18 مارچ یوم شہادت استاد سبطـ جعفر زیدی شہید

ویسے تو اس ملک میں 80،000 سے ذائد لوگ دھشتگردی کا نشانہ بن چکے، ایک سے بڑھ کر ایک قیمتی اور پیارے لوگ، قابل لوگ، ہیرے لوگ….
لیکن میرے لئے استاد سبط جعفر شہید ان چند شہیدوں میں سے ایک ہیں کہ اب بھی اکثر ان میں سے کسی کا ذکر کیا جائے تو دل بھر آتا ہے، نجانے کیوں اشک انکی یاد سے بہت مانوس ہیں،
ڈاکٹر علی حیدر، خرم زکی، اور ناصر عباس ملتانی بھی اس فہرست کا حصہ ہیں.
میرا استاد سے پہلا تعارف تب ہوا جب میرا بھائی اپنے ایک دوست سے انکے سوزو سلام کی سی ڈیز لایا، میرے بھائی نے بتایا کہ یہ اسکے اس دوست کے رشتے دار ہیں جس نے یہ سی ڈیَز سننے کو دی ہیں، بولا کہ یہ بہت قابل انسان ہیں اور بہت خوب پڑھتے ہیں، وہ پہلا موقع تھا کہ میں نے استاد کو کمپیوٹر کی سکرین پر دیکھا اور سنا،
یورپ میں گزارے بہت سے سال، جب کبھی ماہ محرم کا چاند نکلتا تو میری عادت تھی کہ یونیورسٹی سے گھر آتے ہی اپنے لیپ ٹاپ سے سپیکر اٹیچ کر کہ اونچی آواز میں ھادی ٹی وی کی لائیو سٹریمنگ لگا لیتا جو کہ سارا دن چلتی رہتی اور میں اپنے کاموں میں مشغول رہتا ساتھ ساتھ ھادی ٹی وی دیکھتا سنتا رہتا، وہاں میرے پاس ایام عزا میں عزاداری کا یہی ایک ذریعہ تھا، جس شہر میں رہتا تھا وہاں نہ کوئی مسجد و بارگاہ تھی نہ کوئی سلسلہ عزاداری،
ان دنوں استاد اکثر ھادی ٹی وی پر آیا کرتے تھے، انکے انٹرویوز انکے کلام اکثر سننے کو ملتے، ان سے ایک انسیت سی بن گئی تھی،
پاکستان آیا تو شدید خواہش تھی کہ کبھی ان سے ملاقات کا موقع مل سکے، لیکن ایسا ممکن نہ ہو سکا، اور خواہش حسرت میں بدل گئی،
انکے قتل کی خبر سوشل میڈیا سے ملی،ہر کسی نے اپنے اپنے انداز میں انکی شخصیت پر روشنی ڈالی، اور مجھ جیسے بے شمار لوگوں کو معلوم ہو پایا کہ وہ کتنی بڑی علمی و ادبی شخصیت تھے، مرثیہ کے عنوان سے اس وقت ملک کا سب سے بڑا اثاثہ، شوق شہادت سے موجزن، کربلا تو جیسے انکے اندر رچ بس گئی ہو، اور انتہائی سادہ شخصیت کے مالک تھے،
مجھے تب جا کر اس بات کا اندازہ ہوا کہ انکا جانا قوم کا کتنا بڑا نقصان ہے،
اسکے بعد سے کئی دن تک یہ عالم رہا کہ چلتے پھرتے کوئی کام کرتے اچانک سے انکی یاد آتی اور اشک رواں…..
میرے موبائل کی پلے لسٹ میں انکے کلام چلتے رہتے، رہ رہ کر یہ خیال آتا کہ کاش استاد ھم سے بچھڑے نہ ہوتے،
خدا کی قسم یہ ‘ کاش ‘ ھماری زندگیوں کا سب سے اھم لفظ بنا دیا گیا ہے، کیا بتائیں کہ سبط جعفر جیسے کتنے کاش ھمارے سینوں میں دفن ہیں…..

میں اس وقت یہ تحریر لکھ رہا ہوں….
میں جانتا ہوں یہ تحریر بے ربط سی ہے…..
سمجھ نہیں آ رہی ختم کہاں کروں…
اشکوں کا تسلسل برقرار ہے…..
مجھ پر گریہ یا کوئی بھی انتہائی جذباتی رویہ کبھی طاری ہو تو نہ جانے کیوں اکثر کپکپی شروع ہو جاتی ہے….
عجیب ہے….
استاد کا پڑھا ایک کے بعد ایک کلام استاد کی آواز میں میرے ذیہن کے دریچوں میں گونج رہا ہے….

” حالِ غم سنائیں گے……. میں چلا ہوں علی سے ملاقات کو….. حسین جب کہ چلے….. ایہہ چاند کربلا کے…… وہ آ گئے حسین….. روشنی آ گئی…… علی آ گئے….. حال غم سنائیں گے…… جب امام آئیں گے….. آ گئے تو کیا ہو گا……. ”

آج 18 مارچ استاد کا یومِ شہادت ہے، استاد کے یومِ شہادت پر انکے لئے سورہ فاتحہ ھدیہ کیجیے.

اپنا تبصرہ بھیجیں