بابر اعظم ،تم جیتو یا ہارو ،ہم تمہارے ساتھ ہیں!

پاکستانی قوم کی نفسیات سمجھنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے کیونکہ اس کے ہر آن بدلتے رنگ کسی کو بھی اس قوم کے اجتماعی رویے یا طرز عمل کے بارے میںحتمی رائے قائم نہیں کرنے دیتے ۔ یہ قوم پاکستان کا مطلب کیا لا الٰہ الااللہ کا نعرہ بھی لگاتی ہے ،پاکستان کو اسلام کا قلعہ کہنے میں فخر محسوس کرتی ہے ،مذہبی تہوار ہمیشہ بڑے جوش و خروش سے مناتی ہے ۔مگر اس نے آج تک کبھی کسی مذہبی جماعت کو عام انتخابات میں اتنی اکثریت نہیں دی کہ وہ وفاق میں حکومت بنا سکے ۔ان کے لیڈر ہمیشہ ایسے سیاسی لوگ رہے جو انتخاب جیتنے کے لئے اپنی تقاریر میں اسلامی ٹچ تو ضرور دیتے تھے،ایک نے تو اس قوم کو پاکستان کو ریاستِ مدینہ بنانے کے دام فریب میں لے کر خوب الو بنایا اور ابھی تک اس کے چاہنے والے اسی غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ وہ ایسا کرسکتا ہے جبکہ یہ جناب وزارت عظمیٰ کا حلف لیتے ہوئے خاتم النبیین کالفظ مکمل صحت کے ساتھ ادا نہ کرسکے تھے یہ راز تو ان کے جیل جانے کے بعد کھلا ہے کہ اسلام کے قلعہ کو ریاست مدینہ بنانے کے دعویدار کو تو قرآن پاک کا عربی متن ہی پڑھنا نہیں آتا جبکہ اس کا سوشل میڈیا نیٹ ورک خبریں جاری کررہا ہے کہ ان کا ”عالم اسلام کا لیڈر” تو جیل میں نماز تہجد بھی پڑھتا ہے سبحان اللہ
خیال رہے کہ یہ صاحب جب وزیر اعظم تھے تو ان کے دور میں وزیر اعظم ہاؤس کی رنگین راتوں کے مبینہ قصے تو یحیٰ خان کی راتوں کی رنگین داستانوں کو مات کرنے میں بازی لے رہے تھے۔ایسا کیوں نہ ہوتا کہ اسٹیبلشمنٹ کی آنکھوں کے تارے یہ صاحب اپنے عالمِ شباب میں کرکٹ کے میدان کے ہیرو سے زیادہ شہرت ” پلے بوائے” کی رکھتے تھے اسی شہرت کی اسیر صنفِ نازک کی شخصیات آج تک اسی سحر میں مبتلا اپنے بیٹوں،بہوؤں،پوتے پوتیوں،بیٹیوں اور دامادوں کو اپنے مندر کے دیوتا کی پجاری بنانے میں بھی عار محسوس نہیں کرتیں ۔ابھی کل ہی ایک صاحب وطنِ عزیز کے ایک عالی شان منصب کی خلعتِ فاخرہ کو اس حال میں اتار کرگئے ہیں کہ اسے ان کے تعصب کی سڑاند سے پاک کرنے کے لئے دنیا بھر کے بہترین سے بہترین کیمیکلز یا خوشبوئیں بھی استعما ل کرلئے جائیں تو اس کا تعفن ختم نہیں کیا جاسکتا۔اور ان کی چھوڑی ہوئی نجاستیں مرہونِ منت ہیں اس قیدی نمبر 804 کی جو سبکدوش ہونے والے قاضی القضاة کی ساسو ماں کے خوابوں کے شہزادے ہیں ۔یہ شہزادہ صاحب جو وسیم اکرم اور جاوید میانداد کی محنت سے جیتے گئے 1992ء کے کرکٹ ورلڈ کپ کا سہرا ماتھے پر سجائے تین دہائیوں سے اس قوم سے خراج وصول کرتے ہوئے وزیر اعظم کا منصب بھی اسی خراج میں لے اڑے تھے آج جیل میں بیٹھے ہوئے بھی اسی خمار میں ہیں کہ نوجوان نسل ورلڈ کپ کے کل کے ہیرو کی آج بھی پرستش کرتی ہے یہ الگ بات کہ آج کے جواں سالہ ہیرو بابر اعظم کی ساری کامیابیوں کو حالیہ ایشیاء کپ کی ناکامیوں کے غبار میں دھندلانے کی سازشیں کرنے والوں کے بچھائے جال میں دھنستی جارہی ہے۔
اس حقیقت کو کون جھٹلا سکتا ہے کہ بابر اعظم پاکستان کی کرکٹ کی تاریخ کا ایسا عظیم کردار ہے ،پلے بوائے ٹائپ کے کھلاڑی تو کیا دنیا بھر کے عظیم کھلاڑیوں کے کھلاڑی بھی اس کی گرد کو نہیں پہنچ سکتے ۔اس کے کھیل کے معترف ماضی اور عصر حاضر کے عظیم ترین کرکٹر ز میں سبھی نام شامل ہیں ۔ پاک بھارت مقابلوں کی تاریخ میں ہمیشہ بھارت ہی پاکستان پر غالب آتا رہا ماضی کی ان سب تلخ شکستوں کا بدلہ بابر اعظم نے اپنی قیادت میں اپنے افتتاحی بلے باز ساتھی کے ساتھ مل کر ڈیڑھ سو رنز کی باری کھیل کر دس وکٹوں سے بھارت سے تاریخی میچ جیت کر لیا ۔دس وکٹوں سے بھارت کو شکست دینے والی دنیا کی واحد ٹیم کا اعزاز بابر اعظم کے علاوہ کوئی دوسرا کپتان حاصل کرسکا ہے تو بتائیں؟ ایک روزہ کرکٹ کی عالمی درجہ بندی میں پہلے نمبر پر فائز ہونے کا اعزاز پاکستان کو بابر اعظم کی کپتانی میں ہی ملا ہے ایسا کپتان جس نے اپنی بلے بازی سے پاکستان کو کئی اعزازات دلوائے تو خود بھی دنیا کے کئی آل ٹائم گریٹ کرکٹرز کے اعزا ز اپنے نام کیے ۔ حالیہ ایشیاء کپ میں افغانستان کے خلاف سیریز کے دوسرے ون ڈے میچ کے دوران، بابر اعظم نے اپنی پہلی 100 ون ڈے اننگز میںسب سے زیادہ رنز (5142) بنانے کا اعزاز حاصل کیا۔ یہ ایک قابل ذکر کارنامہ ہے کیونکہ یہ ریکارڈ رکھنے والے جنوبی افریقہ کے بیٹر ہاشم آملہ نے اپنی پہلی 100 ون ڈے اننگز میں 4946 رنز بنائے تھے جبکہ بابر اعظم اب 100 ون ڈے اننگز کے بعد سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے بازوں میں سرفہرست آگئے ہیں۔
بھارت کے ویرات کوہلی بلاشبہ عظیم کھلاڑی ہیں انہی ویرات کوہلی کی کپتانی میں بھارت نے بابر اعظم کی کپتانی میں دس وکٹوں سے شکست کھائی تھی وہ بابر اعظم کے کھیل کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے لیکن ایک ہمارے لوگ ہیں کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کو اول درجے کی ٹیم بنانے والے کپتان بابر اعظم کے خلاف محاذ آرائی پر تلے بیٹھے ہیں حالانکہ ہونا یہ چاہئے کہ پوری قوم آنے والے ورلڈ کپ کے تناظر میں اس عظیم کھلاڑی کی بیک زبان حوصلہ افزائی کرتے ہوئے نغمہ سرا ہو کہ تم ہارو یا جیتو ہم تمہارے ساتھ ہیں۔

6 تبصرے “بابر اعظم ،تم جیتو یا ہارو ،ہم تمہارے ساتھ ہیں!

  1. Wow, superb blog format! How long have you been running a blog for? you made blogging look easy. The whole glance of your site is magnificent, let alone the content! You can see similar: sklep and here e-commerce

  2. This is very interesting, You’re a very skilled blogger. I have joined your feed and look forward to seeking more of your fantastic post. Also, I’ve shared your web site in my social networks! I saw similar here: Sklep online

  3. An outstanding share! I’ve just forwarded this onto a co-worker who has been conducting a little homework on this. And he in fact bought me breakfast because I stumbled upon it for him… lol. So allow me to reword this…. Thank YOU for the meal!! But yeah, thanx for spending time to talk about this topic here on your internet site. I saw similar here: Najlepszy sklep

  4. Oh my goodness! Impressive article dude! Many thanks, However I am encountering problems with your RSS. I don’t know the reason why I am unable to join it. Is there anybody having identical RSS issues? Anyone who knows the answer can you kindly respond? Thanks!! I saw similar here: Dobry sklep

اپنا تبصرہ بھیجیں