بجٹ اورغریب عوام

بجٹ اورغریب عوام

آئندہ مالی سال کیلئے ملکی بجٹ پیش ہوچکا۔ہرسال ایک ہی بات سننے کوملتی ہے کہ بجٹ عوام دوست ہوگا، عام آدمی کی فلاح کا خیال رکھاجائے گا ،غریب پرکوئی بوجھ نہیں ڈالاجائے گا۔ یہ ڈائیلاگ سنتے سنتے کان پک گئے ہیں ۔غریب پربوجھ کایہ حال ہے کہ آٹے کا20کلو کاتھیلا 600روپے سے بڑھتے برھتے بائیس سوروپے سے زائد کا ہوچکا ہے، پٹرول ڈیڑھ سوروپے فی لیٹر سے بڑھ کر دوسو باسٹھ روپے فی لیٹر ہوگیا ،گھی اورمرغی کے گوشت کی قیمتیں ناقابل برداشت سطح تک بڑھ گئی ہیں ،غریب سے دال کھانے کاحق بھی چھین لیاگیا ہے پھر بھی دعویٰ کیاجاتا ہے کہ غریب پربوجھ نہیں ڈالاجائے گا ۔زعمائے حکومت کے سیاسی بیانات ان کے سرکاری ملازمین تیارکرکے ان کوتھمادیتے ہیں اوروہ میڈیاکے سامنے پڑھ دیتے ہیں، سرکاری ملازمین کاوطیرہ ہے کہ فائل سے گزشتہ سال کابیان نکالا،اس کے دوچار الفاظ بدلے اورتھما دیا۔آئی ایم ایف کے ساتھ حکومت کے تعلقات کااندازہ بخوبی ہرذی شعور پاکستانی کو ہوگیا ہے، تمام شرائط منوانے کے باوجودآئی ایم ایف موجودہ حکومت کوپیکیج دینےپرتیارنہیں۔جوحکومتی سطح پروزارت خزانہ اوروزرات خارجہ کی ناکامی کاثبوت ہے، وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی اقتصادی افلاطونیاں بھی کوئی رنگ نہ دکھاسکیں۔ ان حالات میںجوکاروباری ادارے کام کررہے ہیں ان کیلئے مشکلات میں اضافہ اورکاروباری جمود کی طرف پیش بندی نظرآرہی ہے کیونکہ نوکرشاہی ٹیکس اداکرنے والوں کوہی نچوڑتی ہے اوراب حالت یہ ہے کہ ٹیکس اداکرنے والوں میں سکت ہی نہیں رہی۔نئے ٹیکس دہندگان کوجان بوجھ کر نظرانداز کرتے ہوئے ٹیکس نیٹ کووسعت دینے سے گریزکیاجارہاہے کیونکہ نوکرشاہی کی اپنی آمدنی متاثرہوتی ہے ٹیکس چوری قومی عادت کاروپ دھارچکی ہے اورکوئی بھی رضاکارانہ طورپرٹیکس اداکرنے کوتیار نہیں، جوشکنجے میں آتاہے وہ نوکرشاہی سے مک مکاکرکے نکل جاتا ہے ۔ وطن سے محبت سے زیادہ مفادات سے محبت کاعنصر قومی رویے میں غالب ہے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق رئیل اسٹیٹ ،سگریٹ،لبریکنٹس، چائے اورادویات میں سالانہ956ارب کی ٹیکس چوری ہوتی ہے یہ چوری کون کرتا ہے؟ ظاہر ہےان صنعتوں سے وابستہ کاروباری افراد ہی کرتے ہیں مگرزیادہ بڑے مجرم تووہ لوگ ہیں جن کی نظروں کے سامنے یہ ٹیکس چوری ہوتی ہے اوروہ اس کوپکڑنے میں ناکام ہیں، اس میں سے رئیل اسٹیٹ میں 500ارب روپے، سگریٹ انڈسٹری میں 240ارب روپے ،چائے کی انڈسٹری میں 45ارب روپے، ادویات اورفارماسوٹیکل انڈسٹری 65ارب روپے اورٹائرز ولبریکنٹس کے شعبہ جات میں 106ارب روپے کی سالانہ ٹیکس چوری ہورہی ہے ۔جب تک ملکی ادارے اپنا کلیدی کردارادانہیں کرتے اورٹیکس چوری ،اسمگلنگ ،انڈرانوائسنگ وغیرہ کو کنٹرول نہیں کرتے اس وقت تک اقتصادی ترقی کاخواب کبھی شرمندہ تعبیرنہیں ہوگا۔ٹیکس چوری کوروک کر ملک میں بے شمار تعلیمی وترقیاتی منصوبے شرو ع کئے جاسکتے ہیں۔حکومت ڈالرکی قیمت کوکنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے ڈالرکی بڑھتی ہوئی قیمت مہنگائی کے جن کو بے لگام کرتی جارہی ہے اورغریب آدمی بری طرح متاثرہورہا ہے۔ حکومت اوورسیز پاکستانیوں کو ترغیب دے کر ملک میں ڈالر جمع کرسکتی ہے مگراس طرف کسی کی توجہ ہی نہیں، ہرشہر میں اوورسیزپاکستانیوں کیلئے اسٹیٹ آف دی آرٹ رہائشی اسکیمیں شروع کرکے ان کے پلاٹس ڈالرز میں غیرممالک میں آبادپاکستانیوں کوفروخت کئے جاسکتے ہیں ،اس سلسلہ میں ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی اوربحریہ ٹاؤن جیسے ادارے مددکرسکتے ہیں،اس کے علاوہ مقامی پاکستانیوں کوگاڑیوں کی فروخت بھی ڈالرمیں کی جائے اوران کوقیمت میں رعایت دی جائے تووہ لوگ جنہوں نے ڈالرجمع کرکے رکھے ہیں وہ اپنے ڈالرز مارکیٹ میں لے آئیں گے ۔عام آدمی خاص طورپر غریب آدمی کومہنگائی کے چنگل سے چھڑانے کیلئے زرعی شعبہ کو ترغیبات دی جائیںتاکہ زرعی شعبہ کھانے پینےکی اشیا زیادہ سے زیادہ اُگاکرملک سے مہنگائی کاخاتمہ کرے۔اس سلسلہ میں حکومت شہبازشریف کی پنچاب میں ماضی میں شروع کی ہوئی گرین ٹریکٹراسکیم کادوبارہ اجرا کرے ،کھاد اورکرم کش ادویات پرٹیکس کم کرکے کسانوں کواچھی کوالٹی کابیج فراہم کرے، پولٹری سیکٹرکوترغیبات دے ،سویابین کی درآمد کی اجازت دے اورمقامی طورپرسویابین کی کاشت میں اضافہ کیاجائے، مرغی کی سپلائی چین کو تحفظ دے تاکہ غریب عوام کو مرغی کاگوشت سستا میسرآسکے۔ان تمام تجاویز پرعمل کرکے ہم بجٹ کے حقیقی ثمرات عوام تک پہنچاسکتے ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں