انجیل صحیفہ

مجھ سے خوش سخن کچھ لوگ
اپنی پہلی چاہت کو جانے کیاسمجھتے ہیں
روز اپنے خوابوں کی
رنگ ، رنگ جذبوں کی
خوشبوؤں سی باتوں کی، طشتری سجاتے ہیں
اپنے زرد چہرے سے
درد اور تھکن کے سب واہمے مٹاتے ہیں
جتنا کچھ بھی جھیلا ہو اُس کو بھول جاتے ہیں
پھر سے مسکراتے ہیں!
چُن کے صاف کرتے ہیں خواہشوں کا اِک اِک پل
خود ہی سوچ لیتے ہیں اپنا آنے والا کل
خود کو اس کی مرضی کا ذائقہ بناتے ہیں
ایک پل جو مل جائے خواب میں حقیقت کا
وہ وہیں اُسی پل سے واقعہ بناتے ہیں
اوراپنے جذبوں سے خود ہی حظ اٹھاتے ہیں
یہ بھی بھول جاتے ہیں

جن کو دو جہانوں میں صرف اپنا درشن ہو
صرف خود کو تکتے ہوں اپنا آپ درپن ہو
جن کے آگے سب باتیں عارضی، اِضافی ہوں
وہ جو ہر تعلق میں خود کو خود ہی کافی ہوں
وہ کسی کےخوابوں کا، رنگ رنگ جذبوں کا
نت نئے ارادوں کا کتنا سوچ پائیں گے؟
ساتھ لے چلیں گے اور
دو قدم کی دوری پر پھر سے بھول جائیں گے

مَیں کو ماننے والے اپنی بے نیازی کے
جس بھی آسماں پر ہیں
ان کو یہ بتانا ہے
جس نے اپنی آنکھوں سے سارے خواب نوچے ہوں
اور اپنے زخموں کے خود علاج سوچے ہوں
وہ اگر سنبھل جائے؟؟
دل اگر بدل جائے؟؟
جو بھی ہے وہ ٹل جائے؟؟

اپنی پہلی چاہت کےحادثے کو دھونے میں
درد بھول کر سارے چند اشک رونے میں
کتنا وقت لگتا ہے
بے نیاز ہونے میں۔۔۔۔۔!

اپنا تبصرہ بھیجیں