چین ،ایران، سعودی تعلقات

اس وقت سی پیک کے ذریعے چین نے وسطی ایشیائی ریاستوں سمیت دنیا کے ایک بڑے خطے کوایک لڑی میں پرودیا ہے تو دوسری طرف مختلف عالمی تنازعات میں مثبت کردار ادا کرکے عالمی سیاست کے میدان میں ایک بڑا کھلاڑی ہو نے کا ثبوت دیا ہے ۔7دسمبر 2022ء کو چینی صدر شی جن پنگ نے سعودی عرب کا تین روزہ سرکاری دورہ کیاجسے عرب میڈیا میں نمایاں کوریج ملی۔ دوسری طرف سعودی عرب کے کرائون پرنس محمد بن سلمان سعودی عرب کو اقتصادی طاقت بنانے اور اس کاایک نیا چہرہ دنیا کے سامنے پیش کرنے کیلئے کو شاں ہیں۔ ولی عہد کے ویژن 2030کے تحت سعودی عرب اپنے تمام تنازعات سمیٹ کر ساری توجہ اقتصادی ترقی پر مرکوز کر رہا ہے ۔ اس ویژن کے حامل رہنماکیلئے دنیا کے باہم متحارب ممالک سے تعلقات استوار کرنا کو ئی مشکل بات نہیںہے۔
سعودی عرب وژن 2030ء کے ذریعے اپنی معیشت میں تنوع پیدا کر رہا ہے ۔ مقصد یہ ہے کہ تیل پر انحصار کم کیا جائے۔ سیاحت کو فروٖٖغ دیا جائے ۔1945ء سے ماضی قریب تک سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات بہت قریبی رہے۔ امریکہ کو خلیجی تیل کی ضرورت تھی اور سعودی عرب کو امن اور سیکورٹی کی۔ امریکہ نے خلیج سے تیل خریدا اور خلیجی ممالک کو اربوں ڈالر کے ہتھیاربیچے ۔دمام، بحرین اور قطر میں اپنے فوجی اڈے قائم کئے ۔ سعودی عرب نے اپنے ملک سے مغربی عسکری وجودختم کردیا مگر بحرین اور قطر میں امریکی اڈے ابھی موجود ہیں۔
ترکیہ اور سعودی عرب کے تعلقات کو محمد بن سلمان نے ایک نئی جہت دی ہے اورترکی میں پانچ بلین ڈالر کا ڈیپازٹ رکھاہے ۔ اس اقدام کے جواب میں ترکیہ نے عربوں کے مقابلے میں ایک متوازی اسلامی بلاک بنانے کی کوششیں ترک کرتے ہوئے عرب دنیا کے ساتھ تعلقات بہتر کئے ۔ 14فروری 2023ء کو ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے چین کا ایک اہم دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران کئی اقتصادی اورسیاسی فیصلے کئے گئے۔ اس پس منظر میں سعودی عرب اور ایران تنارعہ کا خاتمہ ایک اہم عالمی پیش رفت ہے۔
سعودی عرب اور ایران کے مابین تعلقات کی سینکڑوں سال پرانی تاریخ ہے تاہم ان تعلقات میں آخری بگاڑ 2016ء میں آیا اور دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات منقطع ہو گئے تھے ۔ تاہم پرنس محمد بن سلمان نے ویژن 2030ء کے تحت ایران کے ساتھ مذکرات کا آغاز کیا اور 2021ء میں عمان اور عراق کے تعاون سے سعودی عرب اور ایران کے مابین مذکرات کے پانچ دور ہوئے ۔بعد میں چین نے دونوں ممالک کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا۔
سعودی عرب اور ایران کے مابین صلح سے پاکستان پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے ۔ ایران اور پاکستان کے مابین تعلقات میں پائی جانے والی سرد مہری کا خاتمہ ہوگا اور پاکستان کے داخلی حالات میں بھی مثبت تبدیلی آئے گی ۔عالمی سطح پر ہونے والی اس پیشرفت سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ شاہ ایران اورشاہ فیصل کے دور میں دونوں ملکوں میں دوستی اور تعاون تھا۔ تنائو کی کیفیت انقلاب ایران کے بعد پیدا ہوئی ۔ مغربی یورپ (نیٹو) کے مفادات کو روس سے خطرہ تھا لیکن اب چین ایک بڑے چیلنج کی حیثیت سے ابھر رہا ہے۔امریکہ کو شکایت ہے کہ سعودی عرب اپنے تیل کی پیداوار میں کمی کر کے روس اور چین کے ساتھ محاذ آ رائی میں امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کی پوزیشن کو نقصان پہنچارہا ہے اور اسکے ساتھ ان دونوں ممالک خصوصاًچین کے ساتھ تعلقات کومضبوط بنا کر اسے اس خطے میں قدم جمانے کا موقع فراہم کر رہا ہے۔
سعودی عرب اس وقت سوا کروڑ بیرل یومیہ تیل کے ساتھ دنیا میں خام تیل پیدا کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔ اس میں سے 73لاکھ بیرل یومیہ سے زیادہ تیل بر آمد کرتا ہے۔ خود امریکہ سعودی عرب سے تقریبا پانچ لاکھ بیرل یومیہ کے حساب سے خام تیل درآمد کرتاہے۔چین تمام ممالک کی خواہشات کے مطابق،دنیا کے کانٹے دار مسائل سے مناسب طریقے سے نمٹنے کیلئے تعمیری کردار ادا کرتا ہے۔یہ پیشرفت اس وقت پریشان حال دنیا کیلئے بہت اچھی خبر لائی ہے۔ ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی شمخانی نے کہا ہےکہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات دونوں ملکوں کیلئے مضبوطی اور استحکام کا باعث بنیں گے۔ ا یرانی وزیر خارجہ حسین امیر نے کہا سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی بحالی سے خطے کیلئے بڑے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔
سعودی ایران تعلقات کی بحالی جلد ہی یمن اور شام میں جاری جنگ اور بد امنی کے خاتمے کا باعث بنے گی جیسے کہ ایرانی وزیر خارجہ امیر عبداللہ نے اپنے بیان میں اس معاہدے کو بجا طور پر مشرق وسطیٰ میں روشن امکانات کا نقیب قرار دیا ہے ۔ امریکہ کی جانب سے بھی سعودی ایران معاہدے پر اظہار مسرت اطمینان بخش بات ہے۔چین نے مڈل ایسٹ میں کوئی فوجی اڈا نہیں بنایا جبکہ امریکہ کے بحرین ،قطر اور عرب امارات میں فوجی اڈے اب بھی موجود ہیں ۔ چین کی طاقت تجارت اور ٹیکنالوجی میں مضمر ہے ۔ چین عراق،ایران اور سعودی عرب سے بھاری مقدار میں تیل خریدتا ہے۔مڈل ایسٹ کے ساتھ چینی تجارت پچھلے تین سال میں دوگنی ہو گئی ہے۔ایران چینی مصنوعات کا بڑا خریدار ہے۔خوش آئند با ت یہ بھی ہے کہ سعودی عرب اور ایران کے مابین سفارتی تعلقات کی بحالی سے پورے خطے میں سیاسی درجہ حرارت میںقدرے کمی آئےگی ،یمن میں بھی امن ممکن ہو گا اور اس کے مثبت اثرات پورے خطے پر مرتب ہونگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں