اتفاق رائے کیوں؟

بڑی خوشی کی بات ہے کہ ملک کے دو ذمہ دار اداروں یعنی سپریم کورٹ آف پاکستان اور پاک فوج کی طرف سے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ سیاسی پارٹیاں آپس میں اتفاق رائے قائم کریں۔ ظاہر ہے کرپشن پر تو اتفاق ہو نہیں سکتا نہ ہی لا قانونیت پر اتفاق ہو سکتا ہے بلکہ اتفاق رائے کی ضرورت اس لئے ہے کہ ملک میں جاری سیاسی، سماجی اور معاشی عدم استحکام کا خاتمہ ہو۔ حالات پر امن اور ماحول کاروبار دوست ہو، یہاں سے غربت و افلاس اور بیروزگاری کا خاتمہ ہو تاکہ ملک ترقی کے راستے پر چل پڑے۔
عمران خان کے نزدیک ان مسائل کا حل الیکشن ہے مگر یہاں ایک سوال ابھرتا ہے کہ کیا الیکشن سے ان مسائل کا حل نکل آئے گا کیونکہ پاکستان کا مسئلہ اس وقت سیاست سے زیادہ معیشت ہے۔ اس سوال کے جواب میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ فریش مینڈیٹ کے بعد جو بھی سیاسی حکومت قائم ہو وہ ان مسائل کے حل کیلئے نئے راستے تلاش کر سکتی ہے، بہتر منصوبہ بندی کر سکتی ہے۔ قوموں پر اس سے بھی کڑے وقت آئے مگر پھر ان مشکلات کا حل رہنماؤں ہی نے ڈھونڈا۔ اگر رہنما اچھا ہو تو کشتی کوبھنور سے نکال کر کنارے لگا دیتا ہے اور اگر رہنما نا اہل اور نکما ہو تو وہ کشتی کو بھنور میں لہروں کے سپرد کر دیتا ہے، جیسا کہ ایک سال سے’’ماہرین‘‘ کر رہے ہیں۔ گزشتہ ایک سال سے ہماری معیشت کی کشتی منجدھار میں لہروں کے سپرد ہے اور موجودہ معاشی ٹیم کشتی کو کنارے کی طرف لے جانے کی بجائے گہرے پانیوں کی طرف لے جا رہی ہے ۔

موجودہ معاشی ٹیم کے تمام دعوے دریا برد ہو چکے ہیں۔ افسوس! ہمارے قومی سیاسی رہنماؤں کا دھیان اس جانب جاتا ہی نہیں ۔ گزشتہ ایک سال سے سیاسی رہنماؤں نے اپنے حق میں بہت قانون سازیاں کیں ۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ وہ پاکستانی عوام یا پاکستان کیلئے کچھ نہ کر سکے بلکہ ایک سال میں انہوں نے مقدموں، گرفتاریوں، نظر بندیوں اور پکڑ دھکڑ کے سوا کچھ نہ کیا ۔
حالیہ افسوس ناک واقعات کا رخ عمران خان یا پی ٹی آئی کی طرف موڑنے کی کوشش ہو رہی ہے ۔ ممکن ہے حکمرانوں نے یہ تہیہ کر رکھا ہو کہ ان واقعات کا ذمہ دار پی ٹی آئی کو ٹھہرانا ہے۔ میرے خیال میں یہ درست نہیں کیونکہ لوگوں کو اپنا غصہ اتارنے کے لئے کوئی ایک موقع چاہئے تھا وہ موقع انہیں عمران خان کی غیر قانونی حراست نے فراہم کر دیا۔ آپ ذرا گہرائی میں جاکر سوچیں کہ گزشتہ ایک برس کی حکمرانی نے لوگوں کی زندگیوں کو بہت تنگ کر دیا ہے ۔ لوگوں کوبے رحم مہنگائی کا سامنا ہے۔

مہنگائی اور بیروزگاری کا سیلاب لوگوں کو نگلتا جا رہا ہے ۔ غربت کی شرح میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔ غریب تو پہلے ہی زندگی کی ضروریات کو ترس رہا تھا ، موجودہ حکمرانوں نے تو مڈل کلاس کو بھی غریب بنا کر رکھ دیا ہے ۔ جس ملک میں کروڑوں کی تعداد میں بیروزگار ہوں وہاں ایک چنگاری ہی کی ضرورت تو ہوتی ہے۔ حالیہ واقعات پر ملک کے نامور قانون دان چوہدری اعتزاز احسن کا تبصرہ نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ لبرٹی مارکیٹ سے ڈھائی کلو میٹر کا فاصلہ طے کر کے مظاہرین کور کمانڈر ہاؤس تک پہنچے، اس دوران انہیں روکنےکیلئےپولیس کہیں نظر نہیں آئی، نہ ہی کینٹ ایریا میں داخل ہوتے وقت کسی فوجی چوکی پر انہیں کسی نے روکا اور نہ ہی کور کمانڈر ہاؤس کی حفاظت کیلئے دستے پہنچ سکے ،اس سے نئے سوالات جنم لیتے ہیں۔

اس پر ایک عام شہری کا خوبصورت تبصرہ بھی ہے کہ ہماری پولیس اور اداروں نے حالیہ واقعات میں ملوث لوگوں کی شناخت لمحوں میں کر لی ، ان کے گھروں کے ایڈریس تلاش کر لئے اور ان کے والدین تک پہنچ گئے تو یہ جو سارا سال چوری ، رہزنی اور ڈکیتی کے واقعات ہوتے ہیں ہماری پولیس ان مجرموں کی تلاش کیوں نہیں کر پاتی۔ میں نے پچھلے کالم میں بھی عرض کیا تھا کہ گرفتاریاں اور مقدمے مسائل کا حل نہیں ہیں۔ اس سے نفرت پیدا ہو گی مگر نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے۔ پکڑ دھکڑ کا کھیل اب بھی جاری ہے مجھے کچھ ویڈیوز دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے جس میں سرکاری اہلکار نوجوان لڑکے لڑکیوں پر وحشیانہ تشدد کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

حالیہ دنوں میں کچھ لڑکیوں کو گرفتار کیا گیا۔ پتہ نہیں ان لڑکیوں کوکہاں رکھا گیا ہے، ان کے بارے میں کچھ بھی بتایا نہیں جا رہا۔ معاشرے میں اس سے نفرت اور بے چینی بڑھے گی یہاں سرکاری اہلکاروں سے بھی ایک سوال ہے کہ کیا ان کی بہنیں اور بیٹیاں نہیں ہیں؟۔ آخر وہ کیوں قوم کی بیٹیوں سے گھناؤنا کھیل، کھیل رہے ہیں ؟؟۔ ضیاء الحقی مارشل لا میں چودہ سال سزا بھگتنے والے لکھوال کے جمیل عباسی کہتے ہیں کہ’’ایسا تشدد اور ایسی بے حرمتی تو ضیاء الحق کے مارشل لاء میں بھی نہیںہوئی تھی۔ اس وقت لوگوں کے گھروں میں توڑ پھوڑ کے ساتھ عورتوں اور بچوں کی تذلیل نہیں ہوتی تھی جو اب ہو رہی ہے‘‘۔
ایسے ہی واقعات کی روک تھام کیلئےمیں بار بار لکھ رہا ہوں اور مسلسل کہہ رہا ہوں کہ سمجھداری کا مظاہرہ کیجئے، گرفتاریاں، مقدمے اور تذلیل مسائل کا حل نہیں ، اس سے نفرت جنم لیتی ہے ۔ کوئی سمجھ جائے تو اچھا ہے ورنہ حکمرانوں کی خدمت میں وصی شاہ کا شعر پیش خدمت ہے کہ
ظلم کے دور کو چلتا تو نہیں رہنا ہے
تجھ کو منصب پہ ہمیشہ تو نہیں رہنا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں