پراپرٹی بزنس میں ہم جیسے مڈل کلاس طبقے کا خوف !

ہم جیسے مڈل کلاس طبقے کو اگر کوئی قسطوں پر پلاٹ لینے کا مشورہ دے تو دل چاہنے کے باوجود پہلا خوف یہی ہوتا ہے کہ فراڈ نہ ہو جائے ۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہاوسنگ سوسائٹیز میں بہت فراڈ ہے ،لوگوں کے پیسے ڈوب جاتے ہیں ، سوسائٹی مالک بھاگ گیا تو کیا کریں گے ۔ ہمیں دو چار واقعات بھی یاد آنے لگتے ہیں کہ فلاں سوسائٹی مالک پیسے کھا گیا تھا ، فلاں جگہ لوگوں کا سرمایہ ڈوب گیا تھا۔ اگر ہم چار دوستوں ست مشورہ کر لیں تو لگ بھگ سبھی ہمیں اس “بےوقوفی” سے روکیں گے .خاص طور ہر وہ قریبی رشتے دار ایسا قدم اٹھانے سے منع کریں گے جنہیں پنجاب میں “شریکا” کہا جاتا ہے۔ ایسا کیوں ہے

پہلی بات تو یہ کہ لاہور میں ہی نہیں بلکہ پنجاب بھر میں ہاوسنگ سوسائٹیز بن رہی ہیں ۔ ریئل اسٹیٹ اس وقت پاکستان کی ٹاپ بزنس مارکیٹ بن چکی ہے ۔اب اصل بات پر آتے ہیں ۔

بدقسمتی سے ہم سرمایہ دار نظام کا حصہ ہیں جہاں امیر خود تو امیر تر ہوتا چلا جاتا ہے لیکن غریب کو امیرنہیں ہونے دیتا ۔ ہمارے یہاں آج سے نہیں بلکہ انگریز دور سے مڈل کلاس طبقے کو خوف کے حصار میں رکھاگیا ہے ۔ آپ کہیں میں نے مقابلے کا امتحان پاس کرنا ہے ،آدھی فنیا آپ کو صرف یہ بتانے آ جائے گی کہ یہ ممکن نہیں ہے ،اس کے لیے تو بہت ذہین ہونا چاہیے ۔ آپ کہیں میں نے اپنے بچے کو ڈاکٹر بنانا ہے ،یقین مانیں آپ کے اپنے رشتے دار ڈرانے پہنچ جائیں گے کہ ڈاکٹری کی تو بہت زیادہ فیس ہے ۔

ہمارے یہاں مڈل کلاس طبقے کو کوئی بھی قدم اٹھاتے وقت قدم قدم پر خوف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ایلیٹ کلاس کو یہ پسندنہیں کہ مڈل کلاس شخص ان کے برابر نظر آئے ۔اس دھرتی پر شروع سے گاؤں کا چودھری اپنے سوا کسی کا پکا مکان اور اچھا. سامان پسند نہیں کرتا تھا ۔ آج بھی یہی سب چل رہا ہے ۔

دوسری جانب ایلیٹ کلاس خود بھی اور اپنے بچوں کو بھی اس خوف سے بچاتی ہے۔آپ جتنے مہنگے سکول ،کالج میں جائیں گے آپ کو اندازہ ہو گا کہ وہ بچوں کو ایجوکیشن سے زیادہ “کانفیڈینس” دینے کی وجہ سے مشہور ہیں اور اس کانفیڈنس کی ہی بھاری فیسیں لیتے ہیں ۔ ایلیٹ کلاس جانتی ہے کہ دولت کمانے کے لیے بروقت کیا گیا درست فیصلہ بہت ضروری ہے ۔ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ یہ جتنی ہاوسنگ سوسائٹیز انتہائی سستی سے مہنگی اور منافع بخش بنتی ہیں یہاں مڈل کلاس طبقے کی انویسٹمنٹ نہ ہونے کے برابر کیوں ہوتی ہے ؟؟؟ آخر کیوں ہم اپنی رینج میں ہونے کے باوجود خوف کا شکار رہتے ہیں اور ایلیٹ کلاس انویسٹمنٹ کر جاتی ہے ؟

آپ نے کبھی سوچا کہ اگر کسی سوسائٹی میں فراڈ ہو تو اس میں مڈل کلاس طبقہ ہی کیوں پھنستا ہے ؟ اس وقت ایلیٹ کلاس طبقہ وہاں نظر کیوں نہیں آ رہا ہوتا ؟ کیونکہ جن سسسائٹہز میں فراڈ ہوتا ہے اس کا پوری مارکیٹ کو پیلے سے ہی علم ہوتا ہے ۔ مڈل کلاس طبقہ لالچ اور علم نہ ہونے کی وجہ سے عہاں پھنستا ہے ۔
ایلیٹ کلاس میں کنسلٹنسی کا رجحان ہے ۔ یہ ان سے مشورہ نہیں کرتے جنہیں خود علم نہیں ہوتا ۔ یہ پروفیشنل اور ریسرچ اینالسز کرنے والے ماہرین سے رابطہ کرتے ہیں اور پھر ان کی رائے پر فورا قدم اٹھا لیتے ہیں ۔ مڈل کلاس طبقہ ماہرین کے علاوہ سبھی سے مشورہ کرتا ہے اور مزید کنفیوژن کا شکار ہو جاتا ہے ۔

دنیا بھر میں جہاز کریش ہوتے ہیں ،بسوں کا ٹکراؤ ہوتا ہے ، موٹرسائیکل اور رکشے حادثات کا شکار ہوتے ہیں ۔ان سب میں ہزاروں افراد مارے جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود ان میں سفر بند نہیں ہوتا ۔اسی طرح اگر پنجاب میں 1 سو ہاوسنگ سوسائٹیز ہیں تو ان میں سے دو تین نے فراڈ کیا ہو گا ،باقہ سب سب اپنی جگہ موجود ہیں جن میں ایلیٹ کلاس انویسٹمنٹ کرتی چلی جا رہی ہے۔

ہم جیسے مڈل کلاس طبقے میں منصوبہ بندی کے تحت یہ خوف انجیکٹ کیا گیا ہے جس کی وجہ سے ہم ہر شعبے میں ہی قدم اٹھانے سے ڈرتے ہیں ۔

ہم یہی چاہتے ہیں کہ آپ اس خوف کی فضا سے باہر نکلیں ۔ ریئل اسٹیٹ یعنی پراپرٹی بزنس میں قسطوں پر پلاٹ لیں ۔آج یہاں نہیں لیں گے تو کل اس سے بھی کہیں دور لینا پڑے گا کیونکہ زمین تیزی سے لوگوں کی ملکیت بنتی جا رہی ہے ۔

ہم پراپرٹی خصوصا رہائشی سوسائٹیز پر ریسرچ اور اینالسز رپورٹ نکالتے ہیں ۔ سوسائٹی کی اپروول ،زمین کی ملکیت ،مالک ، ڈویلپر اور مارکیٹر کی ساکھ ، پہلے منصوبوں کا جائزہ لیتے ہیں ۔ چند اہم پوائنٹس کی کنفرمیشن کرتے ہیں ۔ ہمارے ماہرین اس پر اپنی رائے دیتے ہیں ۔ سب سے اہم یہ ہے کہ ہم مڈل کلاس طبقے کے لیے محفوظ اور سستے ریٹ والی اچھی سوسائٹیز کہ تلاش میں رہتے ہیں ۔

اگر آپ ایلیٹ کلاس کے پھیلائے خوف سے باہر نکل کر اپنے اور اپنی فیملی کے بہتر مستقبل کے لیے اچھی جگہ سستا پلاٹ قسطوں پر لینا چاہیں تو ہم سے مشورہ کر سکتے ہیں ۔ اگر آج بھی خوف کا شکار رہیں گے تو یاد رکھیں آپ کی اگلی نسل شاید اس سے بھی مشکل حالات سے دوچار ہو

اپنا تبصرہ بھیجیں