ایک معلم PM ، ویلکم کاکڑ ویلڈن کاکڑ

ملک کے غریب عوام فکرمند ہیں اور منتظر بھی کہ کب ہو گا ایک نئی سحر کا طلوع ، ہر سو ہریالی ہوگی ، خوشحالی ہوگی ، اخر کب ؟ کمر توڑ مہنگائی کے مارے مظلوم پاکستانی عوام موجودہ نگران حکومت اور بالخصوص وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کے لیے نیک خواہشات رکھتے ہیں ، ہر پاکستانی کی یہ دعائیں اور نیک تمنائیں ہیں کہ وزیراعظم اس ظالم سماج کے ستائے ہوئے محروم لوگوں ، مایوسی ، اداسی اور مفلسی کی چکی میں پسے ہوئے طبقات کو ان کے بنیادی انسانی حقوق دلائیں گے ، ایک عام انسان کی زندگی کو آسان بنائیں گے اور بروقت شفاف الیکشن کرائیں گے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ عام آدمی کو ریلیف دینے کے لیے وزیراعظم کیا کیا اقدامات کرتے ہیں کیونکہ موصوف ایک باصلاحیت ، باہمت و باوقار اور محب وطن پاکستانی ہیں ورنہ ایسے وزیراعظم بھی اس ملک پر مسلط رہے ہیں جن کو پاکستانی شناختی کارڈ ان کے ایئرپورٹ پر اترنے کے بعد تھمایا گیا ، وہ واقعی امپورٹڈ وزیراعظم تھے ۔ انوار الحق کاکڑ نے پاکستان کے آٹھویں نگران وزیراعظم کا منصب سنبھالا ہے ۔ مجھے اس بات کی خوشی ہے اور اس لیے بھی ان سے دلی ہمدردی ہے کہ وہ میرے پسماندہ بلوچستان سے ہیں بلکہ تین اہم عہدوں پر ہمارے بلوچی بھائی فائز ہو گئے ہیں ، چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی اور 16 ستمبر سے چیف جسٹس آف پاکستان بننے والے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا تعلق بھی پیارے بلوچستان سے ہے ۔ نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ ایک وطن دوست ، مثبت سوچ کے حامی اور درد دل رکھنے والے انسان ہیں ۔ ان کے بارے میں بتلایا جاتا ہے کہ مسلم باغ میں تعلیم کو فروغ دینے میں ان کی مثالی خدمات ہیں ، بلوچستان کو پسماندگی سے نجات دلانے اور فروغ تعلیم کے حوالے سے یہ زمانہ طالب علمی سے ہی بر سر پیکار ہے ، انہوں نے اپنے علاقے کے سکولز میں بحیثیت معلم بھی فرائض سر انجام دیے ہیں ۔ خبر چھپی ہے کہ نگران وزیراعظم نے میڈیکل کالجز میں داخلے کے خواہاں طلبہ و طالبات کے لیے یہ اہم اقدام اٹھایا ہے کہ ایم ڈی کیٹ کے امتحان کی تاریخ میں توسیع کر دی ہے ، ایم ڈی کیٹ امتحان اب 27 اگست کی بجائے 10 ستمبر کو ہوگا اور نصاب بھی گزشتہ سال جیسا ہی رہے گا ، وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے طلبہ کی گزارش پر اس توسیع کا فیصلہ کیا جس سے طلبہ کو امتحان کی تیاری کے لیے مزید وقت ملے گا ، وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے اپنے رفقا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”حکومت کا کام عوام کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرنا ہے ، میں نے اپنی کابینہ بھی بہت ہی مختصر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ، میں ملک پر مزید بوجھ نہیں ڈالنا چاہتا اس لیے میرا پروٹوکول بھی کم سے کم ہی رکھا جائے تاکہ زیادہ اخراجات سے بچا جا سکے اور دوسرا لوگوں کو تکلیف بھی نہ ہو “ ۔ میرے خیال میں نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی طرف سے یہ اپنے گھر سے ہی سادگی اپناؤ ملک بچاؤ مہم کا آغاز ہے جو انتہائی قابل تعریف بات ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ ”ہم معاشی پالیسیوں کا تسلسل قائم رکھیں گے ، اور اس میں مزید بہتری بھی لائیں گے ، تمام فلاحی منصوبے جاری رہیں گے ، حکومت اپنی توانائیاں معاشی اصلاحات پر صرف کرے گی ، بیرونی سرمایہ کاری کے لیے اقدامات ہماری ترجیحات میں شامل ہیں ، صحت و تعلیم کے شعبے میں بین الاقوامی معیار کی سہولیات یقینی بنائی جائیں گی “ ۔ اور اب ملاحظہ فرمائیے عہد موجود کا ”چٍٹا جھوٹ“ بلکہ جھوٹٍ اعظم کہ سابق ”شوباز“ وزیراعظم فرماتے ہیں کہ” اللہ کا شکر ہے جس نے بھاری ذمہ داری سے سرخرو فرمایا ، ہم نے پاکستان کی معاشی خود انحصاری کی مضبوط بنیاد رکھ دی ہے“ ۔ دلی دکھ ہوتا ہے جب یہ لوگ قوم کو بے وقوف سمجھ کر اس طرح کی بے بنیاد باتیں کرتے ہیں کہ جن کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں ہوتا ، میں یہ سوچتا ہوں کہ کس قدر ڈھٹائی اور بے حیائی سے چھوٹے میاں شہباز شریف اور اسحاق ڈالر کہتے ہیں کہ ہم ملک میں معاشی استحکام لائے ہیں ۔ یہ ہے عہد عمرانی یعنی اپریل 2022 کا نرخ نامہ : پٹرول 149 روپے لیٹر ، ڈیزل 146 روپے لیٹر ، امریکی ڈالر 181 روپے ، چینی 82 روپے کلو ، آٹا 62 روپے کلو ، چاول 200 روپے کلو ، گھی 400 روپے کلو ، بجلی 14 روپے یونٹ ، سلنڈر ایل پی جی 1850 روپے ، اور مہنگائی کی شرح تھی 16 فیصد جبکہ اج کا یعنی اگست 2023 کا ظلم نامہ کچھ اس طرح ہے کہ پیٹرول 294 روپے لیٹر ، ڈیزل 293 روپے لٹر ، امریکی ڈالر 289 روپے ، چینی 152 روپے کلو ، آٹا 155 روپے کلو ، چاول 370 روپے کلو ، گھی 620 روپے کلو ، بجلی 48 روپے یونٹ ، سلنڈر ایل پی جی 2890 روپے اور مہنگائی کی شرح 38 فیصد ہے۔ یہ ہے 14 جماعتی پی ڈی ایم کے ان تجربہ کاروں کا معاشی استحکام ۔ غریب عوام کی تو زندگی ہی اجیرن ہو گئی ہے اور یہ بےچارے غم کے مارے پریشاں ہیں اور اس بات پہ نالاں ہیں کہ 20 روپے فی لیٹر کا اضافہ کر کے نگران حکومت نے آتے ہی ہم پر پیٹرول بم گرا دیا ہے ۔ نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی خدمت میں بصد ادب عرض ہے کہ بین الاقوامی معیار تو دور کی بات ہے خدارا آپ اس مہنگائی کے بھوت کو تو بوتل میں بند کر کے دکھلا دیں ۔ میرا اپنا ہی ایک شعر ہے کہ :
بے کسوں کے سنگ ہو جا دو چند سے دور کنارہ کر
بن تُو آس بے آسروں کی بے چاروں کا چارہ کر

ایک معلم PM ، ویلکم کاکڑ ویلڈن کاکڑ” ایک تبصرہ

  1. You are truly a excellent webmaster. The website loading velocity is incredible. It seems that you’re doing any distinctive trick. Also, the contents are masterwork. you have performed a excellent task on this topic! Similar here: seraphina.top and also here: Bezpieczne zakupy

اپنا تبصرہ بھیجیں