’’فرقہ عمرانیہ ‘‘کیوں اور کیسے؟

انگریزی زبان میں ـ’’کلٹــ‘‘یعنی فرقہ، شخصیت پرستی کی بنیاد پر جمع ہونے والے ان جانثاروں کے جتھے کو کہتے ہیں جن کی جدوجہد کا محور ان کا مرشدیا قائد ہوتا ہے۔بالعموم لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید فرقہ یا مسلک مخصوص مذہبی سوچ یا نظریات کی بنیاد پر ہی متشکل ہوسکتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ مائنڈ کنٹرول کے ذریعے ’’کلٹ‘‘بنائے جانے کے امکانات بہت وسیع ہیں۔مذہبی فرقے کے علاوہ سیاسی وابستگی کی بنیاد پر’’کلٹ‘‘بنایا جا سکتا ہے،کمرشل کلٹ کی مثالیں موجود ہیں،پرسینلیٹی کلٹ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
گیانا کے گائوں جونز ٹائون میں 918امریکی شہری ایک مذہبی کلٹ کے چنگل میں پھنس کر مارے گئے۔کیلی فورنیا کے شہر سان ڈیاگو کے مضافات میں ایک اور کلٹ ’’ہیونز گیٹ‘‘ کے 39افراد نے اجتماعی خودکشی کرلی۔سیاسی کلٹ کے حوالے سے ماضی قریب میں مسولینی اور ہٹلر کی مثالیں موجود ہیں میں نے گزشتہ کالم میں بتایا تھا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کرتے ہوئے کس طرح سیاسی کلٹ کی بنیاد رکھی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے تمام سیاسی مخالفین کو چاروں شانے چت کرڈالا۔ایک امریکی مصنف Steven Hassanنے اس حوالے سے بہت شاندار کتاب لکھی ہے’’The Cult of Trump‘‘۔اسٹیو حسن جب 19برس کے تھے تو Sun Myung Moon Unification Churchنامی ایک کلٹ کے جال میں پھنس گئے ان کے اہلخانہ طویل کوشش کے بعد بازیاب کروانے میں کامیاب ہوگئے تو اسٹیو حسن نے اپنی زندگی ان افراد کیلئے وقف کردی جو لاشعوری طور پر کسی بھی ’’کلٹ‘‘کا حصہ بن جاتے ہیں ۔کلٹ کیسے کام کرتا ہے ،کس طرح سوشل میڈیا نیٹ ورک نے یہ کام آسان کردیا ہے ،اس کتاب میں یہ سب تفصیل بیان کی گئی ہے۔اسٹیو حسن بتاتے ہیں کہ عقیدت مندوں کا جھرمٹ جمع کرکے بیانیہ کیسے بنایا جاتا ہے۔جملے ،اعداد وشمار اور باتیں مسلسل دہراتے چلے جائیں۔جیسا کہ اپنے بارے میں بتائیں کہ میں بہت اسمارٹ اور ہینڈ سم ہوں ۔کوئی میرا مقابلہ نہیں کرسکتا ۔
میں بہت ایماندار ہوں ،باقی سب چور اور ڈاکو ہیں۔تسلسل اور تواتر کے ساتھ یہ باتیں سنتے ہوئے نہ صرف لوگ ان پر یقین کرنے لگیں گے بلکہ انہیں محسوس ہوگا کہ یہ معلومات مختلف ذرائع سے ہم تک مسلسل پہنچ رہی ہیں تو ان میں ضرور صداقت ہوگی۔جو لوگ اس کلٹ کا شکار بن جاتے ہیں ،انہیں ہرگز محسوس نہیں ہوتا کہ کوئی ان کے دماغ کو ،ان کی حرکات و سکنات اور یہاں تک کہ سوچ کو کنٹرول کر رہا ہے۔وہ کلٹ لیڈر یعنی اپنے سیاسی پیشوا کی ذاتی لڑائی کو مقدس جنگ سمجھ کر لڑ رہے ہوتے ہیں ۔وہ اپنے مخالفین کو گمراہ خیال کرتے ہیں ۔کلٹ لیڈر خود کو عقل کل سمجھتا ہے ،مسیحا اور نجات دہندہ کے روپ میں پیش کرتا ہے۔خبط عظمت کے مرض لادوا میں مبتلا ہوتا ہے ،اسے مسلسل چاہے جانے کی احتیاج ہوتی ہے،وہ مرکز نگاہ بننا چاہتا ہے،خود کو ہر قسم کے ضابطوں ،اصولوں اور قوانین سے بالاتر سمجھتا ہے اور اپنے عقیدت مندوں میں یہی روح پھونک دیتا ہے ۔پرکشش مگر کھوکھلے اور غیر مبہم نعروں کے ذریعے سہانے مستقبل کے خواب دکھاتاہے ۔دھوکے اور فریب کی بنیاد پر جب اس کی شخصیت کا سحر پیروکاروں پر طاری ہوجاتا ہے تو پھر وہ جو چاہے کرتا پھرے۔جس طرح ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر میں نیو یارک کی معروف شاہراہ ففتھ ایونیو پر کسی کو دن کی روشنی میں قتل کردوں تو بھی میری مقبولیت کم نہیں ہوگی ،میرے ووٹر مجھ سے بدظن نہیں ہوں گے،اسی طرح ہر کلٹ لیڈر کو مکمل استثنیٰ حاصل ہوتا ہے ۔
کلٹ کا یہ جادوئی کھیل مائنڈ کنٹرول کے ذریعے کھیلا جاتا ہے اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بذات خود یہ دعویٰ کرچکے ہیں کہ ’’مائنڈ گیم کا تو میں ماہر ہوں ۔اس کھیل میں مجھے کوئی شکست نہیں دے سکتا ۔‘‘آپ ڈونلڈ ٹرمپ اور عمران خان کا موازنہ کرکے دیکھ لیں ،ان دونوں کی شخصیت ہی نہیں،مزاج، سیاسی حکمت عملی اور سسٹم کو چیلنج کرنے کی روش بھی یکساں محسوس ہوگی۔آپ کو یاد ہوگا ،تحریک انصاف کی اُٹھان سے پہلے پاکستان میں میوزیکل کنسرٹس کی طرح سیاسی جلسوں کو رنگ و نور کی محفل بنانے کا خیال کسی کو نہیں آیا۔ پہلی بار جناب عمران خان نے ڈی جے کو جلسوں کا ناگزیر حصہ بنایا ۔اسٹیج پر جھلملاتی کئی رنگوں کی روشنیاں جو اس سے پہلے کسینو ،بار اور کلب میں نظر آیا کرتی تھیں ،یہاں عمران خان اور وہاں ڈونلڈ ٹرمپ کے جلسوں میں نظر آنے لگیں۔نوجوانوں پر مبہوت کردینے والی موسیقی کی دھنیں ،قائد کے جلوہ افروز ہونے پر لہو گرمادینے والے نغمے اور پھر تقریر کے دوران ’’چور ‘‘ اور’’ڈاکو‘‘کی گردان ،یہ سب اس شاطرانہ کھیل کا حصہ ہے ۔جو آپ کے ساتھ ہیں ،وہ محب وطن جو آپ کے خلاف ہیں ،انہیں غداری سے لنک کردو۔جو پی ٹی آئی میں شامل ہوجائیں ،وہ باغی ،جو اس قافلہ انقلاب کو چھوڑ کر چلے جائیں وہ داغی جس طرح ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی میڈیا پر فیک نیوز کا لیبل چسپاں کرکےاسے ڈس کریڈٹ کرنے کی کوشش کی ،اسی طرح عمران خان نے اپنی راہ میں رکاوٹ بننے والے ہر ادارے کی ساکھ ختم کردی ۔امریکہ میں تو سیاسی و جمہوری نظام مضبوط اور توانا تھا ،لوگوں کا اجتماعی شعور نسبتاً پختہ تھا اس لئے ڈونلڈ ٹرمپ کے کلٹ کوآخر کار لپیٹ دیا گیا مگر ہمارے ہاں ریاست ’’فرقہ عمرانیہ ‘‘کے سامنے بے بس محسوس ہوتی ہے۔وجہ یہ ہے کہ اس’’ کلٹ ‘‘کو بے نقاب کرنے کے بجائے دبانے کی کوشش کی جارہی ہے۔’’کلٹ‘‘کی جان اس کے لیڈر میں ہوتی ہے۔آپ اس کا طلسم ختم کردیں ’’کلٹ‘‘خودبخود مٹ جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں