تارکین وطن، ہجرت اور دہری شہریت

تارکین وطن کو عموماً دو طعنے دیے جاتے ہیں ۔ پہلا،یہ لوگ پاکستان میں جو زر مبادلہ منتقل کرتے ہیں وہ ملک پر احسان نہیں ہے، یہ پیسے وہ اپنے رشتہ داروں کو بھیجتے ہیں ، اگر اِن کے رشتہ دار یوگنڈا چلے جائیں تو یہ لوگ پاکستان کی بجائے یوگنڈا میں پیسےبھیجنا شروع کردیں گے۔دوسرا،اِن لوگوں نے پُر آسائش زندگی کی خاطر اپنا وطن چھوڑا، شہریت ترک کی،غیر ملک کی وفاداری کا حلف اٹھایا اور اب خواہ مخواہ باہر بیٹھ کر پاکستان کے معاملات میں منہ مارتے رہتے ہیں ،انہیں چاہیے کہ جس ملک کا پاسپورٹ لیا ہےاُس ملک کی فکر کریں ، پاکستان کو ہم اِن کے بغیر بھی سنبھال لیں گے۔مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ کسی حد تک میرے یہی خیالات تھے لیکن پھر بتدریج میری سوچ میں تبدیلی واقع ہوئی اورآج میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ دونوں طعنے نا مناسب ہیں ۔سچ پوچھیں تو جو لوگ سن ستّر میں ہی پاکستان چھوڑ کر باہر منتقل ہوگئے تھے ہمیں اُن کی دور اندیشی کی داد دینی چاہیے۔اِس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جو پاکستان میں رہ گئے وہ عقل مند نہیں یا خدا نخواستہ اُن کا مستقبل مخدوش ہے ،مدّعاصرف اتنا ہے کہ ملک سے ہجرت کرجانا کوئی معیوب بات نہیں ، دنیا بھر میں لوگ اپنا یہ حق استعمال کرتے ہیں،سوال مگر یہ ہے کہ لوگ ہجرت کیوں کرتے ہیں؟
اِس مرتبہ جب یونان میں کشتی ڈوبنے کا واقعہ پیش آیا تو کچھ لوگوں نے یہ نکتہ اٹھایا کہ آخر وسطی پنجاب کے نوجوان ہی باہر جانے کیلئے کیوں تڑپتے ہیں، اندرون سندھ میں بھی تو غربت ہے ، جنوبی پنجاب میں بھی احساس محرومی ہے مگر وہاں کے باسیوں کے بارے میں کم ہی سننے کو ملتا ہے کہ وہ جان ہتھیلی پر رکھ کر یورپ گئے ہوں۔ بظاہر اِس دلیل میں وزن ہے مگر یہ بات اتنی سادہ نہیں ۔ جب ہم کسی مسئلے کے بارے میں رائے دیتے ہیں تو لا شعور میں یہ فرض کر لیتے ہیں کہ اگر ہمیں یہ مسئلہ درپیش ہوتا تو ہم کیا کرتے۔کسی مسئلے کی جڑ تک پہنچنے کا یہ اچھا طریقہ ہے مگر ماہر بشریات کہتے ہیں کہ ہر شخص علیحدہ سوچ کا مالک ہوتا ہے ، اُس کی اپنی ایک شخصیت ہوتی ہے اور اپنے منفرد حالات ہوتے ہیں ، یہ تمام باتیں مل کر اِس بات کا تعین کرتی ہیں کہ کسی ممکنہ صورتحال میں وہ شخص کیا فیصلہ کرے گا،لہٰذا ضروری نہیں کہ ایسا شخص وہی فیصلہ کرے جو آپ کی سمجھ بوجھ کے مطابق درست ہو۔ہجرت کا معاملہ بھی یہی ہے ، انسانی تاریخ ہجرت سے بھری پڑی ہے، بہتر اورآرام دہ زندگی اور محفوظ مستقبل کی خاطر ہجرت کرنا انسان کی جبلت میں شامل ہے، پرندے اور جانور بھی اپنی جسمانی ضروریات،خوراک اورحفاظت کیلئےہجرت کرتے ہیں۔غریبوں کی بات کیا کریں ، بادشاہوں اور حکمرانوں نے دور دراز کی سرزمینوں کو فتح کیا اور جب انہیں وہ نئی جگہیں زیادہ موزوں لگیں تو وہیں جا کر آباد ہوگئے، جیسے وسطی ایشیا کے ترک اور مغل بادشاہ ہندوستان آکر بس گئے۔ اسی طرح افراد اور قبیلے بھی اپنی فطرت میں ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں، اگراندرون سندھ کے باسی ہجرت کے قائل نہیں یا وہ اِسےسعی لاحاصل سمجھتے ہیں تو کیاوسطی پنجاب والوں کو بھی اُن کی طرح سوچنا چاہیے؟ ظاہر ہے کہ اِس کا جواب نفی میں ہوگا ۔بلوچستان سے لوگ اومان چلے جاتے ہیں، پشتون بھائی زیادہ تر امارات کے شہروں میں جا کر کام کرتے ہیں جبکہ آزاد کشمیر اور میر پور کے لوگوں سے آدھا برطانیہ بھرا ہوا ہے ۔سو اِس بات میں وزن نہیں کہ باہر جانے والوں کو اندرون سندھ یا جنوبی پنجاب والوں کی طرح سوچنا چاہیے، ہم یہ کیوں نہیں کہہ سکتے کہ انہیں وسطی پنجاب اور میر پور والوں کی طرح ہجرت کرنی چاہیے ! واضح رہےاِس پوری بحث کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جو لوگ اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر عورتوں اور بچوں کے ساتھ کشتیو ں میں یورپ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں وہ درست قدم اٹھاتے ہیں ، بے شک اِس سے زیادہ خطرناک حرکت کوئی نہیں اور اِس کا دفاع نہیں کیا جا سکتا۔
اصل میں ہم نے اِس ملک میں ہر بات کو ہی طعنہ بنا دیا ہے ، آپ چاہے کامیاب صنعتکار ہوں ، سیلف میڈ تاجر ہوں، قابل افسر ہوں یا کسی کمپنی کے سی ای او ہوں، لوگ کسی حال میں جینے نہیں دیں گے ۔تارکین وطن کے ساتھ بھی ہمارا یہی رویہ ہے ، دنیا بھر میں ایسے لوگ اپنے ملک کا اثاثہ ہوتے ہیں مگر ہم نے اِس اثاثے کی بھی پروانہیں کی ۔اسرائیل کی مثال لیتے ہیں جس کی پالیسی بہت دلچسپ ہے ، اِس کے مطابق جو شخص اپنے آباؤ اجداد کو یہودی ثابت کر سکتا ہے اسے اسرائیلی شہری ہونے کا حق مل جاتا ہے چاہے وہ دنیا کے کسی بھی حصے میں رہ رہا ہو۔ اس پالیسی نےدنیا بھر کے یہودیوں کو اسرائیل کی ریاست کے ساتھ مضبوطی سے جوڑ دیا ہے حالانکہ وہ اسرائیل میں نہیں رہ رہے۔ امریکہ میں یہودیوں کی سب سے بڑی آبادی ہے، اُن کا کاروبار، سیاست اور مستقبل بھی محفوظ ہے، وہ زندگی کے تمام شعبوں میں سرگرم ہیں اور کچھ پر اُن کا غلبہ بھی ہے، لیکن اسرائیل نے انہیں کبھی امریکی شہریت چھوڑ کر اسرائیل واپس آنے کو نہیں کہا کیونکہ اسرائیلی تارکین وطن امریکہ میں رہ کربہتر انداز میں اسرائیل کے مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں۔ امریکہ اور دیگر ممالک میںآباد اسرائیلی تارکین وطن نے اپنی سرمایہ کاری اور اثر و رسوخ سے ریاستِ اسرائیل کو اتنا ترقی یافتہ بنا دیا ہے کہ دشمن کو بھی دیکھ کر رشک آتا ہے ۔
دہری شہریت کے معاملے میںبھارت کی مثال ہمارے لیے زیادہ بہتر رہے گی۔کوئی بھی بھارتی شہری دو پاسپورٹ نہیں رکھ سکتا ، جب بھی کوئی ہندوستانی کسی دوسرے ملک کی شہریت لیتا ہے تو اسے اپنا بھارتی پاسپورٹ واپس کرنا پڑتا ہے تاہم اُسے ایک کارڈ جاری کردیا جاتا ہے جس کے تحت وہ بھارت میں جائیداد رکھ سکتا ہے، اسے دیگر حقوق بھی حاصل ہوتے ہیںمگر وہ ووٹ نہیں ڈال سکتا۔ بھارت کے برعکس پاکستان میں دہری شہریت کے حامل افراد کو ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہے تاہم وہ انتخاب نہیں لڑ سکتے اور کوئی عوامی عہدہ نہیں رکھ سکتے،ایک لحاظ سے یہ پالیسی بھارت کے مقابلے میں نرم ہے لیکن اِس کے باوجود ہندوستان کے تارکین وطن اپنے ملک کیلئے اثاثہ ثابت ہورہے ہیں جبکہ ہم اِس اثاثے سے کوئی کام نہیں لے سکے۔ہم تارکین وطن سے کیا کام لے سکتے ہیں اور تارکین وطن کو اپنے ملک کے لیے کیا کام کرنا چاہیے، یہ بات ذرا تفصیل طلب ہے ، سو اِس کا ذکر پھر کبھی !

اپنا تبصرہ بھیجیں