فیضان زیدی

یہ نفرت ہو نہیں سکتی، محبت کر نہیں پاتے
کبھی ہم جی نہیں سکتے، کبھی ہم مر نہیں پاتے

انہی لوگوں میں لکھ دونام میرا اے سفر زادوں
جو گاؤں سے نکلتے ہیں تو واپس گھر نہیں پاتے

اِسی کارن پرندوں ہی سے میں محوِ تکلم ہوں
پرندے چہچہاتے ہیں، پرندے سر نہیں کھاتے

جنہیں راشی نے پالا ہو سنا کر رزق کی لوری
وہ بچے چاہتے ہیں پر دیانت کر نہیں پاتے

مری آنکھیں سمندر ہیں یہی واضح حقیقت ہے
وہ یکسر ڈوب جاتے ہیں کبھی بھی تر نہیں پاتے

اپنا تبصرہ بھیجیں