مگر تم نہیں ہو۔ ۔ ۔ ۔

کتابوں کے صفحوں پہ بکھرا لہو اب بھی سوکھا نہیں ہے۔
کتابوں کے صفحوں پہ لکھے ہوئے لفظ
معصوم آنکھوں میں کروٹ بدلتے،
شرارت بھرے ہر تبسم کے سب راز دہرا رہےہیں۔
کتابوں کی جلدوں میں پھولوں سے ہاتھوں کا خوشبو سا لمس آج بھی جاگتا ہے۔ ۔ ۔ ۔
وہ دیوار و در جو تمہارے خد و خال کی روشنی سے سدا جگمگائے
انہوں نے تمہاری جدائی میں ہر شب
وہ نوحے سنائے
ستارے بھی سن سن کے روئے تمہیں ماتمی صف بنائے۔ ۔ ۔
فلک نے بھی سر پیٹ کر دی صدا۔۔۔۔۔ہائے ہائے
وہ میدان جن پہ کبھی دوڑتے بھاگتے
تم نے اپنا پسینہ گرایا۔ ۔
وہ اب بھی انہی شبنمی پانیوں کی مہک پر رکے ہیں
شجر جن کے سائے میں
تم نے کبھی ایک لمحہ بِتایا
وہ اب بھی تمہاری چمکتی دمکتی جبینوں کے بوسے کی خاطر جھکے ہیں۔ ۔ ۔
مگر تم نہیں ہو۔ ۔ ۔
وہ مائیں جو سردی کی یخ بستہ،خاموش راتوں میں اٹھ کر
کبھی
خالی کمروں کی ویرانیوں میں
تمہیں ڈھونڈتی ہیں۔ ۔ ۔
کبھی دل کے صندوقچے میں پڑے اک لہو رنگ ملبوس کو اپنے سینے لگا کر
تمہیں یاد کرتی ہیں
فریاد کرتی ہیں۔ ۔ ۔ ۔
یاد اور فریاد کا زرد موسم
ہمارے دلوں پر ہمیشہ رہے گا۔ ۔ ۔ ۔
کبھی پھول کھلنے کے موسم میں جب شاخچوں پر تمہارے لبوں کا کوئی رنگ نکھرے گا
ہم رو پڑیں گے۔
تمہارے یہ ہم عمر جس رُت جوانی کے زینے پہ پاؤں دھریں گے
تو پہلے سے پامال دل میں پھر اک بار
حسرت کے نیزے گڑیں گے۔ ۔ ۔
یہ بہنیں بھی قبروں کو ہر سال
دل سے لگا کر،
ارمان آنکھوں کے رستے بہا کر یونہی لوٹ جایا کریں گی۔ ۔ ۔
تمہیں ساتھ لینے کو آیا کریں گی
یہ ہر سال ناکام لوٹیں گی
چپ چاپ عیدیں منایا کریں گے۔ ۔
کتابوں کو، دیوار و در کو،
درختوں کو میدان کو
ماؤں بہنوں کوسب کچھ میسر ہے
پر تم نہیں ہو۔ ۔ ۔
مگر تم نہیں ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں