لیگی ممبر قومی اسمبلی خواجہ آصف کے انکشاف کے بعد کھلی کہ ہسپتال کے کروڑوں روپے سے عمران خان نے سٹہ کھیلا اور عوام کی امانت میں خیانت کا ارتکاب کیا جس پر عمران خان نے خواجہ آصف کے خلاف بھاری ہرجانے کا دعویٰ کیا ،جواب دعویٰ میں حال ہی میں تسلیم کیا کہ انہوں نے ہسپتال کی رقم ایک تعمیراتی فرم کے ساتھ سرمایہ کاری میں استعمال کی تھی۔

اس اعتراف پر ان کے ہسپتال کے لئے فنڈ ریزنگ کے لئے رضاکارانہ خدمات دینے والے ملک کے نامور صحافی حامد میر نے باقاعدہ کالم لکھ کر عمران خان کی اس حرکت پر اظہار افسوس کیا جبکہ خان موصوف کی طرف سے کسی قسم کا اظہار ندامت ہنوز سامنے نہیں آیا اور نہ ہی آئے گا کیونکہ عمران خان نے غلطی تسلیم کرنا سیکھا ہی نہیں غلط کام کرکے اس سے پھر جانے کو انہوں نے یوٹرن کا نام دے کر اپنے ہر گناہ کی تاویل اور جواز ڈھونڈ رکھا ہے جس پر بڑے گھمنڈ سے کہتے ہیں کہ اصل لیڈر ہوتا ہی وہ جو یو ٹرن لیتا رہے۔یوں عمران خان دنیا کے واحد سیاسی لیڈر ہیں جنہیں اپنی غلط کاریوں پر ندامت ہوتی ہے ،نہ شرمندگی بلکہ وہ بڑے سے بڑا بلنڈر کرکے بھی فخریہ یوٹرن لیتے ہوئے اعتراض کرنے والوں کی کردار کشی کرنا فرض سمجھتے ہیں۔

وہ دنیا کے واحد سیاست دان ہیں جنہیں اپنے حریفوں کی کردار کشی کے علاوہ کچھ نہیں آتا۔اقتدار ملنے سے پہلے اور بعد میں ،پھر اقتدار چھن جانے کے بعد ان کا سارا وقت مخالف سیاست دانوں پر دشنام کرنے،انہیں برابھلا کہنے اور اپنے ساتھیوں کو ان پر گند اچھالنے پر اکسانے میں گذرتا ہے ان کی منفیت ان کے خون میں تو شامل ہے ہی ،ان کے ماننے والے بھی اس عصبیت کی آلودگی سے محفوظ نہیں رہے اور اس میں ان پڑھ اور لکھے پڑھے کی کوئی تمیز نہیں۔ان کے اعلیٰ ڈگریوں کے حامل کارکن اور پارٹی عہدیدار بھی اخلاق باختہ گفتگو کے اس قدر عادی ہوچکے ہیں کہ انہیں کسی مخالف کی پگڑی اچھالنے میں کبھی عار محسوس نہیں ہوتا ۔سب کے سب ”زباں بگڑی سو بگڑی تھی خبر لیجئے دہن بگڑا” کی عملی تصوریر بنے دیوانہ وار گھومتے ہیں

اور اسی کا شکار ہوئے ہیں فواد چوہدری جنہوں نے گھاٹ گھاٹ کا پانی پی رکھا ہے۔وہ ساری سیاسی جماعتیں ماضی میں جن کا وہ حصہ رہے ہیں آج کل عمران خان کی صحبت میں رہ کر انہیں پر برس رہے ہیں ۔ان کے غصے کی وجہ بیان کرنے والوں کا خیال ہے کہ موصوف نے تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کا اندازہ لگا کر جن پارٹیوں میں پناہ لینے کی کوشش کی تھی ان سب نے عمران خان کی صحبت کے رنگ میں رنگے شخص کو لینے سے صاف انکار کردیا تھا جس کے بعد انہیں احساس ہوگیا کہ اب تو سیاسی حوالے سے ان کی آخری آرام گاہ تحریک انصاف ہی ہے اس لئے وہ اس کے لیڈر کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ہر حد پھلانگنے کو تیار ہوگئے

اسی رو میں وہ ہرعمران مخالف ادارے،جماعت اور فرد پر لپکے پڑتے ہیں جس کا خمیازہ وقتی طور پر حالیہ گرفتاری کی صورت میں بھگتنا ان کا نصیب ہوا ہے مگر قیاس کیا جاتا ہے کہ ان کی گرفتاری کے لئے اپنایا جانے والا انداز اور اندراج مقدمہ ان کے سسٹم میں موجود مہربانوں کی محبت کا مرہون منت ہے تبھی تو میڈیا میں انہیں ہیرو بناکرپیش کیا جارہا ہے جبکہ دو چار دن کی اسیری کے بعد ان کی ممکنہ رہائی بھی عمل میں آسکتی ہے۔ایسا ہوا تو پھر حکومت میں بیٹھے لوگ کی بے بسی جو ابھی تک ان کے گلے شکووں کی صورت ہی سامنے آرہی ہے زبان حال سے عیاں ہوکر دنیا کو چیخ چیخ کر بتائے گی کہ ”نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں” اور وہ مقتدرہ کے بچھائے جال میں بری طرح پھنس کر اپنا سارا سیاسی سرمایہ تباہ کربیٹھے ہیں۔

ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچاتے بچاتے مسلم لیگ ن والے خود ہی سیاسی طور پر دیوالیہ ہوچکے ہیں اور وہ ایسے کہ اب مریم نواز شریف اس نقصان کو پورا کرنے کے لئے جتنا مرضی زور لگائیں ،خسارا پورا نہیں ہوسکے گا اسی لئے دانشمند بہی خواہوں کی طرف سے اشارا دیا جارہا ہے کہ نواز شریف وطن واپسی کاخیال دل سے نکال کر آصف علی زرداری کے ساتھ محبت کی لاج رکھیں اور پنجاب میں ان کے ساتھ مل کر اگلے انتخابات کی حکمت عملی وضع کریں تا کہ سندھ،بلوچستان کے ساتھ پنجاب کے انتخابات میں معقول نششستیں حاصل کرکے مرکز میں حکومت بنا سکیں۔اقتدار ملے نہ ملے حکومت بنا کر عمران خان کا راستہ روکنا ان کا مشن ہونا چاہئے جو حکومت سے نکلنے کے بعد اپنی انتقامی سوچ کے سبب بحران خان بن چکے ہیں۔اس خود سر گھوڑے کو قابو کرنے کے لئے آصف علی زرداری سے بہتر کوئی شہسوار نہیں ہوسکتا!

اپنا تبصرہ بھیجیں