بھٹو کے 3 جیالے

پاکستان پیپلز پارٹی میں چند چہرے ایسے ہیں جو دنیا بھر میں پیپلز پارٹی کی پہچان بن چکے ہیں۔ یہ بے باک لوگ ہیں جو ہر دور میں اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بات کرتے نظر آئے ہیں،
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہمیشہ قانون اور آئین کی حکمرانی کا پرچار کیا اور ایسے میں ان پی پی پی کے رہنماؤں کے خلاف زمین تنگ کر دی گئی، مگر اسٹیبلشمنٹ کے بھرپور دباؤ کے باوجود پی پی پی قیادت نے ان پر ہمیشہ بھرپور اعتماد کیا،
ایسے ہی تین نام فرحت اللہ بابر، قمر زمان قائرہ اور راجہ پرویز اشرف ہیں جن کا پنجاب اور خیبر پختونخوا میں اپنی جماعت اور جمہوریت کے لیے قربانیاں ہیں جہاں پر لوگ اقتدار کے پیچھے بھاگے اور کئی کے نہیں رہے لیکن یہ لوگ اپنی جگہ پر پارٹی سے وفادار پائے گئے۔
شاہد قمر زمان قائرہ کے خلاف اسٹیبلشمنٹ نے کچھ زیادہ نہ کیا ہو لیکن انھیں حلقے کی سیاست سے باہر کرنے کےلیے بھرپور مہم چلائی گئی اور دوسری طرف ایسے حالات بنانے کی کوشش کی گئی تاکہ وہ پی پی پی کا ساتھ چھوڑ دیں اور پی ٹی آئی یا کسی دیگر جماعت کا حصہ بن جائیں۔ لیکن قمر زمان قائرہ کو اندازہ تھا کہ ملک کی اصل جمہوری جماعت صرف اور صرف پاکستان پیپلز پارٹی ہے،
جب قمر زمان قائرہ سے لوگ پوچھتے تھے کہ ان تنگ حالات کا مقابلہ کرلو گے تو وہ کہتا تھا کہ حالات ہمیشہ ایک سے نہیں رہتے، مارشل لاء دیکھ چکے ہیں اور عمرانی آمریت بھی ختم ہوجائے گا، قمر زمان قائرہ کے لیے بھرپور کوشش کی جاتی رہی کہ کسی طرح انھیں پی ٹی آئی تک پہنچا دیا جائے، وہ اپنی جماعت کے ساتھ چٹان بن کر کھڑے رہے، وہ اپنے خاندان سمیت آج بھی پیپلز پارٹی کا حصہ ہیں اور آج وفاقی وزیر کے برابر کا عہدہ رکھتے ہیں،
پیپلز پارٹی قیادت کی فہم و فراست سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے اپنے وفاداروں کو ہمیشہ عزت اور احترام کے ساتھ رکھا اور ان پر بھرپور اعتماد بھی کیا جس پر یہ لوگ پورے اترے۔
پھر آتا ہوں فرحت اللہ بابر کی طرف، ویسے تو سیاستدانوں فرشتے نہیں ہوتے اور نہ کوئی عام انسان فرشتہ ہوتا ہے لیکن فرحت اللہ بابر اور چند سیاستدانوں کی دل سے عزت کرتا ہوں، یاد رہے کہ 2021 میں سینٹ الیکشن کے کاغذات کے دوران یہ خبر شائع ہوئی کہ سینیٹ کاغذات جمع کروانے کی فیس 40 ہزار تھی لیکن انکے پاس صرف 32 ہزار تھے تو کسی دوست نے رقم نکال کر پوری کی، میں نے انھیں ہمیشہ پی پی پی کے عام کارکنان کی طرح گھومتے پھرتے پایا، شائستہ مزاج فرحت اللہ بابر کا ایک قصور یہ ہے کہ وہ انسانی حقوق، آئین پاکستان اور جمہوریت کی بات کرتے ہیں،
لہذا انھیں اس کی قیمت بھی چکانی پڑی، کچھ غیر سیاسی دوست فرحت اللہ بابر پر یہ الزام بھی لگاتے ہی کہ وہ پشتونوں کے رہنما ہیں اور پشتونوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں تو اس میں کیا برائی ہے ؟
میں سندھی ہوں اور سندھیوں کے حقوق کی اگر حق تلفی دیکھوں گا تو لازم ہے کہ میں سراپا احتجاج بن کر ان کے لیے آواز اٹھاؤں گا ، مگر فرحت اللہ بابر صرف پشتونوں کی حق تلفی پر بات کرتے نظر نہیں آتے بلکہ پنجابی سندھی اور بلوچوں سمیت اقلیتوں کے خلاف ہونے والے ہر ظلم پر فرحت اللہ بابر سیخ پا نظر آتے ہیں،
یہ ہی وجہ ہے کہ اکثر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ان کے خلاف غلاظت بھری زبان استعمال ہوتی نظر آتی ہے۔
فرحت اللہ بابر کا ایک قصور یہ بھی ہے کہ انھوں نے پشتونوں کو افغانستان میں نام نہاد جہاد کی آگ میں جھونک دینے کی ہمیشہ مخالفت کی، وہ ہر اس پشتون کی پشت پناہی کرتے نظر آئے جو طالبان کے خلاف بات کرتا ہے،
قصہ مختصر یہ ہے کہ فرحت اللہ بابر اور اسٹیبلشمنٹ کبھی ایک پیج پر نظر نہیں آئے لہذا فرحت اللہ بابر ہمیشہ تنقید اور پروپیگنڈے کا شکار رہے ہیں،
ان کے خلاف اکثر بات کرنے والے سیاسی کارکن اور سیاستدان وہ ہیں جو ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ایک پیج پر رہے ہیں اور یہاں پی پی پی قیادت بھرپور تحسین کی مستحق ہے جس نے بھرپور دباؤ کے باوجود ہمیشہ فرحت اللہ بابر پر اعتماد کیا، ماضی میں پی پی پی قیادت کو فرحت اللہ بابر سے دوری اختیار کرنے کے لیے بھرپور دباؤ ڈالا جاتا رہا ہے لیکن پی پی پی قیادت جانتی ہے کہ فرحت اللہ بابر جیسے وفادار ورکر ملنا آسان نہیں لہذا تمام تر دباؤ کے باوجود پی پی پی قیادت نے فرحت اللہ بابر کو ہمیشہ صف اول میں رکھا۔
پی پی پی کے بے باک رہنماؤں کی بات ہو اور راجہ پرویز اشرف شامل نہ ہو یہ ممکن نہیں، گذشتہ انتخابات میں راجہ پرویز اشرف کو کھیل سے باہر رکھنے کے لیے عمران خان اور اس کے غیر سیاسی آقاؤں نے پوری کوشش کی، راجہ پرویز اشرف پر بھی کیس بنا کر ان کی کردار کشی کرنے کی بھرپور کوشش ہوتی رہی ہیں اور جب کیس عدالتوں میں آئے تو الزام لگانے والے بھی اور الزام لگانے والوں کی پشت پناہی کرنے والے دونوں فرار ہوتے دکھائی دیے۔
پوٹھوہار کے اس سپوت نے سندھیوں اور پیپلز پارٹی کے ساتھ جو وفا نبھائی ہے اس پر میرے الفاظ کے محدود و مجبور پیمانے لکھنے سے قاصر ہیں، راجہ پرویز اشرف کو علم تھا کہ پنجاب میں الیکٹیبل ہوتے ہوئے بھی پیپلز پارٹی کے ساتھ تعلق رکھنا سیاسی موت سے کم نہیں لیکن وہ اور ان کا پورا خاندان پیپلز پارٹی کے ساتھ کھڑے نظر آئے
یہاں یہ بات بھی بتاتا چلوں کہ بحیثیت وفاقی وزیر پانی و بجلی وہ سیون تشریف لائے تو میں نے ان سے درخواست کی کہ لعل شہباز قلندر کے احاطے اور ارد گرد کے علاقے کو لوڈشیڈنگ سے مستشنی قرار دیا جائے اور انھوں نے موقعے پر ہی حکم دیا اور اس کے بعد یہ علاقہ لوڈشیڈنگ سے مستشنی ہوگیا۔ راجہ پرویز اشرف پر بھی پیپلز پارٹی سے کنارہ کشی کے لیے دباؤ رہا لیکن انھوں نے ہر موڑ پر ثابت کیا کہ وہ شاہ محمود قریشی جیسے بے وفا نہیں ہیں،
جس پیپلز پارٹی نے انھیں عزت دی اس جماعت کے ساتھ فخر کے ساتھ کھڑے رہے، 2018 کے انتخابات میں آخری دم تک کوشش کی جاتی رہے کہ انھیں اور ان کے خاندان کو ان نشستوں سے محروم کردیا جائے مگر پوٹھوہار کا راجہ ہو، یا لالہ موسی کا قائرہ ہو وہ پیپلز پارٹی کے ساتھ وابستگی رکھنے کی ہر قیمت چکانے کے لیے تیار رہے، پیپلز پارٹی پنجاب کا ہر کارکن اور رہنما داد کا مستحق ہے
کیوں کہ 40 سال سے پنجاب میں اس جماعت کی حکومت قائم نہ ہو سکی ہے لیکن راجہ پرویز اشرف جیسے رہنماوں اور کارکنان نے ثابت کیا کہ پی پی پی کو پنجاب میں زندہ رہنے کے لیے کسی اقتدار کی ضرورت نہیں، اگر پنجاب میں اقتدار ملے بغیر یہ لوگ نشستیں نکال سکتے ہیں تو کوئی شک نہیں کہ اگر پیپلز پارٹی پنجاب میں ایک بار حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی تو یقینی طور پر پی پی پی پنجاب کے راستے میں دیگر رکاوٹیں ختم ہو جائیں گی
اس کے لیے بہت ضروری ہے کہ پی پی پی پنجاب کی سیاست میں اپنے پرانے خاندانوں اور سیاسی کارکنان سے رابطے استوار رکھے، میری بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی ذرداری سے گذارش ہے کہ بلاول ہاوس کراچی میں پنجاب کے جیالوں اور کارکنان کے لیے اسپیشل ڈیسک قائم کی جائے تاکہ پرانے جیالے اپنے سیاسی قبلے کے ساتھ تعلقات بحال کرسکھیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں