جنرل عاصم منیر اسم بامسمیٰ ؟

برسہا برس سے شورش کا شکار افغانستان جہاں صنعت و پیداوار مفقود ہے،وہاں ڈالر کی شرح تبادلہ لگ بھگ 80افغانی ہے،سری لنکا جو دیوالیہ پن کا شکار ہوچکا،وہاںڈالر322روپےمیں دستیاب ہے تو پاکستان میں ڈالر کی اونچی اُڑان کا سبب کیا ہے؟کیا روپے کی بے قدری کا مطلب یہ ہے کہ ہماری معیشت ان ممالک سے بھی زیادہ تباہ ہوچکی ہے؟یہ وہ سوالات ہیں جو آجکل عام پاکستانی کی پریشانی کا سبب ہیں۔آپ اندازہ کریں جس شخص نے ساری زندگی ایک ایک پیسہ جوڑ کر لگ بھگ پچاس لاکھ روپے جمع کئے تاکہ کوئی چھوٹا سا گھر بناسکے۔روپے کی قدر کم ہونے کی وجہ سے اس کا خواب چکنا چور ہوچکا۔کیونکہ اس کی جیب یا اکاؤنٹ میں اب بھی پچاس لاکھ کے نوٹ تو موجود ہیں مگر عملاً اس میں سے بیس لاکھ روپے اُڑن چھو ہوچکے ہیں۔کسی نے گاڑی خریدنے کے لئے رقم جمع کی یا پھر بیٹیوں کے جہیز کے لئےجمع پونچی سنبھال رکھی ہے،کاروباری افراد جنہوں نے غیر ملکی زرمبادلہ میں کاروبار کرنا ہوتا ہے،یہ رجحان ان سب کے لئے خوفناک ہے۔چنانچہ لوگ یہ سوچنے میں حق بجانب ہیں کہ آخر وطن عزیز کو کس کی نظر لگ گئی؟آخر ایسا کیا ہوا کہ پاکستان کے حالات افغانستان اور سری لنکا سے بھی بدتر ہوگئے؟سیاسی عدم استحکام اپنی جگہ مگر آج بھی پاکستان کا ان ممالک سے کوئی موازنہ ممکن نہیں ۔بھارت اور بنگلہ دیش کا تو معاشی ترقی کی وجہ سے پاکستان پر سبقت لے جانا سمجھ میں آتا ہے مگر افغانستان ،سری لنکا ،مالدیپ اور بھوٹان جیسے ممالک آگے نکل جائیں تو اس پہیلی کو سمجھنا ضروری ہے۔معاشی مشکلات اپنی جگہ مگر پاکستان میں درپیش بحران مصنوعی نوعیت کا ہے۔گزشتہ دہائی کے دوران زیر گردش کرنسی میں بے تحاشا اضافے کے باعث روپے کی قدر کم ضرور ہوئی لیکن اس افراط زر اور روپے کی قدر میں مطابقت نہیں ہے۔معاشی ماہرین کے مطابق آج بھی ڈالرکا حقیقی نرخ 250روپے سے کم ہے ۔لیکن وہی’’سیٹھ‘‘جن سے ملاقاتیں کرکے اس بحران کو ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ،اپنے مالی مفادات کے پیش نظر ڈالر کو اوپر لے جاتے ہیں۔اگر حکومت دو کام کرلے تو ڈالر کی اونچی اڑان کو باآسانی روکا جاسکتا ہے۔ایک تو منی ایکسچینج کا کاروبار بند کردیا جائے ۔غیر ملکی کرنسی کا لین دین بینکوں کے ذریعے ہو تاکہ ڈالر یا کوئی بھی غیر ملکی کرنسی روک کر مصنوعی بحران پیدا نہ کیا جا سکے ۔ افغانستان میں پیداوار نہ ہونے کے باوجود کرنسی اس لئے مستحکم ہے کہ پاکستان سے ڈالر اسمگل ہوکر وہاں جاتا ہے اور خریداری کے لئے اسے استعمال کیا جاتا ہے۔آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی تاجروں سے ملاقات کے بعد جب کریک ڈائون ہوا تو نہ صرف پاکستان میں ڈالر کی شرح تبادلہ میں بڑی کمی دیکھنےمیں آئی بلکہ افغان کرنسی نے بھی اپنی قدر کھودی۔اگرچہ یہ صورتحال عارضی ہے لیکن ڈھیل نہ دی جائے تو نہ صرف مزید بہتری لائی جاسکتی ہے بلکہ اسے برقرار بھی رکھا جاسکتا ہے۔دوسرا کام بیانہ سازی سے متعلق ہے ۔آپ نے نوٹ کیا ہوگا گھر میں اگر بچوں کو یہ کہہ دیا جائے کہ کھانا ختم ہونے والا ہے اور نہیں ملے گا تو بھوک بڑھ جاتی ہے اور بچے مزید تقاضا کرتے ہیں لیکن اس کے برعکس اگر انہیں یقین ہو کہ سب کچھ وافر مقدار میں موجود ہے تو طلب معمول سے بھی کم رہتی ہے۔یہ رجحان محض بچوں تک محدود نہیں ،بالغ افراد کا بھی فطری طور پر یہی طرزعمل ہوتا ہے۔آٹے،چینی ،پیٹرول یا کسی بھی چیز کی قلت ہوجائے تو لوگ معمول سے زیادہ خریداری کرکے ذخیرہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ڈالر کے حوالے سے بھی یہی ہورہا ہے۔اگر آپ نے دو سال پہلے 200روپے کے حساب سے ڈالر خرید لئے تھے اور 320روپے کے حساب سے بیچ دیئے تو سوچیں کتنے کم وقت میں کتنی زیادہ آمدنی ہوئی۔آپ کسی بھی شعبہ میں سرمایہ کاری کرلیں ،اتنا منافع نہیں کمایا جاسکتا ۔ اور پھر ہر طرح کی سرمایہ کاری کے برعکس یہاں پیسہ ڈوب جانے کا کوئی اندیشہ نہیں ہے۔چنانچہ لوگوں نے کرنسی کے لین دین کو کاروبار بنالیا ہے۔ڈالر کے بجائے اگر وہ اپنی جمع پونجی روپے میں رکھیں گے تو خسارہ ہی خسارہ ہے۔لہٰذا بے یقینی کے اس تاثر کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔وہ غیر ذمہ دار تجزیہ نگار جو یہ افواہیں پھیلاتے ہیں کہ ڈالر 400یا 500کا ہوجائے گا ،انہیں روکا جائے۔لوگوں کو یہ باور کروایا جائے کہ اب روپے کی قدر مستحکم ہوگئی ہے ،ڈالر اوپر جانے کے بجائے نیچے آئے گا تو اس تاثر سے ہی بہت فرق پڑ جائے گا۔جنہوں نے نرخ بڑھنے کی امید پر ڈالر چھپا رکھے ہیں ،وہ باہر لائیں گے تو روپے کی قدر خودبخود بڑھے گی۔اس حوالے سے ترک صدر طیب اردوان کی مثال سامنے ہے۔حالیہ صدارتی انتخابات سے ایک سال پہلے ترکش لیرا کی قیمت میں ریکارڈ گراوٹ دیکھنے کو ملی۔مگر طیب اردوان نے قوم کو اعتماد میں لیا ۔عوام کو یقین دلایا گیا کہ یہ بحران عارضی اور مصنوعی ہے۔امریکی ڈالر تبدیل کروانے والوں کے لئے سہولتیں پیشکش کی گئیں اور پھر یہ بحران کسی حد تک ختم ہوگیا ۔سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار بھی اسی طرح کے اقدامات سے ڈالر کو کنٹرول کیا کرتے تھے لیکن اس بار سازگار ماحول میسر نہ آنے کے سبب ان کا جادو نہیں چل سکا ۔اب اگر عام انتخابات کے انعقاد اور پھر منتخب حکومت کے آنے تک ڈنڈہ دکھا کر صورتحال کو سنبھالا جاسکتا ہے تو ملکی معیشت کے لئے بہت بڑا سہارا اور عام آدمی کے لئے سب سے بڑا ریلیف ہوگا ۔ویسے بھی عاصم نگہبان اور محافظ کو کہتے ہیں جبکہ منیر کا مطلب تابناک اور روشن ہے ۔خدا کرے موجودہ سپہ سالار جنرل عاصم منیر اسم بامسمیٰ ثابت ہوں اور اپنے نام کے عین مطابق افواج پاکستان کو ملک کی جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ تک محدود رکھتے ہوئے تاریخ میں اپنا نام روشن کریں ۔

3 تبصرے “جنرل عاصم منیر اسم بامسمیٰ ؟

اپنا تبصرہ بھیجیں