پُرعزم چیف جسٹس کو درپیش چیلنجز؟

یہ ملکِ بدنصیب اس وقت قیادت کے حوالے سے جس نوع کے سیاسی، معاشی، مذہبی، عدالتی یا سماجی بحران کا شکار ہے بالخصوص جوڈیشری کے حوالے سے جس قدر بیڑا غرق ہوا پڑا ہے ایسے میں محترم قاضی فائز عیسیٰ جیسی باصلاحیت و دبنگ شخصیت کا قاضی القضاء کی ذمہ داری پر فائز ہونا مایوسی کے تعفن و حبس میں تازہ ہوا کا خوشگوار جھونکا ہی قرار پائے گا۔ ہم ہمیشہ سے عسکری طاقتوروں کا رونا روتے چلے آرہے ہیں جو اپنے مذموم مفادات کے زیر اثر اس ملک میں ناتواں جمہوریت، آئین اور پارلیمنٹ کا کھلواڑ کرتے رہتے ہیں لیکن اگر انصاف اور سچائی کے ساتھ حقائق کا تجزیہ کیاجائے تو پاکستان میں سپریم جوڈیشری کا گھناؤنا رول شاید عسکریت والوں سے بھی چار ہاتھ آگے ہی رہا ہے۔
ابھی بندیالی کورٹ ٹسوے بہاتی ہوئی رخصت ہوئی ہے گھن آتی تھی اس گندی ذہنیت کو ملاحظہ کرتے ہوئے اتنی ننگی پارٹی بازی اتنی چھوٹی اور گری ہوئی سوچ، غریب اور پسے ہوئے عام عوام کے دکھ جائیں بھاڑ میں ستاون ہزار لوگ سائیلین بنے انتظار کی سولی پر لٹکے رہیں یا قبروں میں چلے جائیں مسٹر جسٹس لیڈری اور سیاست فرما رہے ہیں آپ کے آنے سے بڑی خوشی ہوئی بہارو پھول برساؤ، انہیں ہمارے فیصلے کی خبر نہیں ہوئی ہوگی ورنہ ہم تو اپنی ساس صاحبہ کی خوشنودی کے لیے آئین قانون کے سر پر ہتھوڑا مارنے کے لیے تیار ہیں ہم تو عادی مجرموں کے لیے اپنے ریسٹ ہاؤسز ہی نہیں کھلواتے اپنی BMWبھی بھیجتے ہیں ان خصوصی ہدایات کے ساتھ کہ ہمارے چہیتے و لاڈلے کے ماتھے پر شکن نہ آنے پائے، بندہ پوچھے یہ کونسی ججی ہے؟ اور کون سا انصاف ہے؟ اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ اس قسم کے لوگ ایسے بڑے مناصب پر براجمان کیسے ہوجاتے ہیں جنہیں قانون کی مبادیات کا بھی نالج نہیں جنہیں یہ تک معلوم نہیں کہ کسی بھی قوم کا سرمایہ و اثاثہ اس کے عوام ہوتے ہیں اور آئین جس کے نام کا ڈھول پیٹتے تم لوگ عیاشیاں کرتے ہو یہ آئین انہی مظلوم عوام کے نمائندوں کی پیداوار ہوتا ہے جب تم نے انسانی عظمت کو ہی نہیں جانا تمہیں کیا معلوم کہ انسانی و عوامی اُمنگوں کے نمائندہ و ترجمان ادارے پارلیمنٹ کی کیا اہمیت ہوتی ہے؟ اسی نوع کے ڈفر ثاقب نثار، کھوسہ اور گلزار تھے اور ایسے ہی لعل بجھکڑ آج بھی اس قابلِ احترام ادارے میں پوری ڈھٹائی سے براجمان ہیں جو فل کورٹ کی آرام دہ کرسیوں پر تشریفات رکھتے ہوئے بے نیازی سے سوال ہانک رہے تھے کہ پارلیمنٹ کون ہوتی ہے ہمیں ہدایات دینے والی؟ یا پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ بنانے والی؟ کوئی انہیں بتائے کہ پارلیمنٹ تمہاری گرینڈ مدر ہوتی ہے تمہارے ابا حضور آئین جس کی تم تخلیق ہو اسی آئین کی وہ ماں ہے۔ جس کی کوکھ سے آئین نامی آپ کے ابا کی پیدائش ہوتی ہے اپنی اس گرینڈ مدر کو اگر آپ نہیں پہچانتے حضور تو پھر ناخلف اولاد کس کو کہتے ہیں؟ کیا فلسفہ چھوڑ رہے ہیں جناب، جس پر سقراط و بقراط بھی شرما جائیں۔ یہ ساری تلخ نوائی ان ریمارکس کی وجہ سے ہے جن میں کہا گیا کہ یہ ایکٹ یا قانون تو اچھا ہے لیکن پارلیمنٹ یا مقننہ کون ہوتی ہے اسے بنانے والی؟؟ بندہ پوچھے کہ پارلیمنٹ یا مقننہ اگر قانون سازی نہیں کرے گی تو کیا پھر آپ لوگوں کے لیے پکوڑے تلے گی یا جھنجنا بجائے گی۔ آپ ہی کے ایک کولیگ نے کتنا اچھا جواب دیا کہ ”سترہ غیر منتخب افراد رولز بنائیں پھر تو ٹھیک ہیں لیکن اگر پچیس کروڑ انسانوں کا منتخب ادارہ پارلیمنٹ یہ رولز بنائے تو غلط ہیں ذرا بتایا جائے کیسے غلط ہیں؟ کیا کسی فردِ واحد کو لامحدود و ناقابلِ احتساب اختیار دیاجاسکتا ہے؟
سابق جج عطا بندیال کی ساس صاحبہ نے لیک ہونے والی وڈیو میں جس رابعہ خاتون سے گفتگو میں آرمی چیف پر سخت تنقید کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ وہ مارشل لاء کیوں نہیں لگا رہا اُسی رابعہ خاتون کے خاوند خواجہ طارق رحیم کا اسی آمرانہ ذہنیت کا غماز استدلال تھا کہ پارلیمنٹ نے سپریم کورٹ کے رولز میں مداخلت کی ہے سپریم کورٹ کے معاملات میں کسی اور کی مداخلت ہوگی تو یہ سپریم کورٹ نہیں رہے گی جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے فوری ریمارکس تھے کہ آپ یہ چاہتے ہیں کہ چیف جسٹس کا احتساب نہ ہو لیکن میں مارشل لاء دور کے فیصلوں کا پابند نہیں ہوں جسٹس اطہر من اللہ کا بجا طور پر یہ کہنا تھا کہ پارلیمنٹ نے چیف جسٹس کی بادشاہت ختم کی ہے تو اس میں غلط کیا ہے؟ جسٹس اعجاز الاحسن، منیب اختر اور مظاہر علی نقوی کی ساری گفتگو ہی افسوسناک تھی یوں محسوس ہورہا تھا کہ جیسے بندیال اور ثاقب نثار کی باقیات سپریم ادارے کو اسی ڈگر پر چلانا چاہتی ہیں ایک خاتون جج ان سے بھی چار ہاتھ آگے نکلیں ان کا سوال اس قدر مضحکہ خیز تھا جس کی توقع قانون کے کسی معمولی طالبعلم سے بھی نہیں کی جاسکتی سپریم کورٹ میں فل کورٹ کی سماعت کے بعد بھلا اپیل کی گنجائش کہاں اور کیسے رہ جاتی ہے لیکن یوں محسوس ہوا کہ انہیں شاید فل کورٹ کی اہمیت کا بھی ادراک نہ تھا جو جونیئر ہونے کے باوجود جس طرح یہاں پہنچی ہیں اس ساری گیم پر فخر کرتے ہوئے استدلال کرتی ہیں کہ ہمارا تو اپنا لاء کالج ہے میرا شوہر جس کا پرنسپل ہے تو پھر میں جج کیسے نہ بنتی۔
ایشو یہ ہے کہ سسٹم کے اندر موجود ایسے چور دروازے کیوں ہیں جن کی وجہ سے نااہل ترین لوگ ہائیکورٹس اور سپریم کورٹ کے ججز بن جاتے ہیں اور جونیئر ترین لوگ اوپر لے آئے جاتے ہیں۔ اگر میرٹ کی بنیاد پر ان عہدوں پر تعیناتیاں ہونی چاہیں تو پھر ٹھوس معیاربھی ہونا چاہیے پریکٹس میں ایسے شخص کا ایک مقام ہونا چاہیے اصل مدعا تو یہی تھا کہ جو لوگ جوڈیشری سے پروموٹ ہوکر نہیں آتے لیکن اتنے باصلاحیت ہوتے ہیں کہ ان کی مطلوبہ معیار کی تکمیل پر یہاں تعیناتی کی جائے لیکن اگر صلاحیت کی بجائے دیگر عوامل تعلقات یا اپروچ نے بنیاد بننا ہےتو کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ جو لوگ سول ججز سے اوپر اٹھ کر آتے ہیں میرٹ پر انہی کی پروموشن ادھر کے لیے بھی ہو جاۓ، جن لوگوں کو اتنی سینس بھی نہیں ہے کہ قانون سازی مقننہ کا کام یا حق ہے، جو قانون سازی کریں گے آئین سازی کریں گے وہ رولز کیوں نہیں بناسکیں گے ؟ بلکہ آئندہ کے لیے اگلی اسمبلی میں یہ ایشو اُٹھنا چاہیے کہ کوئی ادارۂ جو بھی رولز بناتا ہے وہ سینٹ کمیٹی یا پارلیمنٹ کی منظوری سے مشروط ہونگے۔
پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں جس طرح کچھ لوگوں نے ناروا طور پر پارلیمان کی اتھارٹی کو چیلنج کیا ہے اُن کا تو اس عہدے پر فائز رہنے کا کوئی حق نہیں ہونا چاہیے تمام ججز کے لیے حلف اُٹھاتے وقت اس نوع کے الفاظ شامل ہونے چاہیں کہ میں عظمتِ انسانی پر یقین رکھتا ہوں اور پارلیمنٹ جو آئین کی ماں ہے اس کی بالادستی پر میرا ایمان ہے۔ اگلا جمہوری سیٹ اپ جو بھی بنے گا لیکن سابق وزیراعظم نوازشریف کے یہ الفاظ وزن رکھتے ہیں کہ پاکستان کو یہ برے دن دکھانے والوں کا احتساب ضرور ہونا چاہیے۔
ہماری جوڈیشری میں جوڈیشل ایکٹیوازم کے نام پر جتنی بھی بربادی ہوئی ہے یہ امر خوش آئند ہے کہ نئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اسی کا دھونا دھونے کے لیے کوشاں ہیں یہ پہلا موقع ہے کہ ایک چیف جج یہ کہتے سنائی دیا ہے کہ میں نے آئین و قانون کے تحفظ کا حلف اُٹھایا ہے مارشل لاء ادوار میں سپریم جوڈیشری نے جو غلط فیصلے کیے ہیں میں ایسے فیصلوں کا ہرگز پابند نہیں ہوں اور کھلے بندوں یہ مانتا ہوں کہ ہماری جوڈیشری نے بہت سے غلط فیصلے کیے ہیں۔ جسٹس قاضی اتنے باکردار جج ہیں جنہوں نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی معطلی یا سٹے پر بروقت گرفت کی اور اس غیرقانونی عمل کا حصہ بننے سے انکار کردیا موقع ملتے ہی سب سے پہلے اس ایشو پر فل کورٹ تشکیل دیتے ہوئے واضح کیا کہ میں اس کے فیصلے سے قبل ہی رضاکارانہ طور پر 184 IIIکے سوموٹو اختیار پر اور بنچز کی تشکیل پر تنہا پرواز کی بجائے تین رُکنی کمیٹی کے فیصلوں کی پابندی کروں گا۔ ہمارے یہاں اصولوں کی بنیاد پر اپنے اختیارات سے یوں سرنڈر کرنے کی مثالیں نہ ہونے کے برابر ہیں
آگے بڑھتے ہوئے چیف جسٹس کو ججز کی تعیناتی اور پروموشن کے ایشوز کو ریگولیٹ کرنے کا جمہوری تقاضوں کی مطابقت میں اہتمام کرنا ہوگا اور یہ بھی کہ مس کنڈکٹ پر سپریم جوڈیشل کونسل کا رول کس طرح زیادہ مؤثر بنایا جاسکتا ہے۔ دو مزید ججز کو لاتے ہوئے کس طرح ستاون ہزار کیسز کو نمٹایا جاسکتا ہے عوام کا جوڈیشری سے جس طرح اعتماد اُٹھ چکا ہے اس کی بحالی کیونکر ممکن بنائی جاسکتی ہے آنے والے دنوں میں انہیں الیکشن اور عسکری طاقتوروں کے معاملات کے چینلجز بھی درپیش ہونگے انہیں اس امر کا خیال بھی رکھنا ہوگا کہ اقلیتوں، خواتین اور کمزور طبقات کو تحفظات فراہم کرتے ہوئے وہ مذہبی حوالہ جات سے جتنا ہوسکے پرہیز فرمائیں مملکت کے تمام شہری بلاتمیز برابری کے مساوی حقوق رکھتے ہیں اس بنیادی انسانی یونیورسل اصول کو ہر سطح پر اپنایا اور منوایا جاۓ۔

پُرعزم چیف جسٹس کو درپیش چیلنجز؟” ایک تبصرہ

  1. You are actually a good webmaster. This web site loading speed is amazing. It kind of feels that you’re doing any unique trick. Furthermore, the contents are masterwork. you’ve performed a great task on this subject! Similar here: bezpieczne zakupy and also here: Ecommerce

اپنا تبصرہ بھیجیں